وفاقی وزیر رانا تنویر حسین سے کینیڈا کے ہائی کمشنر طارق علی خان کی ملاقات، زرعی تعاون کو مزید وسعت دینے کا عزم

8

اسلام آباد،28اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین سے کینیڈا کے ہائی کمشنر طارق علی خان نے ملاقات کی جس میں پاکستان اور کینیڈا کے مابین زرعی تعاون کے فروغ اور زرعی مصنوعات کی تجارت میں آسانی سے متعلق امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے زراعت، غذائی تحفظ اور تکنیکی تعاون کے شعبوں میں تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین نے کہا کہ پاکستان اور کینیڈا کے تعلقات باہمی احترام اور دیرینہ تعاون پر مبنی ہیں اور زراعت کا شعبہ دونوں ممالک کے لیے ایک قدرتی اشتراک کا میدان فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی اور غذائی ضروریات کے باعث کینیڈا کے لیے یہاں وسیع تجارتی امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان زرعی مصنوعات میں جدت، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور ویلیو ایڈیشن کے شعبوں میں کینیڈا کے تجربے سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ حکومت پاکستان کھانے کے تیل کی درآمد میں تنوع پیدا کرنے کے لیے پام آئل پر انحصار کم کر رہی ہے جس کی سالانہ درآمد چار ارب امریکی ڈالر سے زائد ہے اور اس کے بجائے کینولا اور سویا بین کے تیل کی درآمد میں اضافہ کیا جا رہا ہے جو انسانی صحت اور ماحول دونوں کے لیے بہتر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کینولا کی کاشت تیزی سے منافع بخش بن رہی ہے اور کسان اس کی جانب راغب ہو رہے ہیں جبکہ مقامی سطح پر پراسیسنگ کی صلاحیت بھی بڑھ رہی ہے۔رانا تنویر حسین نے بتایا کہ وزارت ماحولیاتی تبدیلی نے 43 جی ایم او ایونٹس کی منظوری دے دی ہے اور حتمی نوٹیفکیشن کا عمل جاری ہے جس کے بعد کینیڈین جی ایم او کینولا کی درآمد مزید آسان ہو جائے گی۔

انہوں نے یقین دلایا کہ پاکستان خوراک اور حیاتیاتی تحفظ کے تمام بین الاقوامی معیارات پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنائے گا تاکہ تجارتی عمل محفوظ اور شفاف ہو۔وفاقی وزیر نے کینیڈا کی جانب سے پاکستان کے ڈیپارٹمنٹ آف پلانٹ پروٹیکشن کے وفد کو کینیڈا مدعو کرنے کے اقدام کو سراہا جو وہاں بائیو سیفٹی، فوڈ سیفٹی اور انسپکشن سسٹمز کا مشاہدہ کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے تبادلے باہمی اعتماد کو مضبوط اور تجارتی تعاون کو مستحکم بنائیں گے۔

رانا تنویر حسین نے مزید کہا کہ پاکستان اور کینیڈا کے درمیان ہائبرڈ بیجوں کی تیاری، مویشیوں کی افزائش، ایمبریو ٹرانسفر ٹیکنالوجی اور فیڈ فارمولیشن جیسے شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ دونوں ممالک زرعی مشینری کی تیاری میں مشترکہ منصوبے قائم کریں تاکہ پاکستان کی زراعت کو جدید خطوط پر استوار کیا جا سکے۔

وفاقی وزیر نے کینیڈا سے بی ایس ای نیگیلیجیبل رسک ڈوزیئر اور ایف ایم ڈی کنٹرول پروگرام کو مکمل کرنے میں تکنیکی معاونت فراہم کرنے کی بھی درخواست کی تاکہ پاکستان عالمی سطح پر اعلیٰ ویلیو مارکیٹس تک رسائی حاصل کر سکے۔انہوں نے کینیڈین فوڈ انسپیکشن ایجنسی (سی ایف آئی اے) کے ساتھ جاری مثبت رابطوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ زندہ جانوروں کی درآمد کے لیے ویٹرنری ہیلتھ سرٹیفکیٹ کو حتمی شکل دے دی گئی ہے اور اب ڈے اولڈ چکس اور ہیچنگ انڈوں کی درآمد سے متعلق امور پر پیش رفت جاری ہے۔

وفاقی وزیر نے پاکستان کی حلال مصنوعات جن میں جیلاٹن، بھیڑ کی آنتیں اور پراسیس شدہ مرغی کا گوشت شامل ہیں ، کی کینیڈا میں برآمد کے لیے سی ایف آئی اے سے تصدیق کی ضرورت پر بھی زور دیا۔اس موقع پر کینیڈین ہائی کمشنر طارق علی خان نے پاکستان کی بڑھتی ہوئی زرعی صلاحیت اور حکومت کی پائیدار زراعت کے فروغ کے لیے کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ کینیڈا پاکستان کو ایک اہم شراکت دار سمجھتا ہے اور تیل دار بیجوں، دالوں، اجناس اور خوردنی تیل کی تجارت میں وسعت چاہتا ہے۔

ہائی کمشنر نے بتایا کہ کینیڈا دنیا کے بہترین بائیو سیفٹی اور فوڈ سیفٹی معیارات رکھتا ہے اور امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کے درمیان ریگولیٹری تعاون سے جی ایم او کینولا کی درآمد دوبارہ شروع ہو سکے گی۔ہائی کمشنر نے پاکستان کو انیسویں سالانہ کینیڈین فوڈ سیفٹی سمٹ میں شرکت کی دعوت دی جو 8 تا 9 اپریل 2026ء کو کینیڈا میں منعقد ہو گی اور اس بات کی بھی تصدیق کی کہ کینیڈا کا ایک اعلیٰ سطحی وفد پاکستان ایڈیبل آئل اینڈ سیڈ ایکسپورٹرز کانفرنس (جنوری 2026ء) میں شرکت کرے گا۔

انہوں نے کینیڈا کی فوڈ پراسیسنگ اور زرعی صنعت میں کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے پاکستان کو اس شعبے میں تکنیکی تعاون کی پیشکش بھی کی۔وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کینیڈین تجاویز کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ان مواقع کو عملی شکل دینے کے لیے کینیڈا کے ساتھ قریبی رابطہ جاری رکھے گا۔

انہوں نے تجویز دی کہ دونوں ممالک کے درمیان ایک مشترکہ ورکنگ گروپ (جے ڈبلیو جی) تشکیل دیا جائے جو سرٹیفیکیشن، مارکیٹ ایکسس اور تکنیکی تعاون کے معاملات پر پیش رفت کو یقینی بنائے۔ رانا تنویر حسین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کینیڈا کے ساتھ زرعی تجارت، ٹیکنالوجی کی منتقلی، فوڈ سیفٹی اور پائیدار ترقی کے شعبوں میں شراکت داری کو مزید مضبوط بنائے گا۔ دونوں فریقوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وفود کے تبادلے اور مسلسل مشاورت کے ذریعے تعلقات کو مزید فروغ دیا جائے گا تاکہ زراعت اور معیشت کے میدان میں تعاون کو نئی بلندیوں تک پہنچایا جا سکے۔