توانائی اور انفراسٹرکچر کے شعبے میں تعاون ناگزیر ہے، انرجی سکیورٹی کے بغیر معاشی ترقی ممکن نہیں، وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک

12

اسلام آباد،29جنوری  (اے پی پی):وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ توانائی اور انفراسٹرکچر کے شعبے میں تعاون ناگزیر ہے، پاکستان کے مختلف سیکٹرز میں پاک چین تعاون کے منصوبے جاری ہیں،کان کنی کے شعبے میں ترقی کی نئی راہیں ہموار ہو رہی ہیں، غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لئے پاکستان میں مختلف شعبوں میں بہت وسعت ہے،تمام معاہدوں کی حفاظت کی جائے گی، حکومت نے ملک میں معاشی استحکام کے لئے اہم اقدامات کئے ہیں، حکومت آئل اینڈ گیس سیکٹر کے استحکام کے لئے اقدامات کر رہی ہے، انرجی سکیورٹی بھی معاشی ترقی کے لئے ضروری ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے یہاں جمعرات کو سالانہ ٹیکنیکل کانفرنس 2026 کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ توانائی کا تحفظ پاکستان کے معاشی استحکام،صنعتی ترقی اور قومی استقامت کے لئے بنیادی اہمیت رکھتا ہے، حکومت نے گزشتہ ایک سال کے دوران ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات کئے ہیں، مشکلات اور چیلنجز صرف حکومت نے ہی برداشت نہیں کئے، عوام نے بھی گزشتہ چند برسوں میں آنے والے معاشی بحران کا بھرپور سامنا کیا ہے، یہ حقیقت تسلیم کرنا ضروری ہے کہ معاشی استحکام ہماری معیشت کا مضبوط حصہ بن چکا ہے، مہنگائی کے دباؤ پر قابو پایا جا چکا ہے، زرِ مبادلہ کے ذخائر جو ماضی میں پاکستان کی کمزوری سمجھے جاتے تھے اب مستحکم ہو چکے ہیں، کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیاں پاکستان کی ترقی کے امکانات کو مثبت انداز میں دیکھ رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ جہاں تک توانائی کے شعبے کا تعلق ہے، آج پاکستان ایک نہایت اہم موڑ پر کھڑا ہے، نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ تکنیکی تبدیلیاں آ رہی ہیں، چیلنجز کی نوعیت اور شدت بدل چکی ہے،بڑھتی ہوئی طلب، عالمی منڈی کی غیر یقینی صورتحال اور دیگر عوامل ہمیں ایک واضح، فیصلہ کن، سرمایہ کار دوست اور مستقبل پر نظر رکھنے والی پالیسیوں کو اپنانے کا تقاضا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی حکومت کے ایجنڈے کے مطابق اگر ملک کو پائیدار ترقی کی راہ پر ڈالنا ہے تو تیل و گیس کے شعبہ کی پائیداری اس ایجنڈے کا مرکزی جزو ہے اور ہمیں اجتماعی طور پر اس شعبے کے مسائل کے حل کے لئے کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے حکومت کے اس عزم کا اظہار کیا کہ تیل و گیس کے شعبے کے لئے ایک پائیدار،شفاف، مسابقتی اور باہمی تعاون پر مبنی ماحول فراہم کیا جائے،  بحیثیتِ قوم ترقی کے لئے ہمیں طویل المدتی اور مربوط منصوبہ بندی کی طرف بڑھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ توانائی کے شعبے کے مختلف ذیلی شعبوں کو ایک دوسرے سے رابطے میں رہنا ہوگا، ایک دوسرے کے مینڈیٹ اور باہمی انحصار کااحترام کرنا ہوگاکیونکہ ایک جامع طویل المدتی توانائی کے نقطہ نظر کے بغیر مطلوبہ اہداف کا حصول مشکل ہوگا۔ دوسرا بنیادی اصول اس شعبہ کی پائیداری ہے،  اگر سرمایہ کاروں کو یہ اعتماد نہیں ہوگا کہ ان کی ادائیگیاں بروقت ہوں گی اور یہ شعبہ پائیدار ہے تو  وہ اس میں بھاری سرمایہ کاری نہیں کریں گے۔ تیسرا اہم عنصر پالیسی سازی، ضابطہ جاتی استحکام ہے کہ تمام معاہدے محفوظ رہیں گے اور حکومت ان کے تقدس کی حفاظت کرے گی۔ انہوں نے کہا  کہ پٹرولیم ڈویژن کی حیثیت سے ہم آپ کے معاہدے، آپ کے حقوق اور ان تمام حفاظتی اقدامات کے تحفظ کے لئے آپ کے وکیل کے طور پر کام کریں گے جو معاہدوں کی مدت تک کئے گئے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ان چند بنیادی اصول پر ہمیں اتفاق کرنا ہوگا تاکہ ملک کے لئے ایک زیادہ پائیدار اور قواعد پر مبنی توانائی کا شعبہ تشکیل دیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ بطور وزیرِ پٹرولیم جب تک مجھے یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے میں آپ کے ساتھ مل کر ان چیلنجز کو عارضی اقدامات کی بجائے مستقل اور پائیدار بنیادوں پر حل کرنے کے لئے کام کرتا رہوں گا۔