وزیراعظم کی ہاؤسنگ، ایس ایم ایز اور زرعی شعبے میں قرضوں کی فراہمی کے لیے بینکوں کی کاوشوں کی پزیرائی

5

اسلام آباد، 9 اکتوبر (اے پی پی): وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وزیراعظم اپنا گھر پروگرام، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) اور زرعی شعبے میں قرضوں کی فراہمی کے لیے نمایاں کارکردگی دکھانے والے بینکوں کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ان شعبوں میں مالی وسائل تک رسائی بڑھانے سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا اور مجموعی معاشی ترقی میں مدد ملے گی۔

وزیراعظم نے جمعہ کو  اسلام آباد میں ملک کے 10 بڑے کمرشل بینکوں کے صدور اور چیف ایگزیکٹو افسران کے وفد سے ملاقات کی۔ انہوں نے عوام کو اپنے گھر کا مالک بنانے، چھوٹے کاروباروں کو مالی وسائل فراہم کرنے اور کسانوں کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے بینکاری شعبے کے تعاون پر شکریہ ادا کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ ان کی ترقی سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے ان اقدامات کا مقصد عام شہریوں، کاروباری افراد اور کسانوں کو مالی وسائل تک رسائی فراہم کرنا ہے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کے تحت اب تک 426 ارب روپے کے قرضے منظور کیے جا چکے ہیں جن میں سے 76 ارب روپے جاری کیے گئے ہیں۔ مالی سال 2026-27 کے دوران اس پروگرام کے تحت ایک لاکھ 25 ہزار رہائشی یونٹس کی تعمیر و فراہمی کے لیے 700 ارب روپے کی فنانسنگ کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

وزیراعظم نے قرضوں کی منظوری اور رقوم کی ادائیگی کے درمیان فرق کم کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ شہریوں کو حقیقی فائدہ اسی وقت پہنچے گا جب منظور شدہ قرضے بروقت فراہم کیے جائیں گے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیولپرز کو قرضوں کی فراہمی کے لیے فریم ورک پر مشاورت جاری ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ ایس ایم ایز کے شعبے میں تقریباً 3 لاکھ 50 ہزار 862 کاروباری افراد کو مجموعی طور پر ایک ہزار 137 ارب روپے کے قرضے فراہم کیے جا چکے ہیں۔ جون 2027 تک قرضوں کا حجم ایک ہزار 500 ارب روپے اور مستفید ہونے والے کاروباری افراد کی تعداد 5 لاکھ 65 ہزار تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

زرعی شعبے میں قرضوں سے متعلق بریفنگ میں بتایا گیا کہ ستمبر 2026 کے اختتام تک زرعی قرضوں کا مجموعی حجم ایک ہزار 352 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے جبکہ 34 لاکھ 55 ہزار 313 افراد اس سہولت سے مستفید ہو رہے ہیں۔ جون 2027 تک زرعی قرضوں کا حجم ایک ہزار 500 ارب روپے اور مستفید ہونے والے کسانوں کی تعداد 45 لاکھ تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ زرعی قرضوں کی فراہمی کسانوں کی معاشی بہتری، زرعی پیداوار میں اضافے اور غذائی تحفظ کے لیے نہایت اہم ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ چھوٹے کسانوں کو مالی وسائل کی فراہمی ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنائی جائے تاکہ وہ جدید زرعی طریقے اپنا کر اپنی پیداواری صلاحیت بڑھا سکیں۔انہوں نے کہا کہ زرعی فنانسنگ کے ذریعے چھوٹے کسانوں تک رسائی بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ملک کا بڑا بینک وہ ہے جو چھوٹے کسان کا بھی بینک ہو۔ وزیراعظم نے اسٹیٹ بینک پر زور دیا کہ قرضوں کی منظوری اور ادائیگی کے عمل کو مزید آسان بنایا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ شہری اور کسان ان سہولیات سے مستفید ہو سکیں۔وفد کے ارکان نے وزیراعظم کی قیادت میں پاکستان کے معاشی استحکام اور معیشت کی سمت میں بہتری کے لیے کیے گئے اقدامات کو سراہا اور حکومت کی معاشی پالیسیوں پر اعتماد کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ترجیحی شعبوں میں قرضوں کی فراہمی کے لیے حکومت کے ساتھ تعاون مزید بہتر بنایا جا رہا ہے۔ملاقات میں وفاقی وزراء احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، ریاض حسین پیرزادہ اور عطاء اللہ تارڑ، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، نیشنل بینک، یونائیٹڈ بینک، حبیب بینک، میزان بینک، بینک الفلاح، اسٹینڈرڈ چارٹرڈ، بینک آف پنجاب اور بینک اسلامی کے صدور و چیف ایگزیکٹو افسران، ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن کے نمائندوں اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔