اسلام آباد، 21 ستمبر (اے پی پی): بھارت اور طالبان رجیم کا گھناؤنا چہرہ بے نقاب، بھارتی خفیہ ایجنسی را اور طالبان کے دہشتگرد نیٹ ورک کا رابطہ انٹیلی جنس رپورٹ میں سامنے آ گیا۔
افغان انٹرنیشنل نے خفیہ تحقیقاتی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی را، طالبان جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس (جی ڈی آئی) اور طالبان قیادت پر مشتمل نیٹ ورک 2025 میں قائم ہوا۔رپورٹ کے مطابق طالبان انٹیلی جنس نے ہیبت اللہ اخوندزادہ کی ہدایات پر فتنہ الہندوستان، فتنہ الخوارج اور دیگر دہشتگرد گروہوں کے درمیان رابطے قائم کیے۔
قندھار کے گورنر ملا شیریں نے القاعدہ اور فتنہ الخوارج (گل بہادر گروپ) کے ساتھ میٹنگ کر کے دہشت گردی کے لیے بی ایل اے کی مدد کا کہا۔
جولائی 2026 میں جی ڈی آئی نے 3 میٹنگز کرائیں اور پاکستان میں دہشت گردی کے لیے فتنہ الہندوستان کو بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
قندھار میں فتنہ الخوارج (ٹی ٹی پی) کے کمپاؤنڈ میں دوسری میٹنگ میں بی ایل اے نے بلوچستان میں دہشت گردی کے لیے جماعت الاحرار کو 3.5 ملین افغانی دیے۔
تیسری میٹنگ افغانستان سے باہر را اور جی ڈی آئی کے مابین ہوئی جس میں بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کی بلوچستان میں مشترکہ کارروائیوں کا فیصلہ کیا گیا۔ دستاویز کے مطابق بھارتی خفیہ ایجنسی را نے پاکستان میں کارروائی کے لیے 7.8 ملین ڈالر سے زائد رقم فراہم کی۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ پاکستانی سیکیورٹی فورسز کے شدید دباؤ کے باعث 26 اگست کو قندھار میں افغان طالبان رجیم کی سرپرستی میں ایک ہنگامی اجلاس ہوا جس میں فتنہ الہندوستان سے وابستہ بشیر زیب، خلیل بلوچ، صفت اللہ مینگل، انور نظامی اور مجید بلوچ نے شرکت کی۔ اجلاس میں طالبان نے بی ایل اے کو یقین دہانی کرائی کہ فتنہ الخوارج اور القاعدہ بلوچستان میں افرادی قوت، ہتھیاروں اور لاجسٹکس میں مدد کریں گے۔
طالبان سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ کا فتنہ الہندوستان کو اسلحہ فراہمی کے لیے لکھا گیا خط بھی دونوں کے گٹھ جوڑ کا واضح ثبوت ہے جس میں کلاشنکوف رائفلز، راکٹ لانچرز اور گولہ بارود کی منتقلی کی ہدایت دی گئی۔ رپورٹ کے مطابق ٹی ٹی پی کے سابق رکن ملا معراج الدین فراہی کو بی ایل اے کو افرادی قوت، اسلحہ اور مالی وسائل کی فراہمی کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
دستاویز کے مطابق بلوچستان میں زیادہ تر حملے فتنہ الخوارج اور القاعدہ کرتی ہے جبکہ ذمہ داری فتنہ الہندوستان قبول کرتی ہے تاکہ امریکی پابندیوں کی زد میں دہشتگرد تنظیم القاعدہ کی شمولیت چھپائی جا سکے۔ 4 ستمبر کے زیارت حملے کو فتنہ الخوارج نے انجام دیا جبکہ فتنہ الہندوستان نے عالمی پابندیوں سے بچنے کے لیے ذمہ داری قبول کی۔
افغان انٹرنیشنل کے مطابق پاکستان میں دہشتگردی کے لیے بھارتی را طالبان رجیم کے ساتھ افغان سرزمین کو دہشت گردوں کی تربیت، مالی معاونت اور پناہ گاہوں کے لیے استعمال کر رہی ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق بھارتی خفیہ ایجنسی را اور طالبان رجیم اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے مسلسل دہشتگردوں کی پشت پناہی میں ملوث ہیں۔ افغانستان میں دہشتگردوں کی موجودگی خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے اور موجودہ صورتحال دہشتگردی کو پورے خطے تک پھیلا سکتی ہے۔











