اسلام آباد، 13 اکتوبر (اے پی پی): وزیر مملکت برائے ریلوے و خزانہ بلال اظہر کیانی نے وزیراعظم کے کیش لیس پاکستان اقدام کے تحت ڈیجیٹل ادائیگیوں سے متعلق پیشرفت کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس کی صدارت کی۔
اجلاس میں کیش لیس پاکستان کے ڈیش بورڈ پر ڈیجیٹل ادائیگیوں سے متعلق اہم اشاریوں کا جائزہ لیا گیا اور آئندہ مرحلے کے لیے لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں سرکاری اور نجی شعبوں کے سینئر نمائندوں نے شرکت کی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران الیکٹرانک ادائیگیاں قبول کرنے والے تاجروں کی تعداد میں چار گنا اضافہ ہوا، جبکہ نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے ملک بھر میں اپنے سروس سینٹرز پر 99 فیصد ادائیگیوں کو ڈیجیٹل بنا دیا ہے۔ پاسپورٹ مراکز پر بھی ڈیجیٹل ادائیگیوں کی سہولت فراہم کی گئی ہے، اسی طرح حکومتی اداروں میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کی قبولیت میں بھی نمایاں پیشرفت ہوئی ہے۔
اجلاس میں ڈیجیٹل ذرائع استعمال کرنے والے فعال اور منفرد صارفین، سالانہ ڈیجیٹل لین دین اور ڈیجیٹل ادائیگیاں قبول کرنے والے فعال تاجروں کی تعداد سمیت اہم اشاریوں پر غور کیا گیا۔ شرکاء نے صارفین اور تاجروں کی سرگرمیوں کی پیمائش کے لیے مختلف تعریفوں کا جائزہ لیا۔ اجلاس میں فعال ایپ صارفین، فعال تاجروں اور منفرد ڈیجیٹل ادائیگی صارفین کی تعریفوں کا تعین کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
وزیر مملکت بلال اظہر کیانی نے نجی شعبے سے تعلق رکھنے والے کمیٹی ارکان کو ہدایت کی کہ کیش لیس پاکستان کے فروغ کے لیے ٹیکس پالیسی میں اصلاحات سے متعلق سفارشات مرتب کرکے جائزے کے لیے پیش کی جائیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کیش لیس پاکستان کے ایجنڈے پر پیشرفت برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے، جس کا مقصد عوام کو سہولت فراہم کرنا، شفافیت کو فروغ دینا اور معیشت کو دستاویزی شکل دینے کے عمل کو تیز کرنا ہے۔
انہوں نے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے دائرہ کار کو وسعت دینے اور مالیاتی شمولیت کو مضبوط بنانے کے لیے ریگولیٹرز، مالیاتی اداروں، فن ٹیک کمپنیوں اور نجی شعبے کے ساتھ قریبی تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔انہوں نے ڈیش بورڈ میں درست اور تصدیق شدہ اعداد و شمار کی شمولیت کو ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے پیشرفت کی شفاف اور قابلِ اعتماد پیمائش ممکن ہوگی۔
اجلاس میں وزارتِ خزانہ، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن، نادرا اور پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کے سینئر نمائندوں سمیت پاکستان بینکس ایسوسی ایشن، ایزی پیسہ ڈیجیٹل بینک، جاز کیش، بینک الفلاح، جے ایس بینک، کرنداز پاکستان اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے شعبے سے وابستہ دیگر اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
وزیر مملکت نے شرکاء کی تجاویز اور تعاون کو سراہتے ہوئے کیش لیس پاکستان اقدام کے اہداف کے حصول کے لیے سرکاری اور نجی شعبوں کے درمیان رابطہ کاری مزید مضبوط بنانے کی ہدایت کی۔











