اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں معاون ٹیکنالوجی تک رسائی پر پاکستان کی تاریخی قرارداد متفقہ طور پر منظور

4

 نیویارک(اقوام متحدہ)، 2 ستمبر (اے پی پی): اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے  پاکستان کی پیش کردہ معاون ٹیکنالوجی تک رسائی کے موضوع پر پہلی قرارداد  متفقہ طور پر منظور کر لی۔ یہ قرارداد، بالخصوص ترقی پذیر ممالک میں، زندگیوں میں مثبت تبدیلی لانے والی معاون مصنوعات، آلات اور متعلقہ خدمات کو زیادہ قابلِ رسائی اور کم لاگت بنانے کی عالمی کوششوں میں ایک اہم پیش رفت ہے۔

قرارداد کو منظوری کے لیے پیش کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ دنیا بھر میں تقریباً 2.5 ارب افراد کو ایک یا ایک سے زیادہ معاون مصنوعات، آلات یا متعلقہ خدمات کی ضرورت ہے، تاہم لاکھوں افراد اب بھی ان تک مناسب رسائی سے محروم ہیں۔ اس کی بڑی وجوہات میں استطاعت سے باہر لاگت، دستیابی کے مسائل، ٹیکنالوجی تک محدود رسائی، ناکافی بنیادی ڈھانچہ اور خدمات، اور تربیت یافتہ افرادی قوت کی کمی شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ معاون ٹیکنالوجی میں ایسی مصنوعات اور خدمات شامل ہیں جو روزمرہ زندگی میں نمایاں تبدیلی لانے کی صلاحیت رکھتی ہیں ،جن میں وہیل چیئرز، مصنوعی اعضا اور سماعت کے آلات سے لے کر مواصلاتی آلات، اسکرین ریڈرز اور دیگر ڈیجیٹل حل شامل ہیں۔ یہ ٹیکنالوجیز ایک بچے کو اسکول جانے، ایک بالغ فرد کو روزگار اختیار کرنے، ایک بزرگ شخص کو خودمختاری برقرار رکھنے، اور معذوری یا بعض طبی حالات کے حامل افراد کو معاشرے میں زیادہ بھرپور شرکت کے قابل بنا سکتی ہیں۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے زور دیا کہ یہ محض مصنوعات یا آلات نہیں بلکہ “انحصار اور خودمختاری، محرومی اور شمولیت، صلاحیت اور مواقع کے درمیان پل” کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ قرارداد معاون ٹیکنالوجی تک رسائی کو ترقی اور شمولیت کے وسیع تر ایجنڈے کا حصہ بناتی ہے اور تعلیم، روزگار، صحت، سماجی تحفظ اور معاشرے میں بامعنی شرکت کے ساتھ اس کے گہرے تعلق کو تسلیم کرتی ہے۔

یہ قرارداد اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کی قونصلر، محترمہ صائمہ سلیم، نے تیار کی اور مذاکرات کے ذریعے اسے حتمی شکل دی۔ وہ پاکستان کی پہلی بصارت سے محروم کیریئر سفارت کار ہیں اور خود بھی معاون ٹیکنالوجی استعمال کرتی ہیں۔ اس اقدام میں ان کی شمولیت نے اس اہم معاملے میں ایک منفرد ذاتی تجربے اور عملی بصیرت کو شامل کیا، جس سے یہ اجاگر ہوتا ہے کہ ٹیکنالوجی تک رسائی کس طرح خودمختاری، مواقع اور معاشرے میں مساوی شرکت کو فروغ دے سکتی ہے۔

یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان معاون ٹیکنالوجی کے شعبے میں طویل عرصے سے قائدانہ کردار ادا کرتا آ رہا ہے۔ پاکستان نے عالمی ادارۂ صحت کی قرارداد 71.8 پیش کی تھی، جس کا مقصد معاون ٹیکنالوجی تک رسائی بہتر بنانا تھا اور جسے 2018 میں متفقہ طور پر منظور کیا گیا۔