اسلام آباد، 21 ستمبر (اے پی پی): سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے پیر کے روز نشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے نیشنل سیکیورٹی اینڈ وار کورس کے 130 رکنی وفد نے جنرل محمد نعیم اختر کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہاؤس میں ملاقات کی۔
وفد میں پاکستان سمیت دوست ممالک کے سینئر سول و عسکری افسران شامل تھے۔ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے پارلیمنٹ ہاؤس آمد پر وفد کا خیرمقدم کیا۔
اس موقع پرسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا کہ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی ملک کا ایک ممتاز تعلیمی و تربیتی ادارہ ہے، جس کے فارغ التحصیل طلباء ملک کے اعلیٰ سول اور عسکری اداروں میں اہم ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل سیکیورٹی اینڈ وار کورس قومی سلامتی، حکمرانی اور پالیسی سازی سے متعلق اہم امور کو سمجھنے میں شرکاء کے لیے نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سپیکر قومی اسمبلی نے وفد کو پاکستان کے پارلیمانی نظام، قومی اسمبلی کی تشکیل، آئینی ذمہ داریوں اور ایوان کے کام کے طریقۂ کار کے بارے میں تفصیلی آگاہ کیا۔ انہوں نے قانون سازی کے مراحل اور قائمہ کمیٹیوں کے کردار پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ قومی اسمبلی میں قومی اہمیت کے حامل امور پر بحث اور قانون سازی کے ذریعے عوامی مسائل کے حل کے لیے مؤثر کردار ادا کیا جاتا ہے۔
سردار ایاز صادق نے کہا کہ پارلیمان ملک کے 25 کروڑ عوام کا نمائندہ ادارہ ہے، جہاں تمام اراکین کو قومی اہمیت کے حامل معاملات اور اپنے حلقوں کے مسائل اجاگر کرنے کے لیے یکساں مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سپیکر چیمبر کے دروازے تمام اراکین قومی اسمبلی کے لیے کھلے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ سپیکر کا منصب حکومت اور اپوزیشن کے مابین افہام و تفہیم اور پارلیمانی تعاون کے فروغ میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ قومی اسمبلی پاکستان کی پارلیمانی سفارت کاری کو بھی مؤثر انداز میں آگے بڑھا رہی ہے اور پاکستان بین الپارلیمانی یونین سمیت مختلف بین الاقوامی پارلیمانی تنظیموں کا فعال رکن ہے۔ پاکستان کی پارلیمان عالمی فورمز پر مسئلہ کشمیر کو مؤثر انداز میں اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ علاقائی اور عالمی سطح پر امن، پائیدار ترقی اور باہمی تعاون کے فروغ کے لیے بھی اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔
سپیکر قومی اسمبلی نے قومی اسمبلی میں ہونے والی اصلاحات اور کفایت شعاری کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران کفایت شعاری مہم کے تحت قومی اسمبلی نے تقریباً 6 ارب روپے کی بچت کی۔ انہوں نے بتایا کہ قومی اسمبلی میں ملازمین کی بھرتیوں سے متعلق سپیکر کے صوابدیدی اختیارات فنانس کمیٹی کو منتقل کر دیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں بھرتیاں میرٹ کی بنیاد پر کی جاتی ہیں۔
سردار ایاز صادق نے پارلیمنٹ کے ماحول دوست اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ قومی اسمبلی نے 2013 میں انرجی ایفیشنسی آڈٹ کرایا، جس کے بعد توانائی کے متبادل ذرائع کے استعمال کی جانب عملی پیش رفت کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ 2015 میں پاکستان کی پارلیمان کو شمسی توانائی پر چلنے والی دنیا کی پہلی پارلیمان بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔ حالیہ دولت مشترکہ کی 69ویں پارلیمانی کانفرنس میں پاکستان کی پارلیمان کو پہلے گرین میس ایوارڈ سے نوازا جانا اس کے ماحول دوست اقدامات اور پائیدار پارلیمانی ترقی کے عزم کا اعتراف ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی پارلیمان موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر مشترکہ اقدامات کی ضرورت کو مسلسل اجاگر کر رہی ہے۔ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔انہوں نے بتایا کہ قومی اسمبلی رین واٹر ہارویسٹنگ سمیت ماحول کے تحفظ اور آبی وسائل کے مؤثر استعمال کے لیے قانون سازی کے حوالے سے پرعزم ہے۔
سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے 2014 میں قومی اسمبلی میں ایس ڈی جیز سیکریٹریٹ قائم کیا گیا اور خواتین کو پارلیمانی عمل میں مؤثر نمائندگی اور مواقع فراہم کرنے کے لیے جینڈر مین اسٹریمینگ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ویمن پارلیمانی کاکس خواتین سے متعلق مسائل کے حل اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
سردار ایاز صادق نے کہا کہ قومی اسمبلی میں قائم ینگ پارلیمنٹرینز فورم نوجوان اراکینِ پارلیمان اور قانون سازوں کے مابین رابطے اور تجربات کے تبادلے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو پارلیمانی عمل سے روشناس کرانے کے لیے قومی اسمبلی طلباء کو انٹرن شپ کے مواقع فراہم کر رہی ہے، جبکہ انٹرن شپ پروگرام میں بلوچستان اور سندھ کے دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے طلباء کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے طلباء کو پارلیمانی کارروائی، قانون سازی اور ایوان کے کام کے طریقۂ کار سے عملی طور پر آگاہ کیا جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ قومی اسمبلی کے افسران اور عملے کی استعدادِ کار میں اضافے کے لیے مختلف تربیتی کورسز کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ اراکینِ قومی اسمبلی کو قانون سازی میں سہولت فراہم کرنے کے لیے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں ڈرافٹنگ کونسل بھی قائم کی گئی ہے، جو قانون سازی سے متعلق امور میں اراکین کو معاونت فراہم کرتی ہے۔سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ پارلیمان کی ڈیجیٹائزیشن کے عمل کو آگے بڑھاتے ہوئے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کو مکمل طور پر پیپر لیس بنا دیا گیا ہے۔
موجودہ عالمی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ دنیا کو اس وقت مختلف معاشی، موسمیاتی اور سلامتی کے چیلنجز کا سامنا ہے۔ سوشل میڈیا کا منفی استعمال بھی ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے، جس سے نمٹنے کے لیے ذمہ دارانہ رویوں اور مؤثر حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔
علاقائی سلامتی کے حوالے سے سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی امن و استحکام کے لیے دہشتگردی کے خاتمے اور باہمی تعاون کو فروغ دینا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی پارلیمان ہر علاقائی اور عالمی پلیٹ فارم پر موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے مشترکہ لائحۂ عمل کی ضرورت کو اجاگر کر رہا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی ایک عالمی چیلنج ہے جس سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون اور اجتماعی اقدامات ناگزیر ہیں۔
وفد کے سربراہ جنرل محمد نعیم اختر نے وفد کو قومی اسمبلی میں قانون سازی کے عمل، ایوان کے کام کے طریقۂ کار اور پارلیمان کی جانب سے کیے جانے والے ماحول دوست اقدامات سے آگاہ کرنے پرسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا شکریہ ادا کیا۔
وفد کے شرکاء نے قومی اسمبلی کے دورے کو مفید اور معلوماتی قرار دیتے ہوئے سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے پارلیمانی کردار اور ایوان کی کارروائی کو خوش اسلوبی سے چلانے کے لیے ان کی کاوشوں کو سراہا۔ وفد کے سربراہ جنرل محمد نعیم اختر اور شرکاء نے پارلیمانی نظام، قانون سازی اور ماحول دوست پارلیمانی اقدامات سے متعلق تفصیلی بریفنگ پر بھی سپیکر قومی اسمبلی کا شکریہ ادا کیا۔











