سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کا اجلاس، ایندھن کے ذخائر اور ایل این جی فراہمی پر بریفنگ

16

اسلام آباد، 16 مارچ (اے پی پی): سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کا اجلاس  سینیٹر منظور احمد کی زیر صدارت منعقد ہوا، سیکرٹری پیٹرولیم نے پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی اور دستیابی کی موجودہ صورتحال پر  کمیٹی کو بریفنگ دی۔ سیکرٹری نے کمیٹی کو بتایا کہ خطے میں جاری جنگ کے باعث خلیج کے کئی ہمسایہ ممالک کو پیٹرولیم فراہمی میں رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں جہاز مالکان کی جانب سے خدمات فراہم کرنے میں ہچکچاہٹ کے باعث آئل ٹینکروں کی دستیابی بھی ایک بڑا مسئلہ بن گئی ہے۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ پاکستان خام تیل کا تقریباً 25 فیصد، ڈیزل کا 30 فیصد اور پیٹرول کا تقریباً 70 فیصد درآمد کرتا ہے جو زیادہ تر خلیج فارس سے آبنائے ہرمز کے ذریعے آتا ہے۔ سیکرٹری نے خبردار کیا کہ اگر جنگ طویل ہو گئی تو پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے پاکستان کو طویل سمندری راستے اختیار کرنا پڑ سکتے ہیں۔

متبادل انتظامات سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے سیکرٹری نے بتایا کہ عالمی صورتحال کے پیش نظر 11 مارچ سے ایک ماہ کے لیے پابندیوں میں عارضی نرمی کے بعد پاکستان کو حال ہی میں روسی تیل خریدنے کی اجازت ملی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان کے پاس اس نوعیت کے لین دین کے لیے مستحکم بینکاری راستے موجود نہیں ہیں اور خریداری کے عمل میں تقریباً 35 سے 40 دن لگتے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ روس کے بڑے آئل ٹینکرز حجم کی وجہ سے براہ راست پاکستانی بندرگاہوں پر نہیں لگ سکتے اس لیے تیل پہلے عمان منتقل کیا جاتا ہے اور وہاں سے پاکستان لایا جاتا ہے۔

سیکرٹری نے کمیٹی کو یقین دلایا کہ حکومت ممکنہ بحران سے بچنے کے لیے موجودہ پیٹرولیم ذخائر کو زیادہ عرصہ تک برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم نے صورتحال کی روزانہ بنیاد پر نگرانی کے لیے وزیر خزانہ کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کی ہے جبکہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کو بھی پیٹرولیم ذخائر اور قیمتوں کی روزانہ نگرانی کی ہدایت کی گئی ہے۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ پاکستان کے پاس اس وقت تقریباً 3 لاکھ 92 ہزار میٹرک ٹن خام تیل موجود ہے جبکہ یومیہ استعمال تقریباً 36 ہزار میٹرک ٹن ہے۔ ڈیزل کے ذخائر تقریباً 4 لاکھ 4 ہزار میٹرک ٹن ہیں اور یومیہ استعمال 19 ہزار میٹرک ٹن ہے جبکہ پیٹرول کے ذخائر تقریباً 5 لاکھ 64 ہزار میٹرک ٹن ہیں اور یومیہ استعمال تقریباً 20 اعشاریہ 6 ہزار میٹرک ٹن ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ گندم کی تھریشرنگ کے جاری موسم کے باعث ملک بھر میں ڈیزل کی طلب میں اضافہ ہوتا ہے اور وزارت پیٹرولیم اور اوگرا پیٹرولیم مصنوعات کی مسلسل فراہمی یقینی بنائیں گے۔

اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سینیٹر منظور احمد نے موجودہ ذخائر کے باوجود پیٹرولیم قیمتوں میں حالیہ اضافے پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا حکومت پاکستان کے عوام پر مزید مالی بوجھ ڈالنے سے گریز کر سکتی ہے اور انہوں نے 7 مارچ سے قبل کے ذخائر اور قیمتوں کی صورتحال، اضافے کی شرح، عائد کردہ ٹیکسز اور اس اضافے سے فائدہ اٹھانے والوں کے بارے میں وضاحت طلب کی۔

سیکرٹری پیٹرولیم نے جواب دیتے ہوئے اس تاثر کو مسترد کیا کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو قیمتوں میں اضافے سے فائدہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قیمتوں میں ردوبدل جزوی طور پر گھریلو مارکیٹ میں گھبراہٹ کے باعث زیادہ خریداری اور ذخیرہ اندوزی کو روکنے کے لیے کیا گیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ عالمی حالات کے باعث ڈیزل کی بین الاقوامی قیمت تقریباً 28 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر تقریباً 88 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔

کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ حکومت ایندھن کے استعمال کے انتظام کے لیے مختلف پالیسی اقدامات پر غور کر رہی ہے جن میں دو پہیہ اور تین پہیہ گاڑیوں کی سہولت کے لیے اقدامات اور صورتحال مزید خراب ہونے کی صورت میں سڑکوں پر طاق جفت گاڑیوں کی پالیسی نافذ کرنے کی تجویز شامل ہے۔ سیکرٹری نے بتایا کہ عالمی تیل فراہمی میں رکاوٹوں نے بھارت کی تقریباً 60 فیصد اور چین کی تقریباً 40 فیصد تیل رسد کے راستوں کو متاثر کیا ہے۔

سینیٹر سعدیہ عباسی نے روس سے پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد کے انتظامات کو حتمی شکل دینے میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ پیٹرولیم قیمتوں میں حالیہ 55 روپے اضافے نے عام شہریوں کی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔

کمیٹی کو مزید بتایا گیا کہ پاکستان کے قطر کے ساتھ ایل این جی فراہمی کے دو انتظامات ہیں جنہیں قطر ون اور قطر ٹو کہا جاتا ہے اور ان کے تحت ہر ماہ معمول کے مطابق نو ایل این جی کارگو موصول ہوتے ہیں۔ تاہم سیکرٹری نے بتایا کہ جاری تنازع کے باعث قطر نے پاکستان کو فورس میجر نوٹس جاری کیا ہے جس کے نتیجے میں ایل این جی کی ترسیل میں کمی واقع ہوئی ہے۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ مارچ کے آغاز میں دو ایل این جی کارگو پاکستان پہنچے تاہم جنگی حالات کے باعث مزید چھ کارگو پاکستان نہیں پہنچ سکے۔ اس وقت پاکستان کے پاس ایل این جی کے ذخائر صرف اپریل کے وسط تک کے لیے موجود ہیں۔ سیکرٹری نے مزید بتایا کہ 30 مارچ سے بجلی کے شعبے کو ایل این جی کی فراہمی کم کی جا سکتی ہے جس کے نتیجے میں ملک میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔