عمر خالد کا مودی سے اختلاف رائے، بھارتی نوجوان کا مستقبل جیل کی نذر ہونے پر سنگین سوالات

6

اسلام آباد، 02 جولائی (اے پی پی ):نوجوان بھارتی طالبعلم عمر خالد کا مستقبل مودی حکومت کے سخت ریاستی اقدامات اور الزامات کی زد میں آ گیا ہے۔ عالمی جریدہ دی  گارڈین کے مطابق 2019 میں ملک بھر میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران نوجوان عمر خالد مودی حکومت کیلئے پہلا بڑا چیلنج تھا۔ستمبر 2020 میں  مودی حکومت نے  نوجوان طالبعلم عمر خالد کو دہشتگرد قرار دے کر جیل بھیج دیا۔ بھارتی حکومت نے عمر خالد پر دہلی کے فرقہ وارانہ فسادات اور حکومت کی تبدیلی کی سازش کا الزام عائد کیا۔ مودی حکومت کے زیر اثر بھارتی میڈیا عمرخالد کو نفرت انگیز انداز میں مسلمان دہشتگرد اور ملک دشمن قرار دیتا ہے۔عمر خالد  نے مودی حکومت کیخلاف 20 کروڑ بھارتی مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں کیساتھ  ہراسانی اور امتیازی سلوک پر آواز اٹھائی تھی۔

سینئر کانگریس رہنما راشد علوی نے بھی بغیر ٹرائل اور ضمانت کے عمرخالد کی طویل قید کو بھارت کی بدنامی قرار دیا۔عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں نے عمرخالد کی بغیر  ٹرائل تقریباً 6 سالہ قید کوغیر منصفانہ قراردے کر سخت تنقید کی۔ نیویارک کے میئر زوہران ممدانی نے بھی جبری قید پرعمرخالد کو اظہار یکجہتی کیلئے خود پیغام لکھ کربھیجا۔

بھارتی ریسرچر ڈاکٹر بنوجیوتسنا لاہری کے مطابق کسی شخص کو بغیر مقدمے کے قید رکھنا انسانی آزادی اور وقار کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔