اسلام آباد، 22 اکتوبر (اے پی پی): مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو اور خاتونِ اول ساجدہ محمد نے جمعرات کو لوک ورثہ میوزیم اسلام آباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے پاکستان کے متنوع ثقافتی ورثے، علاقائی روایات، مقامی دستکاری اور فنونِ لطیفہ کے تاریخی اثاثوں میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔
لوک ورثہ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر محمد وقاص سلیم اور دیگر حکام نے معزز مہمانوں کا استقبال کیا اور انہیں میوزیم کے مختلف حصوں کا دورہ کرایا۔ اس موقع پر انہیں میوزیم میں محفوظ نوادرات اور ثقافتی اشیا کی تاریخی و ثقافتی اہمیت کے ساتھ ساتھ پاکستان کے لوک اور روایتی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے ادارے کی کاوشوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔
میوزیم کی مختلف گیلریوں کے دورے کے دوران مالدیپ کے صدر اور خاتونِ اول نے پاکستان کے مختلف علاقوں کی منفرد ثقافتی شناخت کی عکاسی کرنے والی اشیا دیکھیں۔ ان میں دیدہ زیب کڑھائی، روایتی ملبوسات، مٹی کے برتن، لکڑی پر نقش و نگاری اور مقامی فنونِ دستکاری کے دیگر نمونے شامل تھے۔
یہ نمائش مقامی ہنرمندوں کی تخلیقی صلاحیتوں اور ان ثقافتی روایات کی عکاسی کرتی ہیں جو ملک بھر کی مختلف برادریوں کی زندگی اور شناخت کا حصہ ہیں۔
معزز مہمانوں نے روایتی طرزِ زندگی، علاقائی رسم و رواج اور نسل در نسل منتقل ہونے والے فنون و ہنر کی نمائندگی کرنے والی اشیا میں خصوصی دلچسپی لی اور پاکستان کے قومی ورثے کی ثقافتی وسعت کا مشاہدہ کیا۔
اس موقع پر محمد وقاص سلیم نے بتایا کہ لوک ورثہ کس طرح ملک کے متنوع ثقافتی اظہار کو دستاویزی شکل دینے اور نمائش کے ذریعے اجاگر کرنے کا فریضہ انجام دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادارے کی کاوشوں کا مقصد روایتی ہنر کو محفوظ بنانا اور مقامی برادریوں کے علم، تجربے اور دستکاری کو آئندہ نسلوں تک منتقل کرنا ہے۔
وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری اور وزیر مملکت برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت وجیہہ قمر بھی اس موقع پر موجود تھیں۔ انہوں نے مالدیپ کے معزز مہمانوں کے ساتھ اس ملاقات میں شرکت کی اور پاکستان کی ثقافتی دولت، قدیم روایات اور مہمان نوازی کے روشن پہلوؤں سے بین الاقوامی شخصیات کو روشناس کرانے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
یہ دورہ پاکستان کے سیاسی اور سفارتی روابط سے ہٹ کر ملک کے زندہ ثقافتی ورثے، علاقائی تنوع اور فنونِ لطیفہ کے تاریخی تسلسل کو نمایاں کرنے کا ذریعہ بنا۔ اس موقع نے پاکستان اور مالدیپ کے درمیان باہمی ثقافتی تفہیم کو فروغ دینے اور عوامی سطح پر روابط مضبوط بنانے میں ثقافتی تبادلے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔











