اقوامِ متحدہ میں پاکستان کا اونروا کو کمزور کرنے کی کوششوں پر سخت انتباہ، ادارے کی بطور اخلاقی اور قانونی ذمہ داری تحفظ پر زور

9

قوامِ متحدہ، 14 نومبر (اے پی پی): پاکستان نے اقوامِ متحدہ کے فلسطینی مہاجرین کے لیے ریلیف و تعمیرِ نو کے ادارے (UNRWA) کے تحفظ اور تقویت کے لیے دوٹوک اپیل کرتے ہوئے اس کے خلاف جاری منظم مہمات کو بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی اور فلسطینی ریاست کے تصور کو مٹانے کی کوشش قرار دیا۔

اقوامِ متحدہ کی چوتھی کمیٹی میں UNRWA کے ناگزیر مینڈیٹ کے دفاع میں ایک بھرپور بیان دیتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب، سفیر عثمان جدون،  نے ادارے کو بین الاقوامی نظام کا جائز اور معتبر ستون قرار دیا، جو سات دہائیوں سے انسانی امداد، علاقائی استحکام اور فلسطینی عوام کے لیے امید کا اہم ذریعہ رہا ہے۔

انہوں نے UNRWA کے ’’جانفشاں عملے کو خراجِ تحسین‘‘ پیش کیا جو ناقابلِ تصور حالات میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ادارے نے صرف امداد نہیں پہنچائی بلکہ علاقائی استحکام برقرار رکھا اور ’’اپنے وطن سے محروم لوگوں کے لیے عزت و وقار اور وابستگی کا احساس‘‘ قائم رکھا۔

سفیر عثمان جدون  نے واضح کیا کہ UNRWA پر حملے چند الگ واقعات نہیں بلکہ ’’فلسطینی عوام کی شناخت مٹانے اور ان کی ریاست اور حقِ خودارادیت کی جدوجہد کو ختم کرنے کی ایک وسیع تر حکمتِ عملی‘‘ کا حصہ ہیں۔

انہوں نے اسرائیل کی حالیہ قانون سازی بین الاقوامی قانون کی توہین، اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی اور اس جنرل اسمبلی کے وقار پر حملہ‘‘ قرار دیا۔سفیر  جدون  نے زور دیا کہ کسی بھی اقوامِ متحدہ کے ادارے کا قیام یا تحلیل صرف جنرل اسمبلی کا اختیار ہے، اور کوئی ریاست تنہا کسی ادارے کے مینڈیٹ کو ختم نہیں کر سکتی۔ عالمی عدالتِ انصاف کی رائے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے یاد دلایا کہ اسرائیل کے لیے UN کی انسانی امداد، ’’خصوصاً UNRWA‘‘ کی راہ میں سہولت فراہم کرنا قانونی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے فلسطینی عوام کے ساتھ پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ UNRWA کے مینڈیٹ، وسائل اور عملی گنجائش کا تحفظ اخلاقی اور قانونی ضرورت ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ ’’لاکھوں انسانوں کی انسانی زندگی کا انحصار سیاسی مصلحتوں کا یرغمال نہیں بن سکتا‘‘ اور انسانی ضرورت کے مطابق طویل المدتی، منظم امدادی ڈھانچے کی ضرورت پر زور دیا۔