پاکستان اور عمان کے درمیان  دوطرفہ تجارت، اقتصادی سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کے فروغ کے وسیع مواقع موجود ہیں، مسلسل رابطے اور مشاورت ضروری ہے،محمد اسحاق ڈار

5

اسلام آباد، 14اکتوبر (اے پی پی): نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان اور عمان کے درمیان  دوطرفہ تجارت، اقتصادی سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کے فروغ کے وسیع مواقع موجود ہیں جن سے استفادے کے لیے مسلسل رابطے اور باقاعدہ مشاورت ضروری ہے، پاکستان اور عمان کو علاقائی امن کے لیے فعال کردار ادا کرنا اور جاری تنازعات کے حل کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنی چاہئیں جبکہ عمان کے وزیر خارجہ سید بدر بن حمد بن حمود البوسعیدی  نے علاقائی سطح پر مذاکرات اور سفارت کاری کے فروغ کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ  خطے میں قیام امن کیلئے پاکستان کی کوششیں قابل تعریف ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے  پاکستان عمان مشترکہ وزارتی کمیشن کے 8ویں اجلاس میں افتتاحی کلمات ادا کرتے ہوئے کیا۔ نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈارنے عمان کے وزیر خارجہ اور ان کے وفد کا پاکستان آمد پر خیرمقدم کیا اور صدرمملکت اور وزیراعظم پاکستان کی جانب سے عمان کے سلطان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان محدود سطح کی ملاقات میں دوطرفہ دلچسپی کے مختلف شعبوں اور عالمی و علاقائی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا،جن میں امریکا ایران جنگ،آبنائے ہرمز،باب المندب، فلسطین،غزہ اور جموں و کشمیر سمیت خطے کے دیگر اہم مسائل شامل ہیں۔

انہوں نے علاقائی امن کے فروغ اور امت مسلمہ کے درمیان امن کے لیے عمان کی قیادت کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان ان کوششوں کا معترف ہے۔ پاکستان اور عمان کو علاقائی امن کے لیے فعال کردار ادا کرنا اور جاری تنازعات کے حل کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنی چاہئیں۔

 انہوں نے کہا کہ خطے میں کشیدگی کے باعث مشکلات واضح ہیں اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں توانائی کی سپلائی چین متاثر ہوئی ہے ۔

 عمانی وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان۔عمان مشترکہ وزارتی کمیشن کا آٹھواں اجلاس دوطرفہ تعاون کو آگے بڑھانے کا ایک اہم ذریعہ ہے، دونوں ممالک کی قیادت نے اجلاسوں کو زیادہ باقاعدگی سے منعقد کرنے کا مشترکہ عزم کیا ہے۔ باہمی ملاقاتوں اور رابطوں میں اضافے سے دونوں ممالک کی قیادت اور عوام کی توقعات کو پورا کرنے کے لیے زیادہ مؤثر پیش رفت ممکن ہوگی۔انہوں نے علاقائی سطح پر مذاکرات اور سفارت کاری کے فروغ کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے وقت میں جب کشیدگی میں اضافے کا خطرہ موجود ہو، رابطوں، مکالمے اور باہمی افہام و تفہیم کو فروغ دینے کی کوششیں قابل قدر ہیں۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ مہینوں کے دوران پاکستان کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہیں، جن سے بالخصوص ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے لیے گنجائش پیدا کرنے میں مدد ملی۔