پنجاب کابینہ کمیٹی کا فیصلہ،پنجاب میں پٹرول موٹر سائیکلوں کی مرحلہ وار بندش، پنجاب میں پٹرول موٹر سائیکل رکشوں کی پروڈکشن پر پابندی کا اصولی فیصلہ

34

لاہور، 27 نومبر (اے پی پی): صوبہ پنجاب میں پٹرول موٹر سائیکل رکشوں کی پروڈکشن پر پابندی عائد کرنے اور پٹرول سے چلنے والی موٹر سائیکلوں کی مرحلہ وار بندش کا اصولی فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ یہ اہم فیصلے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت انسدادِ سموگ کے لیے کابینہ کمیٹی کے خصوصی اجلاس میں کیے گئے۔ اجلاس میں طے پایا کہ پنجاب کے تمام سرکاری ادارے مستقبل میں صرف الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیاں اور الیکٹرک موٹر سائیکل ہی خریدیں گے۔ اس کے ساتھ گھروں میں پانی سے گاڑیاں دھونے پر مکمل پابندی بھی عائد کر دی گئی۔ نئے ماحولیاتی پلان کے مطابق صوبے بھر میں جدید رنگ دار کوڑے دان نصب کیے جائیں گے۔  اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ پلاسٹک اور زہریلا دھواں پیدا کرنے والی اشیاء جلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی اور شہریوں کی صحت پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کی مستقل بنیادوں پر جانچ کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت مختلف ورکشاپس کی منظوری بھی دی گئی۔ سینیئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پنجاب کا پہلا جدید ایئر کوالٹی مانیٹرنگ نیٹ ورک قائم کر دیا گیا ہے، جبکہ اے کیو آئی فورکاسٹ سسٹم کی مدد سے سموگ اور فضائی معیار کی بروقت نشاندہی ممکن ہوگئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سموگ گنز کے استعمال سے مختلف علاقوں میں آلودگی میں نمایاں کمی آئی ہے، جبکہ فصلیں جلانے کے واقعات میں 88 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ ان کے مطابق فصلیں جلانے کی روک تھام کے لیے ڈرون نگرانی، سیٹلائٹ سرویلنس، امیشن ٹیسٹنگ سسٹم، سیف سٹی سموگ وار روم اور 8500 سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے انڈسٹری اور ڈسٹ ہاٹ سپاٹس کی ڈیجیٹل مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔ 450 سے زائد انڈسٹریل یونٹس مسمار، 23 کروڑ روپے جرمانے، 2200 بھٹے مسمار اور 2336 سیل کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پلاسٹک بیگ کے خاتمے کے لیے صوبے کی سب سے بڑی مہم جاری ہے، جبکہ 26 ہزار کاروباری افراد نے مضر صحت پلاسٹک کے استعمال نہ کرنے کا عہد کیا ہے۔ ٹائر اور بیٹریاں جلانے والے یونٹس کے خلاف بھی سخت کارروائیاں جاری ہیں۔ صوبے میں گرین پنجاب ایپ، 1373 ہیلپ لائن اور ایکو واچ ایپ کے ذریعے عوام شکایات درج کر سکتے ہیں۔ ماحولیاتی آگاہی کے لیے اسکولوں، کالجز اور یونیورسٹیوں میں خصوصی مہم جاری ہے، جبکہ پہلی بار پنجاب گرین اسکول سرٹیفکیشن پروگرام بھی شروع کیا گیا ہے۔ لاہور کے گرد 21 لاکھ درختوں پر مشتمل گرین بیلٹ قائم کی گئی ہے اور مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر شجرکاری جاری ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے ماحولیاتی بہتری کے لیے کیے گئے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پوری ٹیم کو شاباش دی۔ انہوں نے بچوں سے مزدوری کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل درآمد کی ہدایت بھی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پچھلے ڈیڑھ سال میں جو کامیابیاں ملیں، آئندہ چار سال میں ان میں مزید بہتری لانا ہے، پنجاب کو ٹیکنالوجی اور ماحول دوست ترقی کی مثال بنانا ہے۔ وزیراعلیٰ نے شہریوں کے تعاون پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور اداروں کے ساتھ عوام کا بھرپور ساتھ قابلِ ستائش ہے۔