اسلام آباد کو جدید، ترقی یافتہ اور سرسبز دارالحکومت بنانے کے لیے سی ڈی اے کی کاوشیں جاری

8

اسلام آباد،11 ستمبر ( اے پی پی): وفاقی وزیرِ داخلہ سید محسن رضا نقوی کے ویژن اور چیئرمین سی ڈی اے سہیل اشرف کی مؤثر نگرانی میں کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) اسلام آباد کی ترقی، خوشحالی، خوبصورتی اور شہریوں کو جدید سہولیات کی فراہمی کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔ بروقت اور تیز رفتار ترقی، اربوں روپے مالیت کی سرکاری اراضی کی واگزاری، شہر کی خوبصورتی، شجرکاری، شہریوں کو پانی کی فراہمی، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ، تین جدید سپورٹس ایریناز کا قیام، پارکس اور لیک ویو پارک کی اپ گریڈیشن کے ذریعے سی ڈی اے پاکستان کے وفاقی دارالحکومت کو جدید، معاشی طور پر مستحکم اور عالمی معیار کا خوبصورت شہر بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ یہ جامع ترقیاتی ایجنڈا معمول کی دیکھ بھال سے آگے بڑھ کر بڑے منصوبوں کی تیز رفتار تکمیل، جدید شہری سفری سہولیات اور اسلام آباد کی سرسبز شناخت کے تحفظ پر مرکوز ہے۔

 وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے کشمیر چوک انڈر پاس کا سنگِ بنیاد رکھا اور وزیرِ داخلہ محسن نقوی، چیئرمین سی ڈی اے سہیل اشرف اور سی ڈی اے کی ٹیموں کو منصوبے کی ایک ماہ میں تکمیل کا ہدف مقرر کرنے پر سراہا۔

ٹریفک کے دباؤ میں کمی اور شہری سفری نظام کو بہتر بنانے کے لیے سی ڈی اے نے متعدد اہم انڈر پاسز اور سڑکوں کی بحالی کے منصوبے مکمل کیے ہیں۔ ان منصوبوں میں مارگلہ روڈ اور نائنتھ ایونیو انڈر پاس شامل ہیں، جن سے ٹریفک کی روانی بہتر بنانے میں مدد ملی ہے۔ اس کے علاوہ شاہین چوک انڈر پاس اور فیصل ایونیو انڈر پاس جیسے منصوبوں نے رہائشی اور تجارتی مراکز کے درمیان رابطوں کو بہتر بنانے میں کردار ادا کیا ہے۔

سی ڈی اے نے ایف سیریز، جی سیریز اور بلیو ایریا سمیت مختلف تجارتی اور رہائشی علاقوں میں سڑکوں کی دوبارہ کارپیٹنگ اور پیدل چلنے والوں کے راستوں کی بہتری کے کام بھی مکمل کیے ہیں۔

حالیہ کامیابیوں کی بنیاد پر سی ڈی اے دارالحکومت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور قیمتی عوامی اثاثوں کی واگزاری کے لیے متعدد اہم منصوبوں پر تیزی سے کام کر رہا ہے۔ ایک ارب 40 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والا کشمیر چوک انڈر پاس اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان ٹریفک کی روانی بہتر بنانے کے لیے ایک اہم منصوبہ ہے۔ اس کے ساتھ اسلام آباد ایکسپریس وے سروس روڈ ایسٹ کی تعمیر اور سفارتی علاقے (ڈپلومیٹک انکلیو) میں بنیادی ڈھانچے کی اپ گریڈیشن پر بھی کام جاری ہے تاکہ شہریوں اور سفارتی برادری کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

سی ڈی اے نے سیکٹر ای-12 میں دہائیوں سے قبضے کا شکار ایک ہزار کنال سے زائد قیمتی سرکاری اراضی بھی واگزار کرائی ہے، جس کی مالیت اربوں روپے بتائی جاتی ہے۔ اس اقدام سے سیکٹر ای-12 کی جامع ترقی اور منصوبہ بندی کے مطابق تعمیراتی سرگرمیوں کے لیے راہ ہموار ہوئی ہے۔

اسلام آباد میں کھیلوں کے فروغ اور شہریوں کو جدید تفریحی و صحت مند سرگرمیوں کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے تین جدید سپورٹس ایریناز قائم کیے جا رہے ہیں۔ یہ اقدام وفاقی دارالحکومت میں کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے، نوجوانوں کو کھیلوں کے مواقع فراہم کرنے اور شہریوں کے لیے صحت مند سرگرمیوں کو فروغ دینے کے عزم کا حصہ ہے۔ ان منصوبوں کے ذریعے اسلام آباد میں کھیلوں کی سہولیات کو مزید وسعت دینے اور شہر کو جدید شہری سہولیات سے آراستہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ایک جدید دارالحکومت میں ترقیاتی وسعت اور ماحولیاتی تحفظ کے درمیان توازن برقرار رکھنا ضروری ہے۔ سی ڈی اے اسلام آباد کے قدرتی مناظر، سرسبز ماحول اور عوامی سہولیات کے تحفظ کو خصوصی اہمیت دے رہا ہے۔ ایف نائن پارک، لیک ویو پارک اور دامنِ کوہ کی بہتری کے اقدامات کے ساتھ شجرکاری مہم بھی جاری ہے۔ اس کے علاوہ غیر قانونی تجاوزات کے خلاف قانون کے مطابق کارروائیاں کی جا رہی ہیں تاکہ شہر کی خوبصورتی، سرکاری اراضی اور عوامی مقامات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

وفاقی وزیرِ داخلہ  کے ویژن اور چیئرمین سی ڈی اے  کی مؤثر سربراہی میں سی ڈی اے شہری ترقی، ماحولیات، کھیلوں اور عوامی سہولیات کے مختلف شعبوں میں اقدامات کر رہا ہے۔ ان کوششوں کا مقصد اسلام آباد کو ایک خوبصورت، سرسبز، منظم اور مثالی دارالحکومت بنانا ہے، جہاں شہریوں کو بہتر سفری سہولیات، جدید کھیلوں کے مراکز، معیاری عوامی مقامات اور بہتر شہری خدمات میسر ہوں۔

اسلام آباد میں سفری اوقات میں کمی، رابطوں میں بہتری اور بنیادی ڈھانچے کی اپ گریڈیشن سے کاروباری سرگرمیوں کو سہولت ملنے اور کاروباری اخراجات میں کمی کے امکانات پیدا ہو رہے ہیں۔ ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے شہر کی معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور شہریوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔

وزیرِ داخلہ سید محسن نقوی کے ویژن اور چیئرمین سی ڈی اے سہیل اشرف کی کڑی نگرانی میں اس امر کو یقینی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ترقیاتی منصوبوں پر خرچ ہونے والے سرکاری وسائل شہریوں کی فلاح و بہبود، بنیادی سہولیات کی بہتری اور پائیدار ترقی کے لیے مؤثر انداز میں استعمال ہوں، تاکہ ان منصوبوں کے فوائد نہ صرف آج بلکہ مستقبل میں بھی اسلام آباد کے شہریوں تک پہنچتے رہیں۔