اسلام آباد، 08جون (اے پی پی ): چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد نےپیر کو بی آئی ایس پی ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں نئے ڈیجیٹل والٹس اور بینظیر سمز کی فراہمی کے حوالے سے پریس بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام پاکستان کا ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں مستحق خواتین کی معاشی خود مختاری اورمالی شمولیت کا ایک مثالی پروگرام کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف ممالک اور بین الاقوامی ادارے بی آئی ایس پی کے ماڈل سے سیکھ رہے ہیں، تاہم افسوس کی بات ہے کہ ملک کے اندر اس پروگرام کے بارے میں غلط معلومات اور منفی پروپیگنڈہ پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کے ایک کروڑ سے زائد مستحق خاندانوں کی کفالت کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے وژن کا تسلسل ہے اور ریاست پاکستان غریب اور سفید پوش طبقے کی عزتِ نفس کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے اس پروگرام کو چلا رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ کوئی خیرات یا بھیک نہیں بلکہ ضرورت مند خاندانوں کی معاونت کا ایک باوقار نظام ہے۔
چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے کہا کہ صدرِ پاکستان اور وزیراعظم پاکستان کو اس پروگرام پر مکمل اعتماد ہے، جس کا ثبوت یہ ہے کہ گزشتہ دو برس سے وزیراعظم رمضان ریلیف پیکیج کی تقسیم بھی بی آئی ایس پی کے تحت بذریعہ ڈیجیٹل والٹس کامیابی سے کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے غریب اور محنت کش طبقے کی تذلیل کسی صورت قابل قبول نہیں اور جن لوگوں نے ان مستحق خاندانوں کی عزتِ نفس مجروح کی ہے، انہیں معذرت کرنی چاہیے۔
سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ بی آئی ایس پی اپنے نظام میں مسلسل بہتری لا رہا ہے۔ مستحق خواتین کو بااختیار بنانے اور ادائیگیوں کے نظام میں مزید شفافیت لانے کے لیے ڈیجیٹل والٹس کا نظام متعارف کروایا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک 80 لاکھ سے زائد مفت بینظیر سمز خواتین بینیفشریز میں تقسیم کی جا چکی ہیں اور ان کے ڈیجیٹل والٹس کھولے جا رہے ہیں تاکہ کٹوتیوں اور غیر ضروری مشکلات کا خاتمہ ہو سکے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ بی آئی ایس پی نے انٹرآپریبلٹی (Interoperability) کا نظام بھی متعارف کروایا ہے جس کے تحت مستحق خواتین اپنی سہولت کے مطابق مختلف بینکوں کے ذریعے اپنی رقوم حاصل کر سکیں گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جولائی 2026 سے بی آئی ایس پی کی تمام ادائیگیاں صرف ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے کی جائیں گی۔ جن مستحق خواتین کے بائیومیٹرک مسائل ہیں یا جن کے انگوٹھوں کے نشانات واضح نہیں، وہ بینک اکاؤنٹس کے ذریعے بھی اپنی رقوم وصول کر سکیں گی۔
چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے کہا کہ شفافیت کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ری سرٹیفکیشن کا نظام متعارف کروایا گیا ہے، جس کے تحت ہر تین سال بعد مستحق خاندانوں کی دوبارہ جانچ پڑتال کی جاتی ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ پروگرام سے صرف حقیقی مستحق افراد ہی مستفید ہو رہے ہیں اور جن خاندانوں کی مالی حالت بہتر ہو چکی ہو ان کی جگہ نئے مستحق خاندانوں کو شامل کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ بی آئی ایس پی کا قومی سماجی و معاشی ڈیٹا پورے ملک میں مستند سمجھا جاتا ہے اور تمام صوبائی حکومتیں اپنی مختلف فلاحی سکیموں، سبسڈیز اور امدادی پروگراموں کے لیے اسی ڈیٹا سے استفادہ کرتی ہیں۔
سینیٹر روبینہ خالد نے بینظیر نشوونما پروگرام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت 22 لاکھ سے زائد حاملہ خواتین اور مائیں اس پروگرام میں رجسٹرڈ ہیں، جبکہ ماں اور بچے کی صحت اور غذائیت بہتر بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ اس پروگرام کی بدولت پاکستان میں سٹنٹنگ کی شرح میں 22 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بینظیر ہنر مند پروگرام کے تحت نوجوانوں کو فنی تربیت فراہم کی جا رہی ہے، ایک ہزار سے زائد نوجوان سرٹیفکیٹس حاصل کر چکے ہیں جبکہ مزید پانچ ہزار تربیت کے مختلف مراحل میں ہیں۔
چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ بینظیر تعلیمی وظائف پروگرام کے تحت اس وقت ایک کروڑ بیس لاکھ سے زائد بچے تعلیمی معاونت حاصل کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 503 طلبہ و طالبات نے میٹرک کے امتحانات میں A+ گریڈ حاصل کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بی آئی ایس پی ملک بھر میں اپنے’647 مراکز‘کے ذریعے مستحق خاندانوں کو خدمات فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو مزید شفاف، مؤثر اور عوام دوست بنایا جائے گا اور غریب و کمزور طبقات کی فلاح و بہبود کے لیے تمام ممکنہ اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔











