لاہور،06 نومبر (اے پی پی): وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے سی ایم کرائم سرویلنس یونٹ کا باقاعدہ افتتاح کر دیا، جس کا مقصد صوبے میں جرائم کی روک تھام اور پولیسنگ کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔ یونٹ کے سربراہ عثمان طاہر نے وزیراعلیٰ کو اس کے طریقہ کار اور افعال کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔
نئے ڈیجیٹل نظام کے تحت ضلع، سرکل اور تھانہ کی سطح پر سمارٹ پولیسنگ اور ڈی پی او، ڈی ایس پی اور ایس ایچ او کی کارکردگی کی مانیٹرنگ ممکن ہوگی۔ پنجاب کے ہر تھانے میں جرائم سے متعلق تازہ ترین معلومات ایک کلک پر دستیاب ہوں گی، جبکہ شہریوں کی شکایات اور درخواستوں کے بروقت ازالے کو بھی یقینی بنایا جائے گا اور غیر ضروری تاخیر پر کارروائی کی جا سکے گی۔
کرائم سرویلنس یونٹ میں جرائم کی 20 مختلف کیٹیگریز کا ڈیٹا مرتب کیا جائے گا، جبکہ ماہرین فوری طور پر ڈیٹا کا تجزیہ کرکے رپورٹس تیار کریں گے۔ یونٹ سوشل میڈیا پر قومی سلامتی کے تقاضوں کے مطابق قابلِ توجہ پوسٹس کی نشاندہی بھی کرے گا۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے آئی جی پنجاب پولیس سے پولیس اصلاحات کا پلان طلب کرتے ہوئے پولیس اسٹیشن ریکارڈ مینجمنٹ کے ڈیٹا کا درست استعمال یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے ایف آئی آر کے اندراج میں بلاجواز تاخیر کی شکایات پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور پولیس کے بارے میں منفی پروپیگنڈے پر فوری ردعمل دینے کی ہدایت کی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب کو ہر قسم کے جرائم سے پاک کرنا چاہتے ہیں اور کرائم سرویلنس یونٹ کا قیام جرائم کے خاتمے کی مہم کو مؤثر بنانے کے لیے عمل میں لایا گیا ہے۔ اچھے اور برے لوگ ہر جگہ ہوتے ہیں، تاہم چند افراد کی وجہ سے پوری پولیس فورس کو تنقید کا نشانہ بنانا درست نہیں۔
انہوں نے کہا کہ چند لوگوں کی وجہ سے پولیس کی مجموعی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگانا مناسب نہیں۔ پنجاب میں مؤثر اصلاحات کے نتیجے میں جرائم کی شرح میں کمی کا تاریخی رجحان خوش آئند ہے۔











