اقوام متحدہ، 30 ستمبر (اے پی پی): پاکستان نے صدر ٹرمپ کے امن اقدام کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کو آگے بڑھانے کے لیے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) اور عرب ممالک کے اشتراک سے کیے گئے یہ عملی اقدامات قابلِ تحسین ہیں۔
پاکستان نے مزید اعادہ کیا کہ وہ اس مشاورتی عمل میں بھرپور طور پر شریک رہے گا اور اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی آئندہ راستہ مکمل طور پر فلسطینی عوام کی ملکیت اور اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قانونی حیثیت کے مطابق ہونا چاہیے۔
سلامتی کونسل میں مشرقِ وسطیٰ اور قرارداد 2334 کے نفاذ پر بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ اگرچہ غزہ میں امن کے امکانات معدوم ہوتے جا رہے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی نئے سفارتی امکانات بھی جنم لے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب مغربی کنارے پر ای-1 آبادکاری کا منصوبہ منڈلا رہا ہے اور انسانی بحران بے قابو ہے تو اس موقع پر تاریخ سلامتی کونسل کے ردِعمل کو یاد رکھے گی، آیا یہ منصوبہ دو ریاستی حل کو ختم کرنے دے گی یا امن کے نئے مواقع سے فائدہ اٹھائے گی۔
اسی وقت پاکستان کے سفیر نے خبردار کیا کہ اسرائیل کا ای-1 آبادکاری منصوبہ براہِ راست دو ریاستی حل پر حملہ ہے۔ اس منصوبے کے تحت مشرقی یروشلم کو فلسطین سے کاٹنے اور مغربی کنارے کی جغرافیائی وحدت کو ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو نہ صرف بین الاقوامی قانون بلکہ قرارداد 2334 کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سلامتی کونسل اپنی قراردادوں پر عملدرآمد نہ کرا سکی تو اس کی ساکھ شدید خطرے میں پڑ جائے گی۔











