اسلام آباد، 13 اگست(اے پی پی): بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ہیڈکوارٹرز میں پاکستان کے 79ویں یومِ آزادی کے موقع پر پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں چیئرپرسن بی آئی ایس پی سینیٹر روبینہ خالد، سیکرٹری بی آئی ایس پی عامر علی احمد، ایڈیشنل سیکرٹری ڈاکٹر عصمت نواز، افسران و ملازمین، بی آئی ایس پی سے منسلک خاندانوں اور بینظیر تعلیمی وظائف پروگرام سے مستفید ہونے والے بچوں نے شرکت کی۔
تقریب کا آغاز چیئرپرسن بی آئی ایس پی سینیٹر روبینہ خالد نے پودا لگا کر ‘‘سرسبز پاکستان، بینظیر پاکستان’’
شجرکاری مہم کے آغاز سے کیا۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے شدید اثرات کے پیش نظر شجرکاری اب صرف ایک مہم نہیں بلکہ قومی ذمہ داری بن چکی ہے، اس لیے ہر پاکستانی کو زیادہ سے زیادہ درخت لگانے اور ان کی حفاظت میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ شجرکاری مہم کو صرف یومِ آزادی تک محدود نہیں رکھا جائے گا بلکہ اسے سال بھر جاری رکھا جائے گا تاکہ آنے والی نسلوں کو محفوظ، سرسبز اور خوشحال پاکستان دیا جا سکے۔
بعد ازاں چیئرپرسن بی آئی ایس پی، سیکرٹری بی آئی ایس پی اور ایڈیشنل سیکرٹری نے بینظیر تعلیمی وظائف پروگرام سے مستفید ہونے والے بچوں کے ہمراہ یومِ آزادی کا کیک کاٹا اور بچوں میں تحائف تقسیم کیے۔
تقریب کے دوران سوات میں گزشتہ سال سیلاب کے دوران خدمات انجام دینے والے ڈاکٹروں، پیرامیڈیکل عملے اور رضاکاروں کو ان کی بے لوث خدمات کے اعتراف میں تعریفی اسناد بھی پیش کی گئیں۔ سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ مشکل کی ہر گھڑی میں انسانیت کی خدمت کرنے والے یہ افراد پوری قوم کے ہیرو ہیں۔
اپنے خطاب میں سینیٹر روبینہ خالد نے پوری قوم کو یومِ آزادی کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے بے شمار وسائل سے نوازا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اجتماعی سوچ، خوداحتسابی اور قومی خدمت کے جذبے کے ساتھ آگے بڑھیں۔ انہوں نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے اس وژن کی عملی تعبیر ہے جس کا مقصد معاشرے کے کمزور اور مستحق طبقات کو عزت، تحفظ اور بااختیار بنانا تھا۔
چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے کہا کہ پروگرام ملک بھر میں ایک کروڑ سے زائد خاندانوں کو سماجی تحفظ فراہم کر رہا ہے اور خواتین بینیفشریز کو شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو اپنا رول ماڈل بنانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بی آئی ایس پی نے ادائیگیوں کے نظام میں انقلابی اصلاحات متعارف کرائی ہیں اور ڈیجیٹل والٹ کا نظام اسی سلسلے کی اہم کڑی ہے، جس کے ذریعے انٹرآپریبلٹی کی سہولت کے بعد خواتین بینیفشریز ملک کے کسی بھی شہر میں کسی بھی وقت مجاز بینک ایجنٹ سے اپنی رقوم وصول کر سکیں گی۔
سینیٹر روبینہ خالد نے افواجِ پاکستان کو وطن کے دفاع اور امن و استحکام کے لیے خدمات اور قربانیوں پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی خدمات پوری قوم کے لیے باعثِ فخر ہیں۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ دنیا کے سامنے پاکستان کا مثبت اور پُرامن کردار اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ تقریب کے اختتام پر پاکستان کی سلامتی، استحکام، ترقی اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔











