لاہور ، 22 اگست ( اے پی پی): وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ملک میں حالیہ مون سون بارشوں اور ان سے ہونے والے نقصانات کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں وزیراعظم نے حالیہ بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کی مالی معاونت کرتے ہوئے کہا کہ سیلاب میں جاں بحق ہونے والے تمام افراد کے خاندانوں کی مالی معاونت کی جائے جبکہ سیلاب اور بارشوں میں مکمل طور پر تباہ ہونے والے اور جزوی طور پر تباہ شدہ گھروں کے مالکان کی بھی مالی معاونت کی جائے۔
وزیراعظم نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بجلی کی ترسیل کے نظام اور سڑکوں کی بحالی جلد از جلد مکمل کرنے سمیت متعلقہ وفاقی وزراء اور سیکریٹریز کو متاثرہ علاقوں میں جا کر بارشوں سے ہونے والے نقصان کا خود جائزہ لینے اور بحالی کا کام شروع کروانے کی ہدایت کی۔
وزیراعظم نے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں مزید تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ان تمام متاثرہ علاقوں میں اشیاء خوردونوش اور دیگر امدادی سامان جلد از جلد پہنچایا جائے جہاں اب تک بوجہ رسائی امدادی سامان نہیں پہنچ سکا۔
وزیراعظم نے آئندہ بارشوں اور سیلاب کے پیش نظر این ڈی ایم اے اور صوبائی ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیوں کو امدادی کارروائیوں کے لیے مکمل طور پر تیار رہنے کی ہدایت کی۔
اجلاس میں وزیراعظم کو مون سون 2026 کے اثرات اور صوبوں اور این ڈی ایم اے کی جانب سے امدادی کارروائیوں کی پیشرفت کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملک کے تمام متاثرہ علاقوں میں سیلاب متاثرین کی محفوظ مقامات پر بروقت منتقلی کی جا چکی ہے جبکہ مزید بارشوں اور سیلاب کے پیش نظر این ڈی ایم اے اور صوبائی ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیوں کی ٹیمز عوام کی مدد کے لیے تیار ہیں۔
اس کے علاوہ بتایا گیا کہ پورے ملک میں مون سون بارشوں سے متاثرہ علاقوں میں اب تک مجموعی طور پر 615 ٹن امدادی سامان بھیجا جا چکا ہے اور مزید امدادی سامان بھیجنے کے حوالے سے اقدامات لیے جا رہے ہیں۔پنجاب، سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں انفراسٹرکچر کی بحالی کا کام تیزی سے جاری ہے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ شمالی علاقوں میں ارلی وارننگ سسٹم فعال ہیں ،ارلی وارننگ سسٹم کی بدولت سیلاب سے قبل متعدد شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔











