اسلام آباد، 4 0نومبر ( اے پی پی): وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق، رانا تنویر حسین نے پاکستان میں تعینات ایران کے سفیر رضا امیری مقدم سے اعلیٰ سطحی ملاقات کی جس میں دونوں برادر ممالک کے درمیان زراعت، غذائی تحفظ اور تجارت کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایرانی سفیر نے ایران کے وزیر برائے زراعت جہاد کی جانب سے رانا تنویر حسین کو ای سی او سمٹ میں شرکت کی دعوت دی جو 17 فروری 2026ء کو منعقد ہوگی۔ انہوں نے پاکستان کے ساتھ زرعی تجارت کے فروغ میں ایران کی گہری دلچسپی کا اظہار کیا اور مویشی، اجناس اور فوڈ پراسیسنگ کے شعبوں میں باہمی تعاون کے وسیع امکانات کو اجاگر کیا۔
ملاقات کے دوران ایرانی سفیر نے بتایا کہ ایران پاکستان سے 3 لاکھ 50 ہزار مویشی درآمد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ انہوں نے چاول کی برآمدات کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ خرید و فروخت کے معاہدے جلد حتمی شکل اختیار کر لیں گے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ایران نے پاکستان سے گندم کی درآمد شروع کر دی ہے اور وہ مکئی اور چارہ بھی پاکستان سے دستیاب مقدار میں درآمد کرنے کے لیے تیار ہے۔ ایرانی وزارتِ زراعت جہاد نے پاکستان سے ایک فالو اپ وفد کی میزبانی کی خواہش کا اظہار کیا تاکہ زرعی تعاون کے منصوبوں کو مزید آگے بڑھایا جا سکے۔
دونوں فریقین نے اس امر پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور ایران کے زرعی و موسمی حالات ایک جیسے ہیں جو تحقیق، بیج کی تیاری اور ٹیکنالوجی کے تبادلے میں مشترکہ تعاون کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ ایرانی جانب نے جدید آبپاشی نظام، خشک سالی برداشت کرنے والی فصلوں اور نامیاتی کاشتکاری کے شعبوں میں مشترکہ منصوبے شروع کرنے میں دلچسپی ظاہر کی۔ ایرانی سفیر نے اس بات پر بھی آمادگی ظاہر کی کہ دونوں ممالک زرعی سائنسدانوں اور ماہرین کی تربیت اور صلاحیت میں اضافے کے لیے پروگراموں میں مل کر کام کریں تاکہ علم و تجربے کے باہمی تبادلے سے دونوں کو فائدہ پہنچے۔
رانا تنویر حسین نے ایران کی جانب سے زرعی تعلقات کو فروغ دینے کی خواہش کو سراہا اور پاکستانی زمین پر اضافی علاقائی کاشتکاری (Extra-Territorial Cultivation) کے مجوزہ منصوبے کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایسے جدید اشتراکات کا خیرمقدم کرتا ہے جو پائیدار زرعی ترقی کو فروغ دیں اور خطے میں غذائی تحفظ کو مضبوط بنائیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایسے اقدامات دونوں ممالک کو ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے میں مدد دیں گے۔
رانا تنویر حسین نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان ایران کے ساتھ 10 ارب ڈالر کے دوطرفہ تجارتی ہدف کے حصول کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی زرعی مصنوعات ، جن میں چاول، مکئی اور چارہ شامل ہیں، اعلیٰ معیار کی ہیں اور ایران کے قریب ہونے کی وجہ سے لاگت کے لحاظ سے زیادہ فائدہ مند ہیں، جبکہ برازیل اور آسٹریلیا جیسے دور دراز ممالک سے درآمدات میں اضافی ٹیرف اور اخراجات شامل ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ شراکت داری نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعلقات کو مضبوط کرے گی بلکہ خطے میں غذائی استحکام کو بھی فروغ دے گی۔
وفاقی وزیر نے اس یقین کا اظہار کیا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان جاری تعاون زرعی پیداوار میں اضافے، غذائی تحفظ میں بہتری اور معاشی انضمام کو گہرا کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ دونوں ممالک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ دوستی اور باہمی مفاد کے جذبے کے تحت پائیدار زرعی ترقی اور علاقائی خوشحالی کے لیے مل کر کام جاری رکھیں گے۔











