ملک کا سب سے اہم مسئلہ دہشت گردی ہے لیکن پی ٹی آئی نے کبھی دہشت گردی کی مذمت نہیں ؛ خواجہ محمد آصف

1

اسلام آباد،14اکتوبر  (اے پی پی):وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ ملک کا سب سے اہم مسئلہ دہشت گردی ہے لیکن پی ٹی آئی نے کبھی دہشت گردی کی مذمت نہیں کی کیونکہ ریاست پاکستان ان کی حریف اور افغانستان کے طالبان ان کے حلیف ہیں،دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے والی افواج کو اب یہ یقین ہو گا کہ صوبائی حکومت ان کی پشت پر کھڑی ہے ۔

 بدھ کو قومی اسمبلی میں صوبہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ پر پیش کی گئی قرارداد کے حق میں خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا کہ یہاں پر کئی دہائیوں سے تقاریر میں ایسے معاملات اٹھائے جاتے ہیں جن کی ماضی میں مماثلت نہیں کی جاتی، اس ایوان میں پی ٹی آئی ہمیں اس بات پر آمادہ کرنا چاہ رہی تھی کہ افغانیوں کو کے پی میں کیسے آباد کیا جائے، ابھی نندن کا مسئلہ جب آیا تو ہمیں بلایا گیا کہ ہم نے اس کو واپس کرنا ہے، انہیں اپنا کیس پیش کرنے سے پہلے یہ بات دیکھنی چاہئے کہ ان کی اپنی حرکات  کیا تھیں، اس ایوان میں اور ایوان سے باہر بانی پی ٹی آئی جنرل باجوہ کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے تھے، جب تک قول و فعل میں تضاد رہے گا ملک کے حالات نہیں بدلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اب بات  جیل میں کھانوں کی لسٹ پر پہنچ چکی ہے، جب میں جیل تھا تو شدید سردی میں مجھے کمبل تک نہیں دیا گیا، گیزر لگا تو حکم آیا کہ گیزر اتار لیا جائے۔

وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا کہ انہیں تنقید کرتے ہوئے ماضی کو حذف نہیں کرنا چاہئے، نواز شریف اور مریم نواز جب اڈیالہ جیل میں تھے تو گرمی کا مقابلہ کرنے کیلئے سروں پر کپڑا  گیلا کرکے رکھتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے جیل ہمت سے اس لئے کاٹی ہے کہ میں نواز شریف کا وفادار تھا اور میرے اپنے نظریات تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہم بھی عدالتوں میں جاتے تھےلیکن ہم نے وہ ایشو نہیں بنائے جو یہ لوگ بنا رہے ہیں۔

 وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا کہ ہمارا مسئلہ صرف دہشت گردی کا ہے کہ پہلے تین سالوں میں 2900 واقعات ہوتے ہیں اور گزشتہ سال 3700 واقعات ہوئے، حمزہ شہباز نے سب سے لمبی قید کاٹی، اس کیلئے ہم نے ڈی چوک میں ماتم نہیں کیا، نہ جلوس نکالے۔  انہوں  نے  کہا کہ وزیراعلیٰ کے پی افغانستان میں بیٹھے ہوئے شخص سے ہدایات لیتے تھے، ان کی حریف پاکستان کی ریاست ہے اور حلیف افغانستان کے طالبان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان کی گزشتہ 13 سالوں کی حکمرانی کا موازنہ کیا جائے کہ باقی صوبے کہاں ہیں اور کے پی کہاں پر ہے؟  کے پی میں اپنی اخلاقی برتری کیلئے حکمرانی بہتر کرنی چاہئے تھی لیکن انہوں نے وہاں کا نظام تارتار کر دیا ہے، وزیر داخلہ نے گزشتہ روز سینیٹ میں ہر بات تفصیل سے بتا دی کہ بات چیت کا عمل کس کے کہنے پر ناکام ہوا، اس ایوان میں اتنی ڈھٹائی کے ساتھ یہ نہیں کہنا چاہئے کہ یہ آب زمزم اور دودھ کے دھلے ہوئے ہیں، غلطیاں ہم سب سے ہوئی ہیں لیکن  ایوان میں اسمائے حسنہ کے نیچے کھڑے ہو کر جھوٹ نہیں بولنا چاہئے۔

 وزیر دفاع نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سابق وزیراعظم گھر سے وزیراعظم ہائوس ہیلی کاپٹر پر آتے تھے، ہیلی کاپٹر کو انہوں نے رکشہ بنایا ہوا تھا جس کا ایک دن کا خرچہ 13 لاکھ تھا، جب ایک شخص افغانستان میں بیٹھ کر کے پی حکومت چلا رہا ہو تو پھر ایسا ہی ہوتا ہے، جب آپ اپنی حکومتیں روپوش اور مفروروں کو لیز پر دے دیں گے تو یہی ہوتا ہے، ان کے لیڈر نے کہا کہ وہ سلاخوں کے پیچھے سے ویڈیو بنوائیں  گے دوسرے دن وہ اس بات سے بھی مکر گئے، یہ چاہتے ہیں کہ 9 مئی اور دھرنوں والا 13 سالہ دور واپس آئے اور یہ پارلیمنٹ پر حملہ آور ہوں یہ اب نہیں ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ کے پی میں ہماری افواج جو جنگ لڑ رہی ہیں انہیں اب پتہ ہو گا کہ حکومت ان کی پشت پر کھڑی ہے، انہوں نے کہا کہ  یہ لوگ  کسی شہید کے جنازے پر کبھی نہیں گئے نہ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف مذمتی بیان دیا، یہ اپنا کوئی ایک بیان نکال کر دکھا دیں کہ سکیورٹی اداروں کے ساتھ کبھی یکجہتی کا اظہار کیا ہو۔ خواجہ محمد آصف نے کہا کہ ہم پاکستان کی لڑائی لڑ رہے ہیں، ہمارا سب کے ساتھ محبت کا رشتہ ہے لیکن ہمارا سب سے بڑا اور محترم رشتہ صرف اور صرف پاکستان کے ساتھ ہے۔