اسلام آباد، جنوری 3 (اے پی پی): سابق وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہےکہ امریکی صدر کی ٹوئٹ غیر سنجیدہ اور افسوس ناک ہے۔ اسلام آباد کے پنجاب ہاؤس میں پریس کانفرنس کے آغاز میں سابق وزیراعظم نے قوم کو نئے سال کی مبارکباد دی اور انہوں نے رواں سال انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے امریکی صدر کی پاکستان مخالف حالیہ ٹوئٹ پر اپنے ردِ عمل کا اظہار کیا۔
نوازشریف نے کہا کہ کسی ریاستی سربراہ کو دوسری ریاست سے مکالمہ کرتے ہوئے مسلمہ بین الاقوامی آداب اور سفارتی اخلاق کا خیال رکھنا چاہیے۔
سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ نائن الیون کے بعد سے اب تک سب سے بھاری قیمت صرف پاکستان نےادا کی ہے، سب سے بھاری نقصان پاکستان کاہوا ہے، 17 برس سے ایسی جنگ میں الجھے جو بنیادی طور پر ہماری نہیں تھی۔
انہوں نے کہا کہ امریکی صدر کو معلوم ہونا چاہیے کہ 2013 میں مسلم لیگ (ن) نے اقتدار میں آتے ہی دہشت گردی کے خلاف کس بھرپور عزم کا اظہار کیا، اسی کے نتیجے میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز ہوا، آج دہشت گردی کی کمر توڑ دی گئی ہے اور جو بچے کچھے عناصر ہیں انہیں بھی جلد کیفر کردار تک پہنچا دیا جائے گا
انہوں نے کہا کہ یہ 2001 یا کسی ڈکٹیٹر کی حکومت نہیں کہ ایک فون کال پر ڈھیر ہوجائے، یہ عوامی حکومت ہے جو دھمکیوں کی پرواہ نہیں کرتے، ہمیں امداد کے طعنے نہ دیئے جائیں، کولیشن سپورٹ فنڈ کو امداد یا خیرات کا نام نہ دیا جائے، ہمیں ایسی فنڈ کی حاجت نہیں، آپ کو احسان جتانے کی بجائے کسی سپورٹ کا تقاضہ نہیں کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ یقین ہےکہ 2001 میں یہاں آمریت کی بجائے جمہوری حکومت ہوتی تو وہ اپنی خدمات کبھی نہ بیچتی اور اپنی خودی کا سودا بھی نہ کرتی۔
نوازشریف کا کہنا تھا کہ ’وزیراعظم شاہد خاقان سے یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ کوئی ایسی حکمت عملی وضع کریں جس سے ہمیں امریکی امداد کی حاجت باقی نہ رہے تاکہ ہماری عزت نفس پر اس طرح کے حملے نہ کیے جائیں‘۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ ’تین بار ملک کا وزیراعظم رہا ہوں، بہت سے حقائق سامنے ہیں، مخلص اور درد مند شہری کی حیثیت سے یہ بات کہنا چاہتا ہوں کہ ہمیں پورے اخلاص کے ساتھ اپنے کردار اور عمل کا ضرور جائزہ لینا چاہیے، بڑی دردمندی سے کہتا رہا ہوں کہ ہمیں اپنے گھر کی خبر ضرور لینی چاہیے اور سوچنا چاہیے کہ دنیا ہمیں قربانیوں کے باوجود ایسے کیوں دیکھتی ہے‘۔
مسلم لیگ (ن) کے صدر کا کہنا تھا کہ ’میرے مشورے کو نہ صرف نظر انداز کیا جاتا رہا بلکہ اسے کبھی ڈان لیکس اور کبھی کوئی اور نام دے کر میری حب الوطنی پر سوال اٹھائے گئے‘۔
نوازشریف نے کہا کہ ہمیں اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے کہ دنیا ہماری قربانیوں کے باوجود ہماری بات کیوں نہیں سنتی، فوج پولیس، سول سیکیورٹی ادارے، عوام، حتیٰ کہ ہمارے معصوم بچوں کا خون دنیا کی آنکھوں میں اتنا ارزاں کیوں ہوگیا، 17 سال کے دوران عظیم جانی و مالی قربانیوں کےباوجود ہمارا بیانیہ کیوں نہیں مانا جارہا، ہمیں ان سوالوں کا جواب تلاش کرنا ہے، اگر انہیں نظر انداز کیا جاتا رہا اور قومی مفاد کے منافی قرار دیا جاتا رہا تو بہت بڑی خود فریبی ہوگی، ایسی ہی خود فریبی کی وجہ سے پاکستان دو لخت ہوچکا۔
سابق وزیرعظم کا کہنا تھا کہ ’ہمیں خود فریبی کے اس آسیب سے نجات حاصل کرنا ہوگی، یہی طاقت کا اصل سرچشمہ ہے، قومی قیادت، تمام اداروں، میڈیا، دانشوروں اور عوام کو سیاسی الزام تراشیوں کے کھیل سے ہٹ کر ان باتوں کا جواب تلاش کرنا چاہیے اور حل بھی دینا چاہیے، اگر چاہتے ہیں مستقبل کل اور آ ج سے مختلف ہو اور دنیا کا کوئی ملک ہماری عزت پر حملہ نہ کرے تو ہمیں ایک زندہ قوم کے طور خود احتسابی کی مشق سے گزرنا ہوگا‘۔
ان کا کہنا تھا کہ عوام جانتے ہیں انتخابات کے حوالے سے ملکی تاریخ زیادہ اچھی نہیں رہی، کس قدر افسوس ہے، پہلے انتخابات پاکستان بننے کے 23 سال بعد ہوئے لیکن ان کے نتائج کو بھی تسلیم نہ کیا گیا اور ملک ٹوٹ گیا، اس کے بعد جتنے بھی انتخابات ہوئے اس میں عوامی رائے کو عزت و احترام سے نہ دیکھا گیا، یا تو اس پر اثر انداز ہوکر من پسند نتائج، یا پھر خلوص دل سے تسلیم نہیں کیا گیا، یہی وجہ ہے کہ شہید لیاقت علی خان سے لے کر آج تک ایک بھی وزیراعظم اپنی آئینی معیاد پوری نہ کرسکا۔
نواز شریف نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کا احترام ہونا چاہیے اور اس کے برعکس جھوٹے لوگوں کی پشت پناہی نہیں ہونی چاہیے۔
اے پی پی / سہیل/فرح











