اسلام آباد ،4دسمبر(اے پی پی): انسیٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد(آئی ایس ایس آئی) کے زیرِ اہتمام جاری اسلام آباد کانکلیو 2025 کے دوسرے روز معیشت اور موسمیاتی تبدیلی کے موضوع پر ایک اہم سیشن منعقد ہوا، جس میں علاقائی تعاون کو فروغ دینے پر زور دیا گیا، اس سیشن کی صدارت سینٹر فار اسٹریٹجک پرسپیکٹوز نے کی۔
سیشن سے خطاب کرتے ہوئے ہارون شریف نے خطے کو درپیش اقتصادی و موسمیاتی چیلنجز پر روشنی ڈالی اور علاقائی سطح پر عملی اور مرحلہ وار تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔
دیگر مقررین نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی جنوبی ایشیا کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے، جس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی، ٹیکنالوجی کا تبادلہ، صاف توانائی، پانی کے بہتر انتظام اور قدرتی وسائل کے تحفظ پر مل کر کام کرنا ناگزیر ہے۔
مقررین نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ پہاڑی علاقوں میں موسمیاتی اثرات کے باعث نشیبی خطوں پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں، جس کے لیے علاقائی سطح پر ڈیٹا شیئرنگ، وارننگ سسٹمز اور مالی معاونت کے نئے طریقہ کار اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ اختتام پر سفیر خالد محمود نے مقررین میں یادگاری شیلڈز تقسیم کیں اور سیشن اپنے اختتام کو پہنچا۔











