اقوامِ متحدہ، 16 اکتوبر ( اے پی ہی):اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نگران مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے کہا ہے کہ بھارت کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر جوابدہ نہ ٹھہرانا اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے نظام کی ساکھ کو مجروح کر رہا ہے۔
اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تیسری کمیٹی میں انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کے ساتھ ہونے والے انٹرایکٹو ڈائیلاگ میں شرکت کرتے ہوئے، اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نگران مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے کہا کہ سات دہائیوں سے زائد عرصے سے بھارتی غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے عوام کو ان کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے محروم رکھا جا رہا ہے، جو کہ سلامتی کونسل کی متعدد قراردادوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت نے اپنے غیر قانونی قبضے کو برقرار رکھنے کے لیے انسانی حقوق کی سنگین اور منظم پامالیوں اور ظلم و ستم پر مبنی جرائم کی مہم شروع کر رکھی ہے۔
سفیر جدون نے نشاندہی کی کہ 5 اگست 2019 کے بعد سے بھارت نے کشمیری سیاسی قیادت کو قید میں ڈال رکھا ہے، تشدد، ماورائے عدالت قتل اور عصمت دری کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، پُرامن احتجاج کو بزورِ طاقت دبایا جا رہا ہے اور حتیٰ کہ کم عمر بچوں کو بھی پیلٹ گنز سے اندھا کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت نے کشمیری عوام پر اجتماعی سزا مسلط کر رکھی ہے، جس کی مثال پوری بستیوں اور دیہاتوں کو مسمار اور نذرِ آتش کرنے، اور مذہب و اظہارِ رائے کی آزادی پر پابندی لگانے کی صورت میں سامنے آتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ سب کچھ 2018 اور2019 میں انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کی رپورٹوں، انسانی حقوق کونسل کی مشترکہ کمیونی کیشنز، خصوصی نمائندوں کی رپورٹس، اور او آئی سی کے مشترکہ اعلامیوں اور قراردادوں میں واضح طور پر دستاویزی شکل میں موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو جموں و کشمیر پر انسانی حقوق کے دفتر کی تیسری رپورٹ کا انتظار ہے۔مزید برآں، انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر انسانی حقوق کی صورتحال کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، قانون کی بالادستی دباؤ میں ہے، شہری آزادیوں کی گنجائش سکڑ رہی ہے، اور نفرت انگیز و تفرقہ انگیز بیانیہ بڑھتا جا رہا ہے۔











