اسلام آباد، 12 اکتوبر (اے پی پی): منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات سے متعلق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں سینیٹر قرۃ العین مری کی صدارت میں منعقد ہوا۔
اجلاس میں پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت غیر ملکی فنڈنگ والے ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص رقوم کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جس میں خاص طور پر ”روپیہ کور” (مقامی کرنسی میں درکار فنڈز)، غیر ملکی قرضوں پر انحصار، منصوبوں کی تکمیل کے ٹائم لائنز اور مقامی وسائل کے استعمال پر توجہ مرکوز کی گئی۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ پی ایس ڈی پی 2026-27 میں 98 ایسے منصوبے شامل کیے گئے جن کے لیے غیر ملکی فنڈنگ درکار تھی، ان منصوبوں کی کل تخمینی لاگت 8,099.94 ارب روپے ہے جس میں 4,649.2 ارب روپے کی غیر ملکی معاونت شامل ہے۔ ”روپیہ کور” کے لیے 537 ارب روپے کے مطالبے کے مقابلے میں، اکنامک افیئرز ڈویژن (ای اے ڈی) نے متعلقہ وزارتوں، ڈویژنوں اور امداد دینے والے اداروں سے مشاورت کے بعد 425 ارب روپے کی تجویز دی تھی۔ تاہم، نیشنل اکنامک کونسل (این ای سی) نے 10 جون 2026 کو 2.9 ٹریلین روپے کے مجموعی مطالبے کے مقابلے میں پی ایس ڈی پی 2026-27 کی منظوری دیتے ہوئے، مالیاتی مشکلات اور مقامی فنانسنگ کے حوالے سے حکومتی عزم کے پیشِ نظر ان منصوبوں کے لیے صرف 255 ارب روپے مختص کیے۔
چیئرپرسن نے رواں مالی سال کے دوران مکمل ہونے والے متوقع منصوبوں کے بارے میں وضاحت طلب کی۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ جن منصوبوں میں 80 فیصد سے زائد طبعی (فزیکل) پیش رفت ہو چکی ہے، ان کے اس سال کے دوران مکمل ہونے کی توقع ہے۔ چیئرپرسن نے مقررہ اہداف کے حصول کے لیے مؤثر نگرانی اور بروقت عمل درآمد پر زور دیا۔
اس کے بعد، کمیٹی کی چیئرپرسن نے غیر ملکی قرضوں پر انحصار کی ضرورت کا جائزہ لینے پر زور دیا،خاص طور پر ایسی فنانسنگ جو ڈالر میں ہو اور جس پر سود اور واپسی کی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہوں جبکہ مقامی وسائل اور ”روپیہ کور” کی رقوم دستیاب ہوں۔ چیئرپرسن نے اس بات پر زور دیا کہ غیر ملکی قرضوں کے مالیاتی اثرات کا بغور جائزہ لیا جانا چاہیے اور حکومت کو بیرونی قرضوں پر غیر ضروری انحصار کم کرنے کے لیے مقامی وسائل کے مؤثر استعمال کے امکانات تلاش کرنے چاہئیں۔ کمیٹی نے ایم-1 سے متعلقہ منصوبے کا جائزہ لیا جس میں حکام نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ اس کی تکمیل کا ہدف دسمبر 2026 یا جنوری 2027 مقرر کیا گیا ہے۔ کمیٹی نے مجوزہ ٹائم لائن کی پاسداری اور فنڈز کے بروقت استعمال پر زور دیا۔
کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ غیر ملکی مالی معاونت والے منصوبوں پر عمل درآمد میں تاخیر سے بچنے کے لیے مناسب”روپیہ کور” کو یقینی بنایا جائے، جبکہ شفافیت، احتساب، محتاط مالی انتظام اور امداد دینے والے اداروں کے ساتھ رابطے کو بھی برقرار رکھا جائے۔ کمیٹی نے غیر ملکی امداد اور ملکی مالیاتی استطاعت کے درمیان توازن برقرار رکھنے اور غیر ضروری مالی بوجھ کو کم کرنے پر زور دیا۔
کمیٹی نے ایم-6 سکھر-حیدرآباد موٹر وے منصوبے پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا اور طویل تاخیر پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سیکشن ون اور ٹو پر پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) کے تحت کام کیا جا رہا ہے اور ان کے لیے کنسیشن (ٹھیکہ) دینے کا ہدف فروری 2027 مقرر کیا گیا ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) ان سیکشنز کے لیے ٹرانزیکشن ایڈوائزری کی خدمات فراہم کر رہا ہے، جبکہ بقیہ سیکشنز کے لیے بین الاقوامی ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ مالیاتی انتظامات طے پا چکے ہیں۔
سیکشن IV اور V کے لیے اسلامی ترقیاتی بینک (آئی ایس ڈی بی) کی جانب سے 475 ملین امریکی ڈالر اور سیکشن III کے لیے اوپیک (او پی ای سی) فنڈ کی جانب سے 230 ملین امریکی ڈالر کی مالی معاونت حاصل کر لی گئی ہے۔ سیکشن III اور IV کے لیے بولیاں (بڈز) زیرِ جائزہ ہیں، جبکہ سیکشن V کی بولیاں اکتوبر 2026 میں کھلنے کی توقع ہے۔ سیکشن III، IV اور V کے ٹھیکے بالترتیب نومبر اور دسمبر 2026 تک دیے جانے کی توقع ہے۔
چیئرپرسن نے نشاندہی کی کہ ایم-6 منصوبہ 2017 سے زیرِ غور ہے اور اس کی اسٹریٹجک اہمیت کے باوجود بار بار التویٰ پر سوال اٹھایا۔ سینیٹر افنان اللہ خان نے بھی مسلسل تاخیر اور مقررہ تاریخوں پر کام مکمل نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا اور بروقت عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا۔ کمیٹی نے بولی کے عمل میں غیر ملکی اور مقامی کمپنیوں کی شمولیت پر بات چیت کی اور تاخیر کی وجوہات نیز شکایات کے ازالے کی کمیٹی کے سامنے کارروائی کی صورتحال کے بارے میں وضاحت طلب کی۔
چیئرپرسن نے سنگِ بنیاد رکھنے کے لیے حتمی ٹائم لائن طلب کی اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ مقررہ تاریخوں میں مزید توسیع سے گریز کیا جائے۔ آئندہ سال تینوں متعلقہ سیکشنز کے لیے سنگِ بنیاد رکھنے کی سرگرمیوں کے آغاز سے متعلق سوال کے جواب میں حکام نے کہا کہ اس کا انحصار مطلوبہ منظوریوں اور ضابطہ کارروائیوں کی تکمیل پر ہوگا۔ کمیٹی نے بروقت فیصلوں، شفاف خریداری اور مؤثر باہمی رابطے پر زور دیا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ منصوبہ مزید تاخیر کے بغیر آگے بڑھے۔
اجلاس میں سینیٹرز شہادت اعوان، سعدیہ عباسی، ڈاکٹر افنان اللہ خان اور جام سیف اللہ خان کے علاوہ سیکرٹری پلاننگ اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔











