آئی ایس ایس آئی کے زیرِ اہتمام مصر کے یومِ انقلاب کی تقریب، پاک۔مصر تعلقات کے فروغ پر زور

6

اسلام آباد، 22 جولائی (اے پی پی):انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) کے سینٹر فار افغانستان، مڈل ایسٹ اینڈ افریقہ  نے پاکستان افریقہ انسٹی ٹیوٹ فار ڈویلپمنٹ اینڈ ریسرچ(پی اے آئی ڈی اے آر) کے اشتراک سے مصر کے یومِ انقلاب کی مناسبت سے ایک تقریب کا انعقاد کیا۔

تقریب کا آغاز پاکستان اور مصر کے قومی ترانوں سے ہوا۔ تقریب میں ڈائریکٹر جنرل آئی ایس ایس آئی سفیر معین الحق، چیئرمین بورڈ آف گورنرز آئی ایس ایس آئی سفیر خالد محمود، صدر پیڈار سینیٹر مشاہد حسین سید، مصر میں پاکستان کے سفیر عامر شوکت اور ڈائریکٹر(سی اے ایم ای اے )ڈاکٹر آمنہ خان نے خطاب کیا۔

 تقریب کے مہمانِ خصوصی پاکستان میں مصر کے سفیر ڈاکٹر ایہاب عبدالحمید حسن جبکہ اعزازی مہمان وزارتِ خارجہ کے ایڈیشنل فارن سیکریٹری (افریقہ) سفیر حمید اصغر خان تھے۔

ڈائریکٹر جنرل آئی ایس ایس آئی سفیر معین الحق نے مصر کی عظیم تہذیبی وراثت اور عرب، افریقی اور اسلامی دنیا میں اس کے کلیدی کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور مصر کے درمیان تعلقات مشترکہ تاریخ، باہمی احترام اور قریبی تعاون پر استوار ہیں۔ انہوں نے پاکستان کی “اینگیج افریقہ” پالیسی میں مصر کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے مصری تھنک ٹینکس اور جامعات کے ساتھ تحقیق اور پالیسی مکالمے کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔

پاکستان میں مصر کے سفیر ڈاکٹر ایہاب عبدالحمید حسن نے کہا کہ 23 جولائی 1952 کا انقلاب مصر کی جدید تاریخ کا ایک فیصلہ کن موڑ تھا، جس نے قومی آزادی، خودمختاری اور سماجی انصاف کے اصولوں کو تقویت دی اور عرب دنیا، افریقہ اور گلوبل ساؤتھ کی آزادی کی تحریکوں کے لیے بھی تحریک کا باعث بنا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور مصر کے تعلقات مختلف شعبوں میں مضبوط ہو رہے ہیں اور تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، تعلیم، ثقافت اور عوامی روابط میں مزید تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں۔

ڈاکٹر آمنہ خان نے اپنے خطاب میں 23 جولائی 1952 کے انقلاب کی تاریخی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے پاکستان اور مصر کے دیرینہ دوستانہ تعلقات اور علاقائی امور پر مشترکہ مؤقف کا ذکر کیا۔ انہوں نے افریقہ کے ساتھ پاکستان کے روابط کو تحقیق اور مکالمے کے ذریعے مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔

سینیٹر مشاہد حسین سید نے مصر کو عرب دنیا کا محور قرار دیتے ہوئے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح نے بھی مصر کا دورہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ 1952 کا مصری انقلاب عرب دنیا میں قومی تحریکوں کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا اور پاک۔مصر تعلقات کی اسٹریٹجک اہمیت آج بھی برقرار ہے۔

مصر میں پاکستان کے سفیر عامر شوکت نے دونوں ممالک کے درمیان مضبوط سیاسی روابط اور حالیہ دوطرفہ مشاورت کی بحالی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے تجارت، سرمایہ کاری، تعلیمی تبادلوں اور تھنک ٹینکس کے درمیان تعاون بڑھانے پر زور دیا۔

ایڈیشنل فارن سیکریٹری (افریقہ) سفیر حمید اصغر خان نے مصر کی تہذیبی، ثقافتی اور علمی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ قاہرہ تاریخ، علم اور مذہبی تنوع کا اہم مرکز ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی امن، جنوبی۔جنوبی تعاون اور اقتصادی روابط کے فروغ میں مصر پاکستان کا اہم شراکت دار ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، سیاحت اور عوامی روابط کے شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

اختتامی کلمات میں چیئرمین بورڈ آف گورنرز آئی ایس ایس آئی سفیر خالد محمود نے مصر کے یومِ انقلاب کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مصر خطے میں امن، سلامتی اور ترقی کے فروغ میں ایک بااثر شراکت دار ہے۔ انہوں نے پاکستان اور مصر کے دیرینہ دوستانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا۔