چارسدہ، 28 اگست (اے پی پی): وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے فیڈرل کانسٹیبلری ٹریننگ سینٹر شب قدر کا دورہ کیا جہاں انہوں نے اینٹی رائٹ ونگ کی خصوصی تربیتی مشقوں کا معائنہ کیا اور اہلکاروں کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں،جدید تربیت اور آپریشنل تیاری کو سراہا۔ دورے کے دوران وزیر داخلہ نے اینٹی رائٹ ونگ کے اہلکاروں کی مختلف عملی مشقیں دیکھیں جن میں ہجوم کو کنٹرول کرنے، حساس مقامات کے تحفظ، پرتشدد صورتحال سے نمٹنے اور امن و امان برقرار رکھنے سے متعلق مہارت کا عملی مظاہرہ کیا گیا۔
اس موقع پر محسن نقوی نے کہا کہ اینٹی رائٹ فورس کو جدید خطوط پر تربیت دی گئی ہے اور امن و امان کی کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے فورس مکمل طور پر تیار اور بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملک کے امن و امان اور استحکام کو کسی صورت سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ پرامن احتجاج ہر شہری کا حق ہے اور قانون نے اس کا طریقہ کار واضح طور پر متعین کر رکھا ہے، اس لیے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے پرامن احتجاج پر کسی کو اعتراض نہیں ہو سکتا۔ تاہم احتجاج کی آڑ میں تشدد، توڑ پھوڑ، سرکاری یا نجی املاک کو نقصان پہنچانے اور امن و امان خراب کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جا سکتی۔ وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ ریاست امن و امان برقرار رکھنے کی اپنی ذمہ داری پوری کرے گی اور قانون ہاتھ میں لینے والے عناصر سے قانون کے مطابق نمٹا جائے گا۔
محسن نقوی نے کہا کہ امن و امان کی موجودہ صورتحال میں فیڈرل کانسٹیبلری کا کردار پورے ملک میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اہلکاروں کو ہر قسم کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہنا ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تربیت بھرپور طریقے سے مکمل کی جائے اور مکمل پیشہ وارانہ تیاری کے ساتھ میدان میں اترا جائے۔ وزیر داخلہ نے بتایا کہ اہلکاروں کو بین الاقوامی معیار کا جدید پروٹیکشن گیئر فراہم کیا جا رہا ہے تاکہ فیلڈ میں ان کی حفاظت اور آپریشنل استعداد کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس کے ساتھ انہوں نے تمام جوانوں کو گیس ماسک فراہم کرنے کی ہدایت بھی دی۔
دورے کے دوران وفاقی وزیر داخلہ نے ایف سی ہیڈکوارٹر میں کھیلوں کی بہترین سہولتیں فراہم کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ عالمی معیار کا سوئمنگ پول بھی بنایا جائے گا۔ انہوں نے بیرکس کا دورہ کر کے اہلکاروں سے ملاقات کی اور ان کے مسائل سنے۔ محسن نقوی نے ایف سی ہیڈکوارٹر میں اہلکاروں کے تمام واش رومز ازسرنو تعمیر کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے اہلکاروں سے لوڈشیڈنگ کی صورتحال بھی دریافت کی جس پر اہلکاروں نے بتایا کہ اب لوڈشیڈنگ نہیں ہوتی اور بلا تعطل بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔ اہلکاروں نے مسئلہ حل کرانے پر وفاقی وزیر داخلہ کا شکریہ ادا کیا۔ وزیر داخلہ نے ایک اہلکار کی والدہ کے کینسر کے علاج کے لیے فوری اقدامات کی ہدایت بھی کی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ زیر تربیت اہلکاروں میں تمام صوبوں سمیت آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو نمائندگی حاصل ہے جبکہ تربیتی پروگرام میں پہلی مرتبہ 35 خواتین اہلکار بھی شامل ہیں۔ اس موقع پر آئی جی فیڈرل کانسٹیبلری، ڈی آئی جی ٹریننگ، ڈی او ایف سی اور دیگر اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔











