واشنگٹن ڈی سی، 16 اکتوبر(اے پی پی): وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے آج واشنگٹن ڈی سی میں اٹلانٹک کونسل میں منعقدہ ایک اہم نشست میں “پاکستان کی اصلاحاتی کوششیں اور آئندہ چیلنجز” کے موضوع پر بحث سے خطاب کیا۔
نشست کا آغاز اٹلانٹک کونسل کے صدر و سی ای او فریڈ کیمپے نے کیا، جبکہ ماڈریشن سابق ڈپٹی ڈائریکٹر آئی ایم ایف ڈاکٹر عاصم حسین نے کی۔ ڈاکٹر حسین، جو حال ہی میں کونسل کی رپورٹ “ریسکیوئنگ پاکستانز اکانومی” کے مصنف ہیں، نے وزیرِ خزانہ اور ان کی ٹیم کو آئی ایم ایف کے پروگرام کے پہلے سال کی کامیاب تکمیل اور رواں ہفتے نئے اسٹاف لیول معاہدے کے اعلان پر مبارکباد دی۔
ابتدائی گفتگو میں سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ گزشتہ ایک سال میں پاکستان نے میکرو اکنامک استحکام حاصل کیا ہے جس کی تصدیق آئی ایم ایف اور عالمی ریٹنگ ایجنسیوں نے بھی کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کی منضبط مالی حکمتِ عملی نے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیا، بانڈ اسپریڈز بہتر ہوئے، اور 14 سال بعد کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ریکارڈ ہوا ہے۔
وزیرِ خزانہ نے کہا کہ پاکستان دو بڑے چیلنجز درپیش ہیں جن میں ایک آبادی میں تیز اضافہ اور دوسرا ماحولیاتی تبدیلی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حالیہ سیلاب کے بعد حکومت نے امدادی و بحالی سرگرمیوں کے لیے بیرونی امداد کے بجائے اپنے وسائل استعمال کیے ہیں جو مالی خودمختاری کی علامت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے 300 روزہ قومی منصوبہ شروع کیا ہے جس کا مقصد متاثرہ علاقوں کی بحالی اور موسمیاتی لچک میں اضافہ ہے، جبکہ مالی سال 2025 کے لیے شرحِ نمو کا ہدف تین فیصد سے کچھ زیادہ رکھا گیا ہے۔
مالی اصلاحات پر بات کرتے ہوئے وزیرِ خزانہ نے بتایا کہ حکومت ٹیکس نظام میں بنیادی تبدیلیاں لا رہی ہے تاکہ ٹیکسوں کا دائرہ وسیع کیا جا سکے۔ انہوں نے زرعی، ریٹیل اور رئیل اسٹیٹ سیکٹرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے، ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے ٹیکس نادہندگان کی نشاندہی، اور سیلز ٹیکس لیکیجز روکنے کے اقدامات کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے رواں سال ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح کو 10.2 فیصد سے بڑھا کر 11 فیصد تک لے جانے اور آئندہ چند سالوں میں 13 فیصد تک پہنچانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
سینیٹر اورنگزیب نے بتایا کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان نیا نیشنل فسکل پیکٹ طے پا گیا ہے جو نئے این ایف سی ایوارڈ پر مشاورت کی راہ ہموار کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ این ایف سی کی پہلی میٹنگ نومبر کے اوائل میں متوقع ہے جو سیلاب کی وجہ سے مؤخر ہوئی تھی۔
درمیانی مدت کی ترقیاتی حکمتِ عملی پر بات کرتے ہوئے وزیرِ خزانہ نے کہا کہ پاکستان نجی شعبے کی قیادت میں ایک برآمدی معیشت کے ماڈل پر گامزن ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نئی نیشنل ٹیرف پالیسی کے تحت خام مال اور انٹرمیڈیٹ گُڈز پر کسٹم اور ریگولیٹری ڈیوٹیز میں بتدریج کمی کی جا رہی ہے تاکہ برآمدات میں مسابقت بڑھے۔ انہوں نے آئی ٹی، معدنیات اور ریکو ڈیک جیسے منصوبوں کو مستقبل کے اہم ترقیاتی مواقع قرار دیا۔
زرِمبادلہ اور مالیاتی پالیسی کے حوالے سے سینیٹر اورنگزیب نے کہا کہ حکومت ایک منڈی پر مبنی، مسابقتی ایکسچینج ریٹ برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے، جس کی نگرانی اسٹیٹ بینک کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برآمدات میں پائیدار بہتری کے لیے پیداواری صلاحیت میں اضافہ اور ساختی اصلاحات اتنے ہی ضروری ہیں جتنے بیرونی مسابقتی عوامل۔
نشست کے اختتام پر ڈاکٹر عاصم حسین نے وزیرِ خزانہ کے اصلاحاتی ایجنڈے کو سراہا اور پاکستان کی معیشت کی بحالی و استحکام کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔











