اقوام متحدہ، 23 جون (اے پی پی): اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پاکستان اور ڈنمارک کی جانب سے پیش کی گئی ایک اہم قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی، جس کا مقصد اقوام متحدہ کے امن دستوں کے اہلکاروں کے خلاف کیے جانے والے جرائم پر احتساب کو مزید مؤثر بنانا ہے۔
اس قرارداد کے حق میں سلامتی کونسل کے تمام 15 اراکین نے ووٹ دیا، جبکہ اسے اقوام متحدہ کے 153 رکن ممالک کی مشترکہ سرپرستی حاصل ہوئی، جو سلامتی کونسل کی کسی بھی قرارداد کے لیے اب تک موصول ہونے والی سب سے زیادہ مشترکہ سرپرستی ہے۔
اس غیر معمولی حمایت سے اقوام عالم کے اس مضبوط عزم کا اظہار ہوتا ہے کہ اقوام متحدہ کے امن دستوں پر حملوں کے مرتکبین کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے اور دنیا بھر میں امن مشنز میں خدمات انجام دینے والے اہلکاروں کے تحفظ اور سلامتی کو مزید یقینی بنایا جائے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے قرارداد سلامتی کونسل میں پیش کی۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں امن اہلکاروں کے خلاف جرائم پر احتساب سے متعلق مسودۂ قرارداد پیش کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ پاکستان کو ڈنمارک کے ساتھ مل کر اس قرارداد کا مسودہ سلامتی کونسل کے سامنے پیش کرنے کا اعزاز حاصل ہے، جو اقوام متحدہ کے امن دستوں کے خلاف جرائم کے ارتکاب پر احتساب سے متعلق ہے۔
انھوں نے اس اہم اقدام پر ڈنمارک کے ساتھ قریبی شراکت داری پر شکریہ ادا کرتے ہوۓ کہا کہ 2025 میں جمہوریہ کوریا کے ساتھ سہ فریقی تعاون کے آغاز کے بعد، پاکستان اور ڈنمارک نے 2026 میں سلامتی کونسل کے “امن آپریشنز جوڑے کے طور پر مل کر کام جاری رکھا ہے تاکہ بین الاقوامی امن و سلامتی کے قیام و استحکام کے اس اہم ذریعہ پر کونسل کی توجہ مرکوز رکھی جا سکے۔
انھوں نے کہا کہ ڈنمارک اور پاکستان کے لیے، اور درحقیقت ان ریکارڈ تعداد میں رکن ممالک کے لیے جنہوں نے اس اقدام کی مشترکہ سرپرستی اور حمایت کی ہے، “امن اہلکاروں کے خلاف جرائم پر احتساب” کا معاملہ غیرمعمولی اہمیت کا حامل ہے۔ پاکستان اقوام متحدہ کے امن مشنز میں فوجی دستے فراہم کرنے والے سب سے بڑے اور طویل عرصے سے خدمات انجام دینے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔
گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران 270,000 سے زائد پاکستانی امن اہلکار اقوام متحدہ کے پرچم تلے خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔ اس لیے ہم امن کاری کی انسانی قیمت سے بخوبی آگاہ ہیں اور یہ جانتے ہیں کہ امن اہلکاروں کی حفاظت اور سلامتی کو مؤثر احتساب کے ذریعے مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔
پاکستان نے اقوام متحدہ میں امن کاری کی پالیسی کی تشکیل اور ارتقا میں بھی مسلسل فعال کردار ادا کیا ہے۔ 2013 میں پاکستان نے تاریخی قرارداد 2086 کی منظوری میں قیادت فراہم کی، جو کثیرالجہتی امن کاری سے متعلق تھی اور سلامتی کونسل کی جانب سے امن کاری پر مرکوز پہلی جامع قرارداد تھی۔











