وفاقی وزیر اورنگزیب خان کھچی نے امریکا سے واپس لائے گئے ثقافتی نوادرات کی نمائش ’’لیگیسی ریٹرنز ہوم‘‘ کا افتتاح کر دیا

6

اسلام آباد، 13 مئی (اے پی پی ): وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اورنگزیب خان کھچی نے بدھ کے روز اسلام آباد میوزیم میں ’’لیگیسی ریٹرنز ہوم‘‘ کے عنوان سے خصوصی نمائش کا افتتاح کیا، جس میں امریکا سے پاکستان واپس لائے گئے منتخب ثقافتی و تاریخی نوادرات کو عوام کیلئے پیش کیا گیا۔

افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ نمائش پاکستان کی تاریخ، تہذیب، شناخت اور قومی ورثے کے ایک اہم حصے کی واپسی کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ محض ایک نمائش نہیں بلکہ ’’پاکستان کی روح کے ایک حصے‘‘ کی وطن واپسی کا جشن ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نوادرات پاکستان کی عظیم تہذیبی تاریخ، فنکارانہ مہارت اور صدیوں پر محیط ثقافتی روایات کی نمائندگی کرتے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان دنیا کی قدیم وادیٔ سندھ تہذیب اور گندھارا فن کے عالمی شہرت یافتہ ورثے کا امین ہے، جہاں مختلف تہذیبوں، مذاہب، ثقافتوں اور افکار کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا آثارِ قدیمہ کا ورثہ آج بھی دنیا بھر کے محققین، مورخین، فنکاروں اور دانشوروں کیلئے باعثِ کشش ہے۔

انہوں نے کہا کہ غیر قانونی کھدائی، تاریخی نوادرات کی چوری اور اسمگلنگ عالمی ثقافتی ورثے کیلئے سنگین خطرہ بن چکے ہیں، جو قوموں اور آنے والی نسلوں کو ان کی شناخت اور اجتماعی یادداشت سے محروم کرتے ہیں۔ انہوں نے نوادرات کی غیر قانونی تجارت کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومتِ پاکستان ثقافتی ورثے کے تحفظ، بحالی اور غیر قانونی طور پر بیرونِ ملک منتقل کئے گئے نوادرات کی واپسی کیلئے قانونی، ادارہ جاتی اور پیشہ ورانہ اقدامات کو مزید مضبوط بنا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ثقافتی اثاثوں کی غیر قانونی اسمگلنگ کی روک تھام کیلئے بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے۔

انہوں نے پاکستان اور امریکا کے درمیان ثقافتی ورثے کے تحفظ کیلئے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان 30 جنوری 2024 کو ایک دوطرفہ معاہدہ طے پایا، جس کا مقصد پاکستان کے ثقافتی اثاثوں کا تحفظ اور نوادرات کی غیر قانونی نقل و حرکت کی روک تھام ہے۔ انہوں نے وزارتِ خارجہ اور بیرونِ ملک پاکستانی سفارتی مشنز کی کاوشوں کو بھی سراہا جنہوں نے ان نوادرات کی واپسی میں اہم کردار ادا کیا۔

وفاقی وزیر نے حکومتِ امریکا، امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں، ہوم لینڈ سیکیورٹی حکام، ثقافتی اداروں، نیویارک ڈسٹرکٹ اٹارنی آفس اور امریکی سفارتخانے کا خصوصی شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان نوادرات کی واپسی میں تعاون فراہم کیا۔ انہوں نے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اور محکمہ آثارِ قدیمہ و عجائب گھر کی جانب سے نمائش کے انعقاد کو بھی سراہا۔

تقریب کے مہمانِ خصوصی،  S. K Paul   اسسٹنٹ سیکریٹری امریکی سفارتخانہ پاکستان نے اپنے خطاب میں کہا کہ امریکا اپنی آزادی کے 200 سال مکمل ہونے کا جشن منا رہا ہے اور اس نے اپنے تاریخی و ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھنے میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلیم، صحت، زراعت، ثقافت اور ورثے سمیت مختلف شعبوں میں مضبوط دوطرفہ تعلقات موجود ہیں۔

تقریب میں پارلیمانی سیکریٹری برائے قومی ورثہ و ثقافت فرح ناز اکبر، قومی ورثہ و ثقافت کی قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن سیدہ نوشین افتخار اور رکن قومی اسمبلی طفیل جٹ نے بھی شرکت کی۔

اس موقع پر سیکریٹری قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اسد رحمان گیلانی نے کہا کہ یہ نمائش انصاف، بین الاقوامی تعاون اور انسانیت کے مشترکہ ثقافتی ورثے کے تحفظ کیلئے اجتماعی عزم کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ واپس لائے گئے نوادرات پاکستان کی تاریخی شناخت کے انمول ابواب کی نمائندگی کرتے ہیں اور قدیم تہذیبوں کی فنی، روحانی اور ثقافتی کامیابیوں کی عکاسی کرتے ہیں۔