اسلام آباد، 28 اگست (اے پی پی): قومی اسمبلی نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) اسلام آباد میں حالیہ آتشزدگی کے افسوسناک واقعے کے نتیجے میں معصوم نومولود بچوں کی قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔
قومی اسمبلی کی جانب سے منظور کی گئی قرارداد میں واقعے کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ واقعے کے حقائق معلوم کیے جائیں، ذمہ داری کا تعین کیا جائے اور غفلت یا حفاظتی انتظامات میں کوتاہی کے مرتکب افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔
قرارداد میں حکومت پر زور دیا گیا کہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام کے لیے وفاقی حکومت کے ہسپتالوں میں فائر سیفٹی اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے اقدامات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
قرارداد میں بالخصوص نومولود اور بچوں کے وارڈز میں فائر سیفٹی اور ایمرجنسی تیاری کے مؤثر انتظامات یقینی بنانے پر زور دیا گیا تاکہ ایسے سانحات دوبارہ رونما نہ ہوں۔
قومی اسمبلی نے جاں بحق بچوں کے لواحقین سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ انہیں اس گہرے صدمے کو برداشت کرنے کی ہمت اور حوصلہ عطا فرمائے۔
قومی اسمبلی نے سانحہ پمز پر کمیٹی بنانے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی۔ قومی اسمبلی کا اجلاس قائم مقام اسپیکر سید غلام مصطفیٰ شاہ کی صدارت میں پارلیمنٹ ہاوس میں منعقد ہوا۔
ایوان نے قومی اسمبلی اور سینیٹ کی خصوصی پارلیمانی کمیٹی برائے سانحہ پمز بنانے کی تحریک بھی منظور کرلی، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اپوزیشن کو بھی اس پارلیمانی کمیٹی میں شمولیت کی تجویز دی۔
اجلاس کے دوران حکومتی اور اپوزیشن ارکان کی جانب سے میں پمز سانحے پر شدید بحث ہوئی جس دوران سانحے کی آزادانہ تحقیقات اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کے ساتھ ساتھ مستقبل میں ایسے سانحات کے تدارک کے لیے اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
اس دوران ارکانِ اسمبلی نے ہسپتال میں حفاظتی انتظامات اور سانحے سے نمٹنے کے لیے حکومتی ردعمل پر سوالات بھی اٹھائے۔
پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس عہدے پر برقرار رہنے کا کوئی جواز نہیں رہا، انہوں نے اسلام آباد میں حکومت کی کارکردگی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور وزیراعظم شہباز شریف سے بھی مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔
دریں اثنا پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کے چیئرمین ڈاکٹر مہیش کمار نے بتایا کہ کمیٹی نے ایک روز قبل پمز کا دورہ کیا تھا اور ڈاکٹروں، نرسوں اور اسپتال کے دیگر عملے کے بیانات میں تضادات پائے گئے۔
ان کے مطابق ایک ڈاکٹر نے کمیٹی کو بتایا کہ آگ ایئر کنڈیشنر سے نکلنے والی چنگاری کے باعث لگی، تاہم نرسوں نے کہا کہ انہوں نے ایسی کوئی چنگاری نہیں دیکھی تھی۔











