ڈیجیٹل پاکستان وژن: پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے سرکاری خریداری کے نظام میں عالمی معیار سے ہم آہنگ تاریخی اصلاحات

8

اسلام آباد۔12جنوری  (اے پی پی):پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی نے وزیرِاعظم کے ڈیجیٹل پاکستان وژن کے تحت سرکاری خریداری کے شعبے میں بین الاقوامی معیارات سے ہم آہنگ تاریخی اصلاحات متعارف کرا دی ہیں۔ ان اصلاحات کا بنیادی محور ای پاک ایکوزیشن اینڈ ڈسپوزل سسٹم (ای پیڈز) ہے جس نے قومی سطح پر سرکاری خریداری کے طریقۂ کار کو شفاف، مؤثر اور جدید خطوط پر استوار کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ای پیڈز کے ذریعے نہ صرف خریداری کے تمام مراحل کو ڈیجیٹل بنایا گیا بلکہ شفافیت، مسابقت اور جوابدہی کو بھی فروغ ملا، جس کے نتیجے میں سرکاری وسائل کے بہتر استعمال کو یقینی بنایا جا سکا۔ اب یہ نظام اپنے اگلے اور زیادہ ترقی یافتہ مرحلے میں داخل ہو رہا ہے، جہاں ای پیڈز 2.0 کا آغاز ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔
ان خیالات کا اظہار منیجنگ ڈائریکٹر پیپرا حسنات احمد قریشی نے پیر  کو صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی اور مقامی ماہرین کی جائزہ رپورٹ اور وزیرِاعظم پاکستان کی منظوری کے بعد، پیپرا نے 2024 میں ایک جامع اصلاحاتی پروگرام شروع کیا، جس میں ای پروکیورمنٹ کا نفاذ، قانونی اصلاحات ، تربیتی پروگرام ادارہ جاتی اصلاحات شامل تھیں۔حسنات قریشی نے بتایا کہ ای پروکیورمنٹ کا آغاز وفاقی حکومت اور تین صوبوں میں ای پیڈز کے لازمی اور مکمل نفاذ کے ذریعے ممکن بنایا گیا۔ اب تک 9,846 سرکاری ادارے اور 600 غیر ملکی کمپنیوں سمیت 43,000 سپلائرز اس پلیٹ فارم پر رجسٹر ہو چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال کے دوران ای پیڈز پر 1,408.58 ارب روپے مالیت  کی  526,271 ٹرانزیکشنز  کی گئیں۔ای پیڈز کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو، نادرا، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان، پاکستان انجینئرنگ کونسل،فنانشل اکاونٹنگ اینڈ بجٹنگ سسٹم (ایف اے بی ایس)، صوبائی ریونیو اتھارٹیز اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے ساتھ مکمل طور پر مربوط کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، آڈیٹر جنرل، نیب ، پاکستان انجنئرنگ کونسل اور مسابقتی کمیشن جیسے اداروں کے لیے خصوصی ڈیش بورڈز بھی فراہم کیے گئے ہیں۔

حسنات قریشی نے موقف اختیار کیا کہ ادارہ جاتی انضمام اور نگرانی کے لیے فراہم کردہ ڈیش بورڈز نے ای پیڈز کو ایسا نظام بنا دیا ہے جہاں ہر لین دین کی تصدیق ممکن ہے اور ہر مرحلے پر احتساب و شفافیت کو یقینی بنایا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ای پیڈز نے کارکردگی اور وسائل کے مؤثر استعمال کو یقینی بنایا ہے۔ اس نظام نے ملی بھگت کو کم اور مقابلے کو بڑھایا ، جس کے نتیجے میں اوپن بڈنگ میں اوسطاً پانچ سے سات بولی دہندگان شریک ہوئے، جب کہ روایتی طریقوں میں صرف دو سے تین شریک ہوا کرتے تھے۔ چھوٹے پیمانے کی خریداری اور کوٹیشنز بھی ای پیڈز میں ریکارڈ ہوتی ہیں جبکہ یہ نظام شکایات کے ازالے کا مؤثر طریقہ کار فراہم کرتا ہے، بلیک لسٹ شدہ کمپنیوں کی شمولیت کو روکنے سمیت خریداری کے عمل میں تاخیر کی نشاندہی کرسکتا ہے۔ ای پیڈز سے قواعد کی پاسداری میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ 500 ملین روپے سے زائد مالیت کی اشیا و خدمات اور ایک ارب روپے سے زائد مالیت کے تعمیراتی منصوبوں کی بولی کا براہِ راست آن لائن نشر کیا جانا ممکن بنایا گیا ہے۔

ایم ڈی پیرا نےکہا کہ جدید اور صارف دوست پلیٹ فارم “ای پیڈز 2.0” جنوری 2026 میں وفاقی سطح پر لانچ ہوگا۔ فروری میں اس کا آغاز گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں، جبکہ مارچ میں صوبوں کی سطح پر یقینی بنایا جائے گا۔مانیٹرنگ اور تجزیاتی رپورٹنگ جولائی سے شروع ہوگی جبکہ ڈونر فنڈڈ خریداریوں کو ستمبر 2026 تک ای پیڈز پر منتقل کرنے کی منصوبہ بندی جاری ہے، آن لائن پروکیورمنٹ اکیڈمی کے قیام کو اکتوبر اور اوپن کانٹریکٹنگ ڈیٹا اسٹینڈرڈز (او سی ڈی ایس) کے نفاذ کو دسمبر میں عملی شکل دینے کی کوششیں جاری ہیں۔

ایم ڈی پیپرا نے بتایا کہ خریداری قوانین کو بین الاقوامی معیارات سے ہم آہنگ کرنے کیلئے اصلاحات آخری مراحل میں ہیں، جن میں پیپرا آرڈیننس 2002 میں ترامیم، نئے پبلک پروکیورمنٹ رولز 2025 کی تیاری اور بولی دستاویزات کی نظرثانی شامل ہے۔ نئے قوانین میں خریداریوں کی نگرانی اور شکایات کے آزالے کا آزاد نظام ، لازمی ای پروکیورمنٹ و ای ڈسپوزل، سرکاری اداروں میں پروکیورمنٹ سیلز کا قیام، مؤثر طریقہ کار اور پروکیورمنٹ کی پیشہ ورانہ تربیت شامل ہیں۔

حسنات قریشی کا کہنا تھا کہ پیپرا کی ریگولیٹری اصلاحات ابہام کو ختم کرنے، شفافیت کو فروغ دینے، کرپشن میں کمی، کارکردگی کو یقینی بنانے اور مسابقت کو بڑھانے میں معاون ثابت ہوں گی۔پیپرا کی توجہ صلاحیتوں کے فروغ اور ادارہ جاتی استعداد بڑھانے پربھی ہے۔ اسی ضمن میں قوانین کی مؤثر عملداری اور ای پیڈز کے کامیاب نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے اب تک 10,000 سے زائد افسران کو تربیت دی جا چکی ہے، سال 2024-25 کے دوران 2,499 سرکاری اداروں کے افسران اور سپلائرز کے نمائندے اس پروگرام میں شریک ہو چکے ہیں، جبکہ پیپرا کے اس تربیتی پروگرام میں ملک کی نمایاں جامعات، بشمول نسٹ، لمز، آئی بی اے اور ائیر یونیورسٹی، کا تعاون بھی شامل ہے۔ مزید براں، پیپرا ایک جامع فریم ورک مرتب کر رہا ہے تاکہ تربیتی ماڈیولز کو معیاری بنایا جا سکے اور پروکیورمنٹ ماہرین کی اسناد کو مصدقہ حیثیت دی جا سکے۔ادارہ جاتی اصلاحات کے ضمن میں پیپرا نے اپنے ڈھانچے کو تبدیل کرتے ہوئے مارکیٹ سے اسپشلسٹ، ماہرین اور آئی ٹی پروفیشنلز کو میرٹ کے ذریعے بھرتی کیا ہے ، اس کے ساتھ ساتھ آزاد ماہرین کا ایک پول قائم کرنے کا عمل جارہی ہے تاکہ تاکہ خریداری کے شعبے میں نگرانی کو آزاد اور مزید مؤثر بنایا جا سکے۔ خریداری اداروں میں پروکیورمنٹ سیلز کے قیام کا سلسلہ جاری ہے تاکہ شفاف اور قواعد پر مبنی خریداری و معاہدوں کو یقینی بنایا جا سکے۔ مزید برآں، ادارے نے اپنے آپریشنز کو ڈیجیٹلائز کرتے ہوئے ای پیڈز ٹریننگ سینٹر اور 16 گھنٹے فعال ہیلپ ڈیسک بھی قائم کیا ہے، جو اداروں اور سپلائرز کو مسلسل مدد فراہم کر رہا ہے۔

حسنات قریشی نے کہا کہ پیپرا کی اصلاحات جدید خریداری اور گورننس کی سمت ایک فیصلہ کن قدم ہیں۔ یہ اصلاحات خریداری کے ہر مرحلے میں احتساب، شفافیت اور کارکردگی کو یقینی بناتی ہیں اور پاکستان کی ساکھ کو عالمی معیار کے مطابق مزید مضبوط کرتی ہیں۔