اسلام آباد جون23 (اے پی پی): وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے بین الاقوامی سطح پر ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں بطور ثالث ایک اہم اور مؤثر کردار ادا کیا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ سوئٹزرلینڈ کے شہر برگناسٹاک میں ہونے والے ان مذاکرات میں دونوں فریقین کی اعلیٰ قیادت نے شرکت کی، جہاں طویل مشاورت کے بعد ایک مشترکہ اعلامیہ پر اتفاق کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ پیش رفت پاکستان کی سفارتی کامیابی ہے، جس کے نتیجے میں ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کی جانب اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ وزیراعظم کے مطابق آئندہ 60 روز میں تکنیکی مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا، جس میں اہم امور زیر غور آئیں گے۔
ان امور میں جوہری اثاثے، بیلسٹک میزائلز اورمنجمد اثاثوں سے متعلق معاملات شامل ہوں گے، اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ یہ عمل ایک دیرپا معاہدے کی صورت اختیار کرے گا۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کا یہ کردار خطے میں امن، استحکام اور مکالمے کے فروغ کے لیے ایک مثبت قدم ہے، جسے عالمی سطح پر بھی سراہا جا رہا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ حالیہ بین الاقوامی سفارتی عمل میں پاکستان نے انتہائی اہم اور مثبت کردار ادا کیا ہے، جسے عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی میڈیا، جن میں واشنگٹن پوسٹ، فنانشل ٹائمز اور نیو یارک ٹائمز جیسے معتبر اخبارات شامل ہیں، نے پاکستان کے کردار کو نمایاں طور پر اجاگر کیا ہے، جس سے ملک کے بارے میں ایک مثبت عالمی بیانیہ سامنے آیا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ اگر یہی مثبت تشخص سفارتی سطح پر نہ ملتا تو اس کے لیے اربوں روپے کی مہم بھی اس قدر مؤثر ثابت نہ ہوتی۔انہوں نے کہا کہ آج ایران کے صدرڈاکٹر مسعود پزشکیان پاکستان کے دورے پر آ رہے ہیں، جس سے دونوں برادر ممالک کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔
وزیراعظم کے مطابق پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکراتی عمل میں بھی تعمیری کردار ادا کیا ہے، اور آئندہ دنوں میں اس مکالمے کے ذریعے خطے میں پائیدار امن کے امکانات مزید روشن ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ وقت اختلافات کا نہیں بلکہ قومی اتحاد اور اتفاق کا ہے، اور حکومت تمام صوبوں کے ساتھ مل کر ملک کی ترقی اور استحکام کے لیے کام کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ مالیاتی اور ترقیاتی پالیسیوں کے تحت صوبوں کے درمیان وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا گیا ہے، جبکہ خاص طور پر بلوچستان جیسے پسماندہ علاقوں کے لیے اضافی وسائل فراہم کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت بین الصوبائی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کے فروغ کے لیے پرعزم ہے تاکہ پاکستان کو معاشی اور سفارتی سطح پر مزید مستحکم بنایا جا سکے۔
قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ 2018 کے عام انتخابات کے طریقۂ کار اور اس کے نتائج پر سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں، اور اگر اس پر شفاف تحقیقات کی جائیں تو تمام حقائق سامنے آ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انتخابات کے دوران مبینہ بے ضابطگیوں، انتظامی اقدامات اور انتخابی عمل سے متعلق الزامات پر تفصیلی جائزہ لیا جانا چاہیے تاکہ “دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی” ہو سکے۔انہوں نے کہا نے کہا کہ اگر 2018 کے انتخابات کو جائز اور شفاف قرار دیا جاتا ہے تو پھر 2024 کے انتخابات پر بھی اسی معیار کے تحت بحث ہونی چاہیے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے تجویز دی کہ انتخابی عمل سے متعلق تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا جائے اور 2018 سے لے کر 2024 تک تمام انتخابی مراحل کا جائزہ لیا جائے تاکہ شفافیت اور اعتماد بحال ہو سکے۔
انہوں نے کہا کہ ایوان کو اختلافات کی بجائے قومی معاملات اور مثبت پیش رفت پر توجہ دینی چاہیے، اور حالیہ سفارتی و سیاسی کامیابیوں پر قوم کو متحد ہو کر خوشی منانی چاہیے۔بعد ازاں انہوں نے اپنی گفتگو اختتام پذیر کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں قومی اتحاد اور یکجہتی کو ترجیح دی جانی چاہیے۔











