اسلام آباد، 5 مئی (اے پی پی): وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا ۔اجلاس میں ملک میں ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے لیے تشخیصی کاؤنٹرز کے قیام اور ان کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔
وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ پاکستان میں ہیپاٹائٹس کے مریضوں کی تعداد ایک کروڑ سے زائد ہے اور ملک دنیا میں ہیپاٹائٹس سی کے بوجھ میں نمایاں حصہ رکھتا ہے جس کے پیش نظر فوری اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔انہوں نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں اسلام آباد، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں 21 تشخیصی کاؤنٹرز قائم کیے جا رہے ہیں جن میں گلگت بلتستان میں 6 اور آزاد جموں و کشمیر میں 3 کاؤنٹرز شامل ہیں جبکہ پمز ہسپتال، فیڈرل جنرل ہسپتال پولی کلینک، نرم اور سی ڈی اے کے مراکز سمیت مختلف بنیادی مراکز صحت میں یہ سہولت فراہم کی جائے گی۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ دوسرے مرحلے میں اسلام آباد میں پروگرام کا دائرہ کار 84 صحت سہولیات تک بڑھایا جائے گا جبکہ گلگت بلتستان میں 618 اور آزاد جموں و کشمیر میں 1012 مراکز تک توسیع دی جائے گی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ اسلام آباد میں قائم کیے جانے والے 12 کاؤنٹرز کو آئندہ ہفتے تک فعال کیا جائے اور متعلقہ ادارے سکریننگ کٹس اور دیگر سہولیات کی بروقت فراہمی یقینی بنائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد میں ان تشخیصی کاؤنٹرز کی سافٹ لانچنگ کی جائے گی جبکہ مثبت کیسز کی تصدیق کے لیے پی سی آر ٹیسٹ کیا جائے گا اور تمام مریضوں کو مفت علاج فراہم کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑے پیمانے پر سکریننگ، بروقت تشخیص اور مؤثر علاج کے ذریعے ہی صحت کے نظام کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ 2030 تک ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کا عہد کیا گیا ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے مربوط حکمت عملی ترتیب دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک قومی کاز ہے جس کے لیے تمام متعلقہ اداروں اور افراد کو اجتماعی کردار ادا کرنا ہوگا جبکہ حکومت کی اولین ترجیح عوام کو بیماریوں سے محفوظ رکھنا اور انسانی جانوں کا تحفظ ہے۔
اس موقع پر وفاقی ہسپتالوں کے سربراہان، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر اسلام آباد، ڈائریکٹر پروگرام ہیپاٹائٹس سی، چیف ایگزیکٹو آفیسر قومی ادارہ صحت، ڈی جی ہیلتھ، ادارہ شماریات کے سی ای او، نادرا کے نمائندے اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔











