جنیوا، 20 مئی (اے پی پی): جنیوا میں ٹی بی ویکسین ایکسیلیریٹر کونسل کے چوتھے اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے عالمی سطح پر ٹی بی کے خلاف مشترکہ کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ٹی بی آج بھی دنیا بھر میں ایک سنگین صحتِ عامہ کا چیلنج ہے جو پاکستان جیسے زیادہ بوجھ برداشت کرنے والے ممالک کو غیر متناسب طور پر متاثر کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مؤثر، قابلِ رسائی اور سستی ٹی بی ویکسین کے بغیر اس مرض کا خاتمہ ممکن نہیں۔ وفاقی وزیرِ صحت نے اپنے خطاب میں تین اہم ترجیحات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نئی ٹی بی ویکسین کو عالمی عوامی اثاثہ کے طور پر دیکھا جانا چاہیے تاکہ زیادہ متاثرہ ممالک کو قیمت یا پیداواری صلاحیت کی بنیاد پر تاخیر کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ اس مقصد کے لیے منصفانہ تقسیم کے نظام اور علاقائی سطح پر پیداواری صلاحیت میں اضافہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹی بی ویکسین کا نفاذ قومی صحت اور حفاظتی ٹیکہ جات کے نظام کے ساتھ مربوط ہونا چاہیے جس میں بنیادی صحت کی سہولیات، نگرانی کے نظام، لیبارٹری نیٹ ورکس اور ڈیجیٹل ہیلتھ انفراسٹرکچر شامل ہوں۔
وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ پاکستان نے ملک میں تیاری، آگاہی اور کمیونٹی شراکت داری کے لیے ورکنگ گروپ کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ٹی بی ویکسین کے لیے مستقل اور قابلِ پیش گوئی فنڈنگ یقینی بنائی جائے کیونکہ ٹی بی ویکسین کی تیاری تیز کرنے کے لیے عالمی سطح پر پائیدار مالی وسائل کی فراہمی ناگزیر ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ جی-20 سمیت دیگر فورمز پر ٹی بی ویکسین کی مالی معاونت کو ترجیح دی جائے۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان ٹی بی کے خاتمے کے لیے اپنی قومی کوششوں کو مزید مضبوط بنائے گا اور ٹی بی ویکسین کی تحقیق، تیاری اور منصفانہ تقسیم کے لیے عالمی شراکت داری کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹی بی کے خلاف جنگ فوری اقدامات، جدت اور عالمی یکجہتی کی متقاضی ہے اور مشترکہ کوششوں سے لاکھوں جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔











