اسلام آباد، 14 اکتوبر(اے پی پی): وزیرمملکت و چیئرمین پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی بلال بن ثاقب نے عالمی بینک گروپ کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتوں میں پاکستان کے مالیاتی نظام کو جدید بنانے، ڈیجیٹل فنانس کے فروغ اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنے پر تبادلہ خیال کیا۔
بینکاک میں ہونے والی ملاقاتوں کے دوران بلال بن ثاقب نے انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن کے علاقائی نائب صدر عماد فاخوری، عالمی بینک گروپ کے نائب صدر و خزانچی جارج فیمیلیئر، عالمی بینک کے ڈیجیٹل امور و مصنوعی ذہانت کے نائب صدر سانگبو کم اور عالمی بینک گروپ کی نائب صدر و کنٹرولر زنگا وینر سے ملاقاتیں کیں۔
ملاقاتوں میں ڈیجیٹل بانڈز، اسلامی سکوک کی ٹوکنائزیشن، اثاثوں کی ٹوکنائزیشن اور جدید مالیاتی ٹیکنالوجی کے ذریعے پاکستان کی سرمایہ منڈیوں کو مضبوط بنانے کے امکانات پر گفتگو ہوئی۔ اس کے علاوہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے مالیاتی نگرانی بہتر بنانے، ریگولیٹری اداروں کی استعداد بڑھانے اور بلاک چین ٹیکنالوجی کے ذریعے مالیاتی شفافیت کو فروغ دینے کے امور بھی زیر غور آئے۔
بلال بن ثاقب نے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کے ہمراہ بارکلیز کے سرمایہ کاروں کے گول میز اجلاس میں بھی شرکت کی۔
اس موقع پر بلال بن ثاقب نے کہا کہ پاکستان کو صرف جدید مالیاتی ٹیکنالوجی اپنانے تک محدود نہیں رہنا بلکہ مستقبل کے مالیاتی نظام کی تشکیل میں بھی اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید مالیاتی ٹیکنالوجی کے ذریعے پاکستان میں بین الاقوامی سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھولنا ہمارا مقصد ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل بانڈز، اثاثوں کی ٹوکنائزیشن اور مصنوعی ذہانت پر مبنی ضابطہ کاری پاکستان کی معیشت کے لیے نئے مواقع پیدا کر سکتی ہے۔











