خطے اور دنیا میں امن و استحکام اور خوشحالی کو فروغ دینے کیلئے روسی فیڈریشن کے ساتھ شراکت داری کو مزید مضبوط بنائیں گے، صدر مملکت آصف علی زرداری کا روسی فیڈریشن کے قومی دن کے موقع پر خطاب

5

اسلام آباد،10جون  (اے پی پی):صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ خطے اور دنیا میں امن و استحکام اور خوشحالی کو فروغ دینے کے لیے روسی فیڈریشن کے ساتھ شراکت داری کو مزید مضبوط بنائیں گے، پاکستان روس کو ایک عالمی طاقت اور قابل اعتماد شراکت دار کی حیثیت سے قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ صدر مملکت نے ان خیالات کا اظہار بدھ کو یہاں روسی فیڈریشن کے قومی دن کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں سرکاری حکام، غیر ملکی سفیروں، ذرائع ابلاغ کے نمائندوں اور دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔ صدر مملکت نے کہا کہ آج روسی فیڈریشن کے قومی دن کی تقریب میں شرکت میرے لیے باعث مسرت ہے، یہ تقریب روس کی قومی خودمختاری، اس کی شاندار تاریخ اور اس کے عوام کے عزم و حوصلے کی عکاس ہے۔ انہوں نے حکومت پاکستان، پاکستانی عوام اور اپنی جانب سے روسی فیڈریشن کے صدر ولاڈیمر پیوٹن، روس کے سفیر البرٹ خوریف اور روسی عوام کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہیں 2011ء میں اپنے روس کے دورے کی خوشگوار یادیں آج بھی یاد ہیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ میں صدر پیوٹن کے اس اہم کردار کا اعتراف کرنا چاہتا ہوں جس نے دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں مدد دی۔ انہوں نے کہا کہ برسوں کے دوران پاکستان اور روس نے باہمی احترام، اعتماد اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر اپنے تعلقات کو مستحکم بنانے کے لیے مسلسل کام کیا ہے، ان تعلقات کی بنیادوں کو شہید ذوالفقار علی بھٹو کی بصیرت اور مدبرانہ قیادت نے بھی مضبوط کیا جنہوں نے سابق سوویت یونین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو فروغ دینے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ اس ورثے کو بعد ازاں شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے آگے بڑھایا جو پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعظم تھیں، ان کی قیادت نے عالمی تبدیلیوں کے دور میں دونوں ممالک کے درمیان روابط کو نئی جہت دی اور تعاون کو وسعت بخشی۔ صدر مملکت نے کہا کہ بعد ازاں میرے صاحبزادے بلاول بھٹو زرداری نے جو پاکستان کے کم عمر ترین وزیر خارجہ رہے، فعال سفارتی روابط کے ذریعے اس روایت کو جاری رکھا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے وزراء اور اعلیٰ حکام کے درمیان باقاعدہ روابط اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ دونوں ممالک کے تعلقات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں، جیسا کہ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے رواں سال کہا تھا کہ پاکستان اور روس کے تعلقات کئی دہائیوں میں مثبت سطح پر ہیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان روس کو ایک عالمی طاقت اور قابل اعتماد شراکت دار کی حیثیت سے قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، ہم خودمختار مساوات، مکالمے اور  گلوبل سائوتھ کی مضبوط آواز کے مشترکہ نظریے پر یقین رکھتے ہیں، یہی اصول کثیرالجہتی فورمز میں ہمارے تعاون کی رہنمائی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ توانائی، صنعت، زراعت اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں ہمارا تعاون مسلسل فروغ پا رہا ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ آج تقریباً 1,300 پاکستانی طلبہ روس میں زیر تعلیم ہیں جن میں سے کئی روسی وظائف پر تعلیم حاصل کررہے ہیں، یہ طلبہ ہمارے معاشروں کے درمیان ایک مضبوط پل کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اعلیٰ سطحی روابط کے تسلسل کے ذریعے اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور پاکستان-روس تعلقات کی مکمل صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کے خواہاں ہیں۔ صدر مملکت نے اس موقع پر پاکستان کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ہم اس اہم شراکت داری کو مزید مضبوط بنائیں گے تاکہ ہمارے عوام کے ساتھ ساتھ خطے اور دنیا میں امن، استحکام اور خوشحالی کو فروغ مل سکے۔  انہوں نے کہا کہ میری دعا ہے کہ روسی فیڈریشن مزید ترقی اور خوشحالی حاصل کرے اور پاکستان اور روس کے درمیان دوستی کے رشتے مزید مستحکم ہوں۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے روسی فیڈریشن کے سفیر البرٹ خوریف نے پاکستان آرمی کے ایم-17 ہیلی کاپٹر حادثے پر دلی تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے روس کے قومی دن کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ دن روسی قوم کے عزم، وژن اور ثابت قدمی کی یاد دلاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ روسی صدر نے سال 2026ء کو روسی عوام کے اتحاد کا سال قرار دیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ روس کی طاقت کثیرالجہتی تعاون اور شراکت داری میں مضمر ہے۔ انہوں نے روس-یوکرین جنگ کے حوالے سے پاکستان کے متوازن اور غیر جانبدار موقف کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان جاری روابط کو عوامی سطح پر تعلقات کے فروغ کے ذریعے مزید استحکام اور وسعت دی جانی چاہیے۔سفیر نے پاکستان اور روس کے درمیان تعلقات کے مزید مضبوط، خوشحال اور نتیجہ خیز ہونے کے لیے نیک خواہشات کا بھی اظہار کیا۔ قبل ازیں تقریب کا آغاز روس اور پاکستان کے قومی ترانوں کی دھنوں سے ہوا۔ تقریب میں روسی ثقافتی شو بھی پیش کیا گیا۔