بین الصوبائی ہم آہنگی کمیٹی کا وفاقی اکائیوں میں مضبوط رابطے پر زور، گندم ترسیل اور علاقائی شکایات کا جائزہ

7

اسلام آباد، 29 ستمبر ( اے پی پی ):بین الصوبائی ہم آہنگی  پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس   منگل کو  پارلیمنٹ ہاؤس میں سینیٹر دلاور خان کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں تمام وفاقی اکائیوں کے درمیان بین الصوبائی ہم آہنگی، سیکیورٹی، بلا تعطل نقل و حمل اور اشیائے ضروریہ کے انتظام پر اثر انداز ہونے والے اہم امور پر غور و خوض کیا گیا۔

 اجلاس میں سینیٹرز ایمل ولی خان، روبینہ قائم خانی، سید کاظم علی شاہ، روبینہ خالد اور ضمیر حسین گھمرو  ، جبکہ سینیٹرز سیف اللہ ابرو اور ہدایت اللہ خان نے بطور خصوصی مدعو شرکت کی۔

اجلاس کے دوران، چیئرمین سینیٹر دلاور خان نے اہم صوبائی نمائندوں کی عدم موجودگی، بالخصوص متعلقہ وزیر یا وزیراعظم کے مشیر کی شرکت نہ کرنے پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ چیئرمین نے اس بات پر زور دیا کہ کمیٹی کا بنیادی مقصد علاقائی شکایات کا ازالہ کرنا اور صوبوں کے درمیان خلیج کو کم کرنا ہے؛ انہوں نے نشاندہی کی کہ مسلسل عدم موجودگی مسائل کے حل میں رکاوٹ کا باعث بنتی ہے۔ چیئرمین نے ذکر کیا کہ گزشتہ بار ڈی آئی جی راولپنڈی اور ڈی پی او اٹک کو طلب کرنے کے بعد آٹے کی ترسیل کے معاملات میں نمایاں بہتری آئی تھی۔

حکام نے سکھر (سندھ) اور دیگر سرحدی چیک پوائنٹس کے حوالے سے بتایا کہ مشترکہ چیک پوسٹوں پر غیر قانونی اسمگلنگ اور منشیات وغیرہ کی روک تھام کے لیے سخت کارروائی کی جاتی ہے، جبکہ بلا جواز عام سامان کی نقل و حمل روکنے پر پابندی عائد ہے۔ شہریوں کی ایک صوبے سے دوسرے صوبے (بالخصوص کراچی، لاہور، پنڈی اور اسلام آباد) آمد و رفت کے دوران شناختی کارڈ (CNIC)

، ڈومیسائل اور افغان شہریوں کی جانچ کے بہانے غیر ضروری طور پر ہراساں کیے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔

پولیس حکام نے وضاحت کی کہ بنیادی مسئلہ نادرا (NADRA)

کی جانب سے “مشکوک” قرار دیے گئے شناختی کارڈز سے پیدا ہوتا ہے، جس کے حل کے لیے ڈپٹی کمشنرز کی سربراہی میں ضلعی سطح کی کمیٹیاں کام کر رہی ہیں۔صوبائی اسمبلیوں کے اجلاسوں میں شیئر کیے گئے تعصب پر مبنی بیانات اور ویڈیو کلپس کا حوالہ دیتے ہوئے ارکان نے نشاندہی کی کہ ایسے ریمارکس صوبوں کے درمیان نفرت پھیلاتے ہیں اور ان کی روک تھام سیاسی قیادت کی ذمہ داری ہے۔

اجلاس کا اختتام چیئرمین کی جانب سے اس عزم کے اعادہ پر ہوا کہ بین الصوبائی ہم آہنگی کا فروغ اولین ترجیح رہے گا۔انہوں نے تمام وفاقی اکائیوں کو ہدایت کی کہ وہ مساوی سلوک، عوامی سہولت اور مؤثر ادارہ جاتی ہم آہنگی کو یقینی بنانے کے لیے قریبی تعاون کریں۔

اجلاس میں پولیس اور محکمہ خوراک کے اعلیٰ حکام کی جانب سے بریفنگ دی گئی۔