وزیرِ خزانہ سے برطانوی ہائی کمشنر کی ملاقات،معاشی اصلاحات،تجارت اور سرمایہ کاری میں تعاون پر تبادلہ خیال

7

اسلام آباد، 02 اکتوبر (اے پی پی ):وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات، سینیٹر محمد اورنگزیب سے پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنرجین میریٹ نے ملاقات کی،جس میں پاکستان کی معاشی اصلاحات کی ترجیحات اور پاکستان اور برطانیہ کے درمیان تجارت و سرمایہ کاری میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ان کے ہمراہ ڈویلپمنٹ ڈائریکٹر سیم والڈاک اور سینئر ماہرِ معاشیات لوئی ڈین بھی موجود تھے۔

وزیرِ خزانہ نے برطانوی ہائی کمشنر کا خیرمقدم کیا اور تکنیکی معاونت، مہارت اور علم کے تبادلے کے ذریعے پاکستان کی معاشی اصلاحات کے لیے برطانیہ کی مسلسل معاونت کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان معاشی استحکام سے پائیدار، جامع اور ذمہ دارانہ ترقی کی جانب پیش رفت کر چکا ہے،جس میں پیداواریت، سرمایہ کاری، برآمدات اور روزگار پر توجہ بڑھائی جا رہی ہے۔

برطانوی ہائی کمشنر نے سرمایہ کاری، تجارت اور نجی شعبے کی ترقی کے لیے ادارہ جاتی اور پالیسی نظام کو مضبوط بنانے کی غرض سے تکنیکی معاونت کے ذریعے پاکستان کی معاشی تبدیلی کے عمل میں تعاون جاری رکھنے میں برطانیہ کی دلچسپی کا اظہار کیا۔ انہوں نے پاکستان کی جانب سے 3 ارب امریکی ڈالر کے ڈوئل ٹرانچ ساورن یورو بانڈ کے کامیاب اجراء کو بھی سراہا اور اسے سرمایہ کاروں کے اعتماد اور بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کے حوالے سے اہم قرار دیا۔ بات چیت میں پاکستان کی ترجیحات کے مطابق برطانوی معاونت کو ہم آہنگ کرنے اور عملی اصلاحات پر توجہ مرکوز رکھنے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

سینیٹر محمد اورنگزیب نے حکومت کی چھ اہم ترجیحات کا خاکہ پیش کیا: معاشی استحکام کو مستقل بنیادوں پر قائم کرنا؛ استحکام سے پائیدار، جامع اور ذمہ دارانہ ترقی کی جانب پیش رفت؛ ساختی اصلاحات کا عمل جاری رکھنا؛ امداد سے تجارت اور سرمایہ کاری کی جانب منتقلی؛ مالی سہولیات تک رسائی کو وسعت دینا؛ اور پاکستان کو نئی معیشت کے لیے تیار کرنا۔

دونوں جانب سے اصلاحاتی ترجیحات پر تبادلہ خیال کیا گیا، جن میں مالیاتی انتظام، ٹیکس نظام، ڈیجیٹل نظام کا فروغ، اخراجات میں بہتری، تجارت و سرمایہ کاری کا فروغ، سرکاری سرمایہ کاری اور سرکاری و نجی شعبے کی شراکت داری شامل ہیں۔ وزیرِ خزانہ نے اصلاحات پر مسلسل اور یکساں عملدرآمد یقینی بنانے اور کاروباری اداروں اور سرمایہ کاروں کے لیے زیادہ قابلِ پیش گوئی ماحول پیدا کرنے کے لیے مختلف اداروں کے درمیان مؤثر رابطے کی اہمیت پر زور دیا۔

ملاقات میں ضابطہ جاتی اصلاحات اور سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے کے اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا،جن میں سرمایہ کاروں کے لیے سہولت کاری، سرمایہ کاری کے بعد معاونت، سرمایہ کاری کے فروغ کے مؤثر طریقۂ کار اور اہم نگران اداروں کی کارکردگی بہتر بنانا شامل ہیں۔ وزیرِ خزانہ نے کاروباری ماحول کو بہتر بنانے اور ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری میں سہولت فراہم کرنے کے لیے حکومت کی جاری کوششوں کو اجاگر کیا۔

ترقیاتی منصوبوں کے لیے نجی سرمائے کو متحرک کرنے کے ایک ذریعے کے طور پر سرکاری و نجی شعبے کی شراکت داری پر بھی گفتگو ہوئی۔ وزیرِ خزانہ نے ایسے منصوبوں کی بہتر تیاری،تجارتی طور پر قابلِ عمل ڈھانچوں اور ادارہ جاتی صلاحیت کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ برطانوی جانب نے صوبائی سطح سمیت متعلقہ تکنیکی مہارت کے ذریعے ان کوششوں میں معاونت میں دلچسپی کا اظہار کیا۔

سینیٹر محمد اورنگزیب نے معاشی استحکام، سرمایہ منڈیوں اور جاری نجکاری کے عمل میں پیش رفت کو اجاگر کیا اور کہا کہ ان اصلاحات کا مقصد ملکی و بین الاقوامی سرمایہ کاری کے لیے مزید گنجائش پیدا کرنا اور معیشت کو سرمایہ کاری پر مبنی اور برآمدات پر مرکوز ترقی کی جانب لے جانا ہے۔

اجلاس میں دوطرفہ تجارت و سرمایہ کاری کو مضبوط بنانے اور پاکستان میں برطانوی کاروباری اداروں کی زیادہ شمولیت کی حوصلہ افزائی کے مواقع پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ برطانوی ہائی کمشنر نے نجی شعبے کی ترقی میں برطانوی کمپنیوں اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے نیٹ ورکس کے ممکنہ کردار کو اجاگر کیا، جس میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی ترقی اور بین الاقوامی سطح پر ان کے کاروبار کو وسعت دینے میں معاونت بھی شامل ہے۔

دونوں جانب سے ہوابازی کے شعبے میں مواقع، ممکنہ مالی معاونت اور سرمایہ کاری کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ برطانوی جانب نے بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور شراکت داروں کے ممکنہ کردار کو اجاگر کیا، جبکہ وزیرِ خزانہ نے کہا کہ اس ضمن میں متعلقہ تکنیکی اور تجارتی پہلوؤں کو مدنظر رکھا جائے گا۔

وزیرِ خزانہ نے برطانوی فریق کو پاکستان کی بیرونی مالی وسائل کے حصول کی حکمتِ عملی سے بھی آگاہ کیا، جس میں بین الاقوامی سرمایہ منڈیوں تک رسائی کو مضبوط بنانے، مالی وسائل کے معیار اور پائیداری کو بہتر بنانے، قرضوں کی دوبارہ مالی اعانت کے دباؤ کو کم کرنے اور طویل مدتی اور زیادہ مسابقتی ذرائع سے سرمائے تک رسائی کو وسعت دینے کی کوششیں شامل ہیں۔

دونوں جانب سے معاشی اصلاحات، ادارہ جاتی مضبوطی، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں پاکستان اور برطانیہ کے درمیان مسلسل تعاون کے عزم کا اعادہ کیا گیا، جس میں پائیدار ترقی اور نجی شعبے کی شمولیت کے مواقع کو وسعت دینے پر مشترکہ توجہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔