بلال بن ثاقب کا ہارورڈ اسلامک فنانس کانفرنس سے خطاب، بلاک چین اور مسلم دنیا کے مستقبل پر گفتگو

6

اسلام آباد، 29 ستمبر (اے پی پی): وزیر مملکت اور پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے ہارورڈ یونیورسٹی میں منعقدہ ہارورڈ اسلامک فنانس کانفرنس میں خصوصی گفتگو میں شرکت کی۔
’’بلاک چین اور اسلامی مالیات کا مستقبل‘‘ کے عنوان سے ہونے والی گفتگو میں بلال بن ثاقب کے ساتھ ایم آئی ٹی سلون اسکول آف مینجمنٹ کے سینئر لیکچرر عمران سعید نے گفتگو کی۔ اس دوران ڈیجیٹل اثاثوں، مالیاتی شعبے میں جدید قوانین اور شریعت کے مطابق مالیاتی نظام کے مستقبل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
بلال بن ثاقب نے اسلامی دنیا کے سنہری علمی دور کو موجودہ دور میں تحقیق، کاروبار اور ٹیکنالوجی کی ترقی سے جوڑتے ہوئے کہا کہ صرف نئی ٹیکنالوجی کا استعمال کافی نہیں، بلکہ مسلم دنیا کو ایسا علم، مہارت اور ادارے بھی تشکیل دینا ہوں گے جو نئی ٹیکنالوجی تخلیق کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
انہوں نے کہا کہ اپنے ماضی کا احترام صرف اسے یاد کرکے نہیں بلکہ نئی چیزیں تخلیق کرکے کیا جاتا ہے۔ ایک نیا سنہری دور ماضی کی طرف واپسی کا نام نہیں بلکہ دوبارہ علم پیدا کرنے، صلاحیتیں بنانے اور انسانی مسائل حل کرنے کا نام ہے۔
گفتگو میں جامعات، مالیاتی اداروں، کاروباری افراد اور مستند شریعہ ماہرین کے درمیان نئی ٹیکنالوجی کے عملی استعمال کے لیے تعاون کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی گئی۔اس دوران سرحد پار رقوم کی منتقلی، کاروبار کے لیے مالی معاونت اور مالی اثاثوں کو ڈیجیٹل شکل دینے سمیت مختلف شعبوں پر گفتگو ہوئی۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ نئی ٹیکنالوجی کا اصل فائدہ اسی وقت ہے جب وہ مالی خدمات کو عام لوگوں کے لیے زیادہ سستا، آسان اور قابل اعتماد بنائے۔
پاکستان میں اپنے تجربے کے حوالے سے بلال بن ثاقب نے کہا کہ ٹیکنالوجی کے مواقع کو فروغ دینے کے ساتھ مالیاتی نظام میں ذمہ داری، نگرانی اور عوام کے تحفظ کو بھی یقینی بنانا ضروری ہے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان کا ورچوئل اثاثہ جات ایکٹ 2026 پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی کو اس شعبے میں لائسنس جاری کرنے اور نگرانی کے لیے قانونی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ اتھارٹی نے نئی مالیاتی ٹیکنالوجی کی آزمائش، عدم اعتراض سرٹیفکیٹ اور باقاعدہ لائسنس کے لیے طریقہ کار بھی متعارف کرایا ہے۔بلال بن ثاقب نے کہا کہ صرف قوانین بنانا کافی نہیں بلکہ ان پر مؤثر عمل درآمد، صارفین کا تحفظ اور اداروں کی صلاحیت میں اضافہ بھی ضروری ہے۔اسلامی مالیات کے حوالے سے گفتگو میں ریگولیٹری اداروں اور شریعہ ماہرین کے کردار، نئی مالیاتی مصنوعات کی تیاری اور ورچوئل اثاثہ جات کے لیے شریعت کے مطابق نظام تشکیل دینے کے مواقع اور چیلنجز پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
طلبہ اور نوجوان پیشہ ور افراد سے گفتگو کرتے ہوئے بلال بن ثاقب نے مسلم ممالک کے درمیان عملی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے مشترکہ تحقیق، مختلف شعبوں کے ماہرین پر مشتمل ٹیموں اور نگرانی کے تحت نئی مالیاتی ٹیکنالوجی کی آزمائش کو اہم قرار دیا۔
ہارورڈ اسلامک فنانس کانفرنس کے 29ویں سال کے موقع پر اس سال کانفرنس کا موضوع عالمی مالیاتی نظام میں تبدیلی، استحکام، تنوع اور اسلامی مالیات کے کردار پر مرکوز تھا۔کانفرنس کا انعقاد ہارورڈ یونیورسٹی مسلم ایلومنائی اور ہارورڈ اسلامک سوسائٹی کی جانب سے کیا گیا۔