اقوام متحدہ ۔5فروری (اے پی پی):پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ وہ غیر ملکی فنڈنگ سے چلنے والی کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے لیے فوری کارروائی کرے۔
پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ طالبان کے کابل میں اقتدار سنبھالنے کے بعد بی ایل اے اور دیگر دہشت گرد گروہوں کو ایک نئی زندگی مل گئی ہے۔سلامتی کونسل میں دہشت گردی سے عالمی امن و سلامتی کو لاحق خطرات پر بحث کے دوران خطاب کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ بی ایل اے، فتنہ الخوارج (ٹی ٹی پی) اور اس سے منسلک ماجد بریگیڈ جیسے گروہ افغانستان میں محفوظ پناہ گاہوں کے باعث دوبارہ متحرک ہو چکے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ امریکہ پہلے ہی بی ایل اے کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دے چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان سے سرگرم بی ایل اے اور ٹی ٹی پی جیسے گروہ پاکستان میں سنگین دہشت گرد حملے کر رہے ہیں، جنہیں پاکستان کے مشرقی ہمسائے کی مبینہ معاونت حاصل ہے۔انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹس کے مطابق افغان عبوری حکام دہشت گرد گروہوں کو سازگار ماحول فراہم کر رہے ہیں، جبکہ القاعدہ، داعش خراسان اور ای ٹی آئی ایم/ٹی آئی پی جیسے عناصر بھی افغانستان میں آزادانہ نقل و حرکت کر رہے ہیں۔ ان گروہوں سے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے اور دنیا کو خطرات لاحق ہیں۔











