اسلام آباد: 12 اکتوبر (اے پی پی): وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت سمیڈا (SMEDA)
سے متعلق ایک اہم اعلیٰ سطحی اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ کاروباری طبقہ کسی بھی ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، جبکہ پاکستان میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (ایس ایم ایز) میں ملکی معیشت کو فروغ دینے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔
وزیراعظم نے واضح کیا کہ سمیڈا میں جاری اصلاحات کا بنیادی محور چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری افراد کو بااختیار بنانا ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو مختلف شعبوں میں کاروبار قائم کرنے کے مواقع فراہم کیے جائیں، جس سے ان علاقوں سے بڑے شہروں کی جانب نقل مکانی میں کمی آئے گی اور ملک کی مجموعی ترقی و خوشحالی کو فروغ ملے گا۔
اجلاس میں وزیراعظم نے ایک بڑا فیصلہ کرتے ہوئے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری افراد کے لیے قرضوں کی مجموعی مالیت 2028 تک 1.1 ٹریلین روپے سے بڑھا کر 2.2 ٹریلین روپے کرنے کی ہدایت کی۔ اس اقدام کا مقصد ملک میں کاروباری سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کو وسیع پیمانے پر فروغ دینا ہے۔
وزیراعظم نے سمیڈا کو ہدایت کی کہ وہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو کاروبار کے لیے قرضوں کے حصول کے طریقہ کار سے آگاہ کرنے کے لیے جامع لائحہ عمل مرتب کرے اور عوام میں کاروباری شعور اجاگر کرنے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے۔ اس کے علاوہ انہوں نے مختلف شعبوں کے لیے فیزیبلٹی اسٹڈیز ماہرین سے تیار کروانے اور انہیں مقامی زبانوں میں دستیاب بنانے کا حکم دیا تاکہ ملک بھر کے افراد ان سے استفادہ کر سکیں۔
اجلاس کے دوران وزیراعظم کو سمیڈا میں جاری اصلاحات اور ایس ایم ای شعبے کی بہتری کے لیے اٹھائے گئے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ سمیڈا کو ایک مرکزی پلیٹ فارم میں تبدیل کیا جا رہا ہے، جو نئے کاروباری افراد کو تربیت اور بینکوں سے مالی معاونت کے حصول میں آسان سہولیات فراہم کرے گا۔ اس مقصد کے لیے ملک بھر میں سمیڈا کے نئے دفاتر بھی قائم کیے جا رہے ہیں۔
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ شہریوں کی سہولت کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی ایک جدید ہیلپ لائن قائم کی جا رہی ہے، جس کے ذریعے لوگوں کو ان کی مقامی زبانوں میں فوری معلومات اور رہنمائی میسر آئے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ ایس ایم ای ڈیجیٹل پورٹل کو مزید آسان اور مؤثر بنانے کے لیے بھی اصلاحات کا سلسلہ جاری ہے۔
بریفنگ کے دوران آگاہ کیا گیا کہ عالمی ای کامرس کمپنی ‘علی بابا’ اور سمیڈا کے درمیان ایک معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں، جس کے تحت اگلے دو سال کے عرصے میں 10 ہزار چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو جدید ای کامرس کی تربیت فراہم کی جائے گی۔
اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں وفاقی وزراء رانا تنویر حسین، جام کمال خان، ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، احد خان چیمہ، عطاء اللہ تارڑ، چوہدری سالک حسین، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، وزیراعظم کے مشیر ہارون اختر، چیئرمین پرائم منسٹر یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان اور دیگر متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔











