منامہ۔15جنوری (اے پی پی):صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ بحرین کے ساتھ اقتصادی تعاون، سرمایہ کاری، شراکت داری اور ادارہ جاتی روابط کے فروغ کے لئے پر عزم ہیں،بحرین کی سرمایہ کار دوست معیشت کامیابی سے بدلتے ہوئے عالمی ماحول میں قابلِ تقلید مثال ہے،پاکستان کی استحکام، ڈیجیٹلائزیش اور سرمایہ کاری پر مبنی معیشت ترقی کی راہ پر گامزن ہے، دونوں ممالک کے درمیان زراعت ،غذائی تحفظ، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل خدمات، قابلِ تجدید توانائی اور لاجسٹکس سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کی وسیع گنجائش موجود ہے۔
جمعرات کو ایوان صدر کے پریس ونگ سے جاری بیان کے مطابق انہوں نے ان خیالات کا اظہار بحرین کے اکنامک ڈویلپمنٹ بورڈ کی طرف سے دیئے گئے استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔
صدرِ مملکت نے بحرین کے فرمانروا شاہ حمد بن عیسیٰ الخلیفہ اور ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ سلمان بن حمد الخلیفہ کا پرتپاک استقبال اور مہمان نوازی اور شاہ حمد بن عیسیٰ الخلیفہ کی جانب سے شیخ عیسیٰ ایوارڈ دیئے جانے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے درمیان گہرے دوطرفہ تعلقات اور باہمی احترام کی عکاسی قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ استقبالیہ پاکستان اور بحرین کے درمیان قریبی اور دیرینہ دوستی کا مظہر ہے۔ انہوں نے اکنامک ڈویلپمنٹ بورڈ کے واضح سٹریٹجک وژن اور ادارہ جاتی مضبوطی کو سراہتے ہوئے کہا کہ بحرین کی سرمایہ کار دوست معیشت کامیابی سے بدلتے ہوئے عالمی ماحول میں قابلِ تقلید مثال ہے۔
بحرین کے وزیرِ خزانہ نے اقتصادی ترقی پر بریفنگ کا آغاز کیا تو صدرِ مملکت نے منامہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ترقی ان کے سامنے واضح طور پر نظر آ رہی ہے اور کسی وضاحت کی محتاج نہیں ہے ۔
صدر مملکت نے کہا کہ اکنامک ڈویلپمنٹ بورڈ بحرین کی اقتصادی حکمتِ عملی کی تشکیل، غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ اور اہم شعبوں میں تنوع کے عمل میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ سرکاری اداروں اور نجی شعبے کے ساتھ قریبی رابطہ کاری کے باعث بحرین نے مسابقت میں اضافہ، جدت کے فروغ اور سرمایہ کاروں کے لئے قابلِ اعتماد اور سازگار ماحول پیدا کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پالیسی ہم آہنگی اور سرمایہ کاروں کی سہولت کے لئے ای ڈی بی ماڈل پائیدار اور جامع ترقی کے خواہاں ممالک کے لئے ایک مثال ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان بحرین کے ترقیاتی سفر کو تحسین کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان مضبوط ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ انہوں نے پاکستان میں جاری اقتصادی اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی استحکام، ڈیجیٹلائزیش اور سرمایہ کاری پر مبنی معیشت ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ انہوں نے سپیشل انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن کونسل کو سرمایہ کاروں کے لئے ایک مربوط پلیٹ فارم قرار دیا جس کے تحت زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، توانائی، معدنیات، لاجسٹکس اور سیاحت پر توجہ مرکوز کی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بحرین کے مابین زراعت ،غذائی تحفظ، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل خدمات، قابلِ تجدید توانائی اور لاجسٹکس سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کی وسیع گنجائش موجود ہے۔ انہوں نے پاکستان کی سٹریٹجک جغرافیائی اہمیت کو اجاگر کرتے کہا کہ یہ جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، چین اور مشرقِ وسطیٰ کو باہم جوڑتی ہے اور بحرین کی مالی مہارت اور ریگولیٹری فریم ورک کی تکمیل کرتی ہے۔ انہوں نے علاقائی سلامتی کے چیلنجز اور ترقی پر ان کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انتہاپسندی کے خلاف مؤثر اقدامات، داخلی سلامتی کے استحکام اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ پرامن تعلقات کے فروغ کے لئے پر عزم ہیں۔ انہوں نے سرمایہ کاری کے تحفظ اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داریوں کے فروغ کے لئے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا اور دوطرفہ اقتصادی تعاون کے فروغ میں بحرین کی قیادت اور اکنامک ڈویلپمنٹ بورڈ کے کردار پر ان کا شکریہ ادا کیا۔











