ملائیشیا کو گوشت کی برآمد میں درپیش رکاوٹوں کے حوالے سے کمیٹی کا  اعلیٰ سطحی اجلاس

89

اسلام آباد، 16 اکتوبر (اے پی پی ): وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و تجارت ہارون اختر خان کی زیرِ صدارت  ملائیشیا  کو گوشت کی برآمد میں درپیش رکاوٹوں کے حوالے سے کمیٹی کا ایک اعلیٰ سطحی اجلاس جمعرات کو یہاں  منعقد ہوا۔

اجلاس میں سیکریٹری صنعت و پیداوار سیف انجم، وزارتِ تجارت کے نمائندے، گرین کارپوریٹ لائیو اسٹاک انیشیٹو کے عہدیداران، اور نجی و سرکاری شعبوں کے نمائندگان نے شرکت کی۔

اجلاس میں پاکستان سے     ملائیشیا  کو گوشت کی برآمدات میں حائل رکاوٹوں، بالخصوص کاسٹ آف پروڈکشن میں اضافے، یوٹیلیٹی اخراجات، سمگلنگ اور بونلیس گوشت کی عدم دستیابی جیسے مسائل پر تفصیلی غور کیا گیا۔

ہارون اختر خان نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کا وژن ہے کہ پاکستان گوشت کی برآمدات میں نمایاں مقام حاصل کرے اور ملائیشیا     سمیت دیگر ممالک کو حلال گوشت ایکسپورٹ کرے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے حلال گوشت کی عالمی سطح پر بڑی مانگ موجود ہے، تاہم اس شعبے کے کچھ حصے غیر دستاویزی ہیں جنہیں ڈاکیومنٹڈ بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

معاونِ خصوصی نے کہا کہ حکومت علاقائی سطح پر مسابقت کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی، تاکہ گوشت کی صنعت کو ترقی دی جا سکے اور ایکسپورٹ میں اضافہ ہو۔

ہارون اختر خان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان سے ایکسپورٹ کیا جانے والا گوشت بین الاقوامی معیار کے مطابق، بیماریوں سے پاک اور مکمل طور پر حلال ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت سرمایہ کاروں کو سہولیات فراہم کرنے اور نجی و سرکاری شعبوں کے باہمی تعاون سے گوشت کی برآمدات بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔

معاونِ خصوصی نے بتایا کہ بھینس اور گائے کے گوشت کی برآمدات کو عالمی معیار سے ہم آہنگ بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ پاکستان حلال گوشت کی عالمی مارکیٹ میں اپنی موجودگی مزید مستحکم کر سکے۔