وزیرِ خزانہ اور ورلڈ بینک کا معاشی اصلاحاتی شراکت داری میں پیش رفت کا جائزہ، عملدرآمد کی ترجیحات پر تبادلہ خیال

7

اسلام آباد، 02 اکتوبر (اے پی پی): وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات، سینیٹر محمد اورنگزیب نے ورلڈ بینک کے وفد، جس کی قیادت کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگآبزر کر رہی تھیں،کے ساتھ ملاقات کی،جس میں جاری معاشی اصلاحاتی شراکت داری کے تحت پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور ترقی،روزگار، مالیاتی انتظام،ریونیو موبلائزیشن، کیپیٹل مارکیٹ کی ترقی، تجارت و سرمایہ کاری اور ادارہ جاتی اصلاحات سمیت مختلف شعبوں میں عملدرآمد کی ترجیحات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات میں پاکستان کے وسیع تر معاشی اصلاحاتی ایجنڈے کے لیے ورلڈ بینک کی معاونت کا جائزہ لیا گیا،جس میں اصلاحاتی ترجیحات کو ہدفی اور قابلِ عمل اقدامات میں تبدیل کرنے اور متعلقہ وزارتوں، صوبائی حکومتوں اور عملدرآمد کرنے والے اداروں کے درمیان رابطہ کاری کو مزید مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی۔

وزیرِ خزانہ نے اصلاحات کے ڈیزائن سے مؤثر عملدرآمد کی جانب منتقلی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ توجہ ایسے عملی اقدامات پر مرکوز ہونی چاہیے جو معاشی سرگرمی، سرمایہ کاری، روزگار اور مجموعی کاروباری ماحول میں قابلِ پیمائش بہتری لا سکیں۔

ملاقات میں ورلڈ بینک کے مجوزہ گروتھ اینڈ جابز آپریشن پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جس میں سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے، فنانس تک رسائی، شعبہ جاتی پیداواریت اور لیبر مارکیٹ کے نتائج میں بہتری کے لیے اقدامات شامل ہیں۔ ورلڈ بینک نے انویسٹمنٹ فریم ورک، کاروباری اور ریگولیٹری رکاوٹوں میں کمی، ایس ایم ایز کے لیے فنانس تک رسائی اور پاکستان کے ایکسِم بینک کے لیے ایکسپورٹ فنانس پراڈکٹس کی تیاری سے متعلق مجوزہ اقدامات سے آگاہ کیا، جن کا مقصد اضافی تجارتی بہاؤ کو فروغ دینا ہے۔

وزیراعظم کے ایکسس ٹو فنانس اقدام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اصلاحات پر بھی گفتگو ہوئی، جن میں ایک متحدہ انسالوینسی فریم ورک، ایس ایم ای فنانسنگ کو سپورٹ کرنے کے لیے فیکٹرنگ قانون سازی اور ضوابط، کمرشل فنانسنگ میں توسیع اور نجی شعبے کی زیادہ شرکت کے لیے اقدامات شامل ہیں۔

شعبہ جاتی اصلاحات کے حوالے سے ورلڈ بینک نے فارماسیوٹیکلز اور طبی مصنوعات، اور زراعت کے شعبوں میں مجوزہ اقدامات سے آگاہ کیا، جن میں بیجوں کی رجسٹریشن میں بہتری، منتخب اجناس کو ڈی ریگولیٹ کرنا اور بین الاقوامی خریداری اور منڈیوں میں شرکت کو آسان بنانے کے لیے بین الاقوامی ایکریڈیٹیشنز کو مضبوط بنانا شامل ہے۔

ملاقات میں اسکلز ڈویلپمنٹ اور لیبر مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگی کو مضبوط بنانے کے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا، جن میں قومی ووکیشنل کوالیفکیشنز فریم ورک میں بہتری، ہنرمندی کی بین الاقوامی سطح پر زیادہ پذیرائی اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے معاونت یافتہ بیرونِ ملک روزگار کے باضابطہ راستوں کی ترقی شامل ہے۔

وزیرِ خزانہ اور ورلڈ بینک کے وفد نے نیشنل ٹیرف پالیسی پر عملدرآمد اور ٹیرف اصلاحات کے لیے جاری تجزیاتی معاونت کا جائزہ لیا، جس میں آٹو موٹیو سیکٹر اور مستقبل کی ٹیرف اصلاحات سے متعلق کام بھی شامل ہے۔ اس ضمن میں مسابقت، پیداواریت، سرمایہ کاری، برآمدات اور پاکستان کے عالمی ویلیو چینز میں زیادہ مؤثر انضمام کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

مالیاتی اور ریونیو اصلاحات کے حوالے سے اجلاس میں ٹیکس پالیسی کی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے ورلڈ بینک کی تکنیکی معاونت کا جائزہ لیا گیا، جس میں میڈیم ٹرم ریونیو اسٹریٹیجی اور ریونیو پالیسی ماڈلنگ کے لیے معاونت شامل ہے۔ جی ایس ٹی ہارمونائزیشن پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جس میں خدمات کے حوالے سے قواعد، تعریفوں اور درجہ بندیوں میں زیادہ ہم آہنگی، وفاقی و صوبائی رابطہ کاری میں بہتری اور ڈیٹا شیئرنگ کے مضبوط انتظامات شامل ہیں۔

زرعی آمدنی ٹیکس اصلاحات پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا، جس میں ترمیم شدہ صوبائی قوانین و قواعد پر عملدرآمد اور رجسٹریشن، فائلنگ اور ادائیگی کے لیے ڈیجیٹل نظام شامل ہیں۔ ٹیکس تعمیل کو مضبوط بنانے اور وفاقی و صوبائی سطح پر ڈیٹا شیئرنگ کو بہتر بنانے کی اہمیت پر بھی گفتگو ہوئی۔

اجلاس میں صوبائی پراپرٹی ٹیکس اصلاحات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جن میں پراپرٹی ویلیوایشن کے طریقہ کار کو بہتر اور ہم آہنگ بنانے، ڈیجیٹل نظام کو مضبوط کرنے اور بتدریج زیادہ مارکیٹ بیسڈ ویلیوایشن فریم ورک کی جانب پیش رفت کے اقدامات شامل ہیں۔

ملکی کیپیٹل مارکیٹس کے حوالے سے اجلاس میں کیپیٹل مارکیٹس ڈویلپمنٹ کونسل کے ذریعے کیپیٹل مارکیٹ اصلاحات کے لیے روڈ میپ تیار کرنے میں ورلڈ بینک گروپ کی معاونت پر تبادلہ خیال کیا گیا، جس کا مقصد ملکی کیپیٹل مارکیٹس کو مزید وسعت اور گہرائی دینا، فنانسنگ کے ذرائع کو وسیع کرنا اور سرمایہ کاری و سرمائے کی تشکیل کے لیے سازگار نظام کو مضبوط بنانا ہے۔

اجلاس میں پبلک سیکٹر کی کارکردگی اور حکومت کے رائٹ سائزنگ ایجنڈے کے لیے ورلڈ بینک کی معاونت کا بھی جائزہ لیا گیا، جس میں ادارہ جاتی مؤثریت کو مضبوط بنانے اور عوامی وسائل کے مؤثر استعمال کے لیے تکنیکی معاونت شامل ہے۔

وزیرِ خزانہ نے قرضوں کے انتظام کی صلاحیت اور ملکی بانڈ مارکیٹس کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ اس حوالے سے مارکیٹ کے خطرات کے انتظام کے لیے مالیاتی آلات، ملکی بانڈ مارکیٹ کی ترقی اور انویسٹر ریلیشنز کی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے جاری تکنیکی تعاون پر گفتگو ہوئی۔

اجلاس میں پاکستان کے ساورن کریڈٹ پروفائل اور کریڈٹ ریٹنگ میں مزید بہتری کے راستے سے متعلق ورلڈ بینک کی تجزیاتی معاونت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیرِ خزانہ نے کہا کہ حکومت ساورن کریڈٹ ریٹنگ کے مقداری اور معیاری دونوں عوامل کو مضبوط بنانے کے لیے بھرپور کوشش جاری رکھے گی، جن میں مالیاتی و قرضوں کا پائیدار انتظام، مضبوط بیرونی مالیاتی بفرز، پائیدار اقتصادی ترقی، ادارہ جاتی مؤثریت اور ساختی اصلاحات کا تسلسل شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ساورن کریڈٹ پوزیشن میں مزید بہتری کے لیے متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ روابط کو بھی مزید مضبوط کیا جائے گا۔

ورلڈ بینک کے وفد نے گورننس اور ادارہ جاتی مؤثریت کے حوالے سے جاری تجزیاتی کام سے بھی وزیرِ خزانہ کو آگاہ کیا۔ اس موقع پر حکومت کی مؤثریت، ریگولیٹری معیار، شفافیت، احتساب اور مجموعی کاروباری ماحول کو مضبوط بنانے کے لیے عملی اور قابلِ پیمائش اصلاحات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

دونوں جانب سے معاشی اصلاحاتی شراکت داری کے تحت مسلسل تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا، جس میں عملدرآمد، ادارہ جاتی مضبوطی، نجی شعبے کی قیادت میں ترقی، عوامی وسائل کے بہتر انتظام، سرمایہ کاری میں اضافے اور معاشی مواقع کو وسعت دینے پر مشترکہ توجہ مرکوز رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔

ورلڈ بینک کے وفد میں لاسے میلگارڈ، آپریشنز مینیجر؛سائمن اینڈریوز، ڈویژن ڈائریکٹر، آئی ایف سی؛ ماینا گوڈفریڈونا اوکوٹو ٹووم، اکانومسٹ؛ ارم توقیر، سینئر پبلک سیکٹر اسپیشلسٹ؛ سحر اعتزاز، کنٹری آفیسر، آئی ایف سی؛ شبیح علی محب، پریکٹس مینیجر؛ ٹوبیاس اختر حق، لیڈ اکانومسٹ؛ رفے خان، سینئر اکانومسٹ؛ اور عمر ریاض، آپریشنز اینالسٹ شامل تھے۔ اجلاس میں سیکریٹری خزانہ اور وزارتِ خزانہ کے سینئر افسران نے بھی شرکت کی۔