اسلام آباد، 06 نومبر (اے پی پی):پاکستان نے مشرق وسطیٰ سمیت خطے میں تنازعات کے پرامن حل کے لیے مکالمے اور سفارت کاری کے ذریعے اپنی کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے ایک مخلص ثالث کی حیثیت سے ہر ممکن سہولت فراہم کی جبکہ خطے میں پائیدار امن کے حصول کے لیے سیاسی مکالمہ اور سفارت کاری ہی مؤثر راستہ ہے۔ افغان طالبان حکومت کے بے بنیاد الزامات اور گمراہ کن اطلاعات نہ تو افغان سرزمین سے سرگرم دہشت گرد نیٹ ورکس کے خطرے کو چھپا سکتی ہیں اور نہ ہی افغان طالبان حکام کو اس ذمہ داری سے بری کر سکتی ہیں کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔ مکہ دفاعی اتحاد کا مقصد کسی مخصوص ملک کے خلاف کارروائی کرنا نہیں، بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ پاکستان آنا چاہیں تو پاکستان انہیں ویزا جاری کرنے پر غور کرے گا تاہم انہیں سفر کی اجازت دینا بھارتی حکومت کا اختیار ہوگا۔
ترجمان دفتر خارجہ سفیر سجاد حیدر خان نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی سے متعلق خدشات کے تناظر میں پاکستان کے علاقائی اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ بڑھتے ہوئے سفارتی روابط کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ایک مخلص ثالث کی حیثیت سے اپنی استعداد کے مطابق ہر ممکن سہولت فراہم کی اور واشنگٹن اور تہران کو تقریباً 47 سال کے طویل عرصے کے بعد براہ راست روابط اور مذاکرات کی میز پر لانے میں کردار ادا کیا جس کے نتیجے میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کے بجائے سیاسی مکالمے اور سفارت کاری کے ذریعے امن کا قیام ضروری ہے اور انہیں امید ہے کہ جاری ثالثی کوششیں بالآخر تنازع کے پرامن حل پر منتج ہوں گی۔ایران کے خلاف دوبارہ فوجی حملوں کے امکان اور جوہری ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق مبینہ دھمکیوں کے بارے میں سوال کے جواب میں سفیر سجاد حیدر خان نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکیاں ایک سنجیدہ معاملہ ہیں تاہم انہوں نے قیاس آرائیوں پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام فریق انتہائی اقدامات پر غور کرنے کے بجائے مذاکرات اور سفارتی روابط کو ترجیح دیں۔
ترجمان دفتر خارجہ نے اسرائیل کے اقدامات کو خطے میں عدم استحکام کا ایک بڑا سبب قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران، فلسطین، شام اور لبنان کے حوالے سے اس کی پالیسیاں بلاجواز اور توسیع پسندانہ ہیں۔ امریکا اور ایران کے درمیان امن عمل کو نقصان پہنچانے والے ممکنہ عوامل سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ اسرائیل بھی ان ممالک میں شامل ہے جن کے اقدامات علاقائی امن کو متاثر کر سکتے ہیں۔کثیرالجہتی سفارت کاری کے حوالے سے ترجمان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی پہلی کمیٹی میں پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اسلحہ کنٹرول، اعتماد سازی اور جوہری ہتھیار نہ رکھنے والی ریاستوں کے لیے سلامتی کی یقین دہانیوں سے متعلق پاکستان کی پیش کردہ تین قراردادیں منظور ہوئیں۔انہوں نے بتایا کہ علاقائی اور ذیلی علاقائی سطح پر روایتی اسلحے کے کنٹرول سے متعلق قرارداد کے حق میں 180 ووٹ آئے جبکہ بھارت اور اسرائیل مخالفت کرنے والے صرف دو ممالک تھے۔ سفیر سجاد حیدر خان نے کہا کہ قرارداد کو حاصل ہونے والی بھرپور حمایت اس عالمی اعتراف کی عکاس ہے کہ علاقائی امن و استحکام کے لیے تحمل، دفاعی صلاحیتوں میں توازن اور مکالمہ ضروری ہیں۔انہوں نے بین الاقوامی اسلحہ کنٹرول کے حوالے سے بھارت اور اسرائیل کے اعلانیہ وعدوں اور علاقائی سطح پر اسلحہ محدود کرنے کے اقدامات کی مخالفت کے درمیان بڑھتے ہوئے تضاد پر تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں جدید روایتی ہتھیاروں کے حصول اور منتقلی سے بحرانوں اور فوجی کشیدگی کے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے، پاکستان تمام ریاستوں کی یکساں اور غیر متاثرہ سلامتی یقینی بنانے کے لیے بلاامتیاز اسلحہ کنٹرول کے اقدامات کی حمایت جاری رکھے گا۔ترجمان نے بتایا کہ 5 نومبر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پاکستان کی جانب سے پیش کردہ صدارتی بیان بھی متفقہ طور پر منظور کیا، جس میں فعال جنگی صورتحال کے دوران سفارت کاری، ثالثی اور رابطوں کے ذرائع برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔پاکستان کے سیکیورٹی خدشات پر بات کرتے ہوئے سفیر سجاد حیدر خان نے افغان طالبان حکومت کی جانب سے پاکستان کی انسداد دہشت گردی کارروائیوں میں شہری ہلاکتوں سے متعلق بے بنیاد الزامات کو دوٹوک انداز میں مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ گمراہ کن اطلاعات نہ تو افغان سرزمین سے سرگرم دہشت گرد نیٹ ورکس کے خطرے کو چھپا سکتی ہیں اور نہ ہی افغان طالبان حکام کو اس ذمہ داری سے بری کر سکتی ہیں کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔
ترجمان نے کہا کہ افغانستان کی سرزمین سے سرگرم دہشت گرد نیٹ ورکس سے منسلک حملوں کے نتیجے میں مجموعی طور پر 3500 سے زائد جانی نقصانات ہوئے جن میں صرف 2026 کے دوران 1400 سے زیادہ شہادتیں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کو اس خطرے سے مسلسل آگاہ کر رہا ہے کیونکہ یہ محض پاکستان ہی نہیں بلکہ افغانستان کے ہمسایہ ممالک اور پوری عالمی برادری کے لیے بھی ایک چیلنج ہے۔ترجمان کے یہ ریمارکس 4 نومبر کو اسلام آباد میں ہونے والے پاکستان برطانیہ انسداد دہشت گردی مذاکرات کے بعد سامنے آئے جن میں دونوں ملکوں نے دوطرفہ اور کثیرالجہتی تعاون کا جائزہ لیا اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ بحری سلامتی کے حوالے سے ترجمان نے ایل این جی بردار جہاز ’’المائدہ‘‘ سے متعلق اطلاعات کی تصدیق کی جو کراچی کے لیے ایل این جی لے کر آ رہا تھا۔ گزشتہ جمعہ کی شب خلیج فارس میں بین الاقوامی پانیوں سے گزرتے ہوئے جہاز کو پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا، جہاز پر مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے 25 ارکان عملہ سوار تھے جن میں پاکستانی بھی شامل ہیں تاہم خوش قسمتی سے واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
انہوں نے بتایا کہ واقعے کے بعد جہاز بحفاظت قطر واپس پہنچ گیا جبکہ پاکستانی حکام مزید تفصیلات معلوم کرنے کے لیے متعلقہ فریقوں سے رابطہ کر رہے ہیں۔ سفیر سجاد حیدر خان نے آبنائے ہرمز اور دیگر اہم بحری راستوں سے محفوظ اور بلا رکاوٹ جہاز رانی کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ مزید کشیدگی روکنے کے لیے سفارتی روابط ناگزیر ہیں۔انہوں نے بتایا کہ 23 اکتوبر کو استنبول میں ہونے والے آر فور وزارتی اجلاس میں پاکستان، ترکیہ، مصر اور سعودی عرب نے بھی اس اہم آبی گزرگاہ سے محفوظ اور بلا رکاوٹ بحری آمدورفت کی بحالی پر زور دیا تھا۔مکہ دفاعی اتحاد کے مقاصد کی وضاحت کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ تین ممالک پر مشتمل یہ انتظام دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد ایران سمیت کسی مخصوص ملک کے خلاف کارروائی کرنا نہیں۔
انہوں نے اتحاد کے نمائندوں کے حالیہ دورہ تہران اور ایرانی حکام سے مشاورت کو علاقائی امن و استحکام کے فروغ کے وسیع تر مقصد کا ثبوت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اتحاد میں توسیع سے متعلق فیصلہ تینوں رکن ممالک باہمی طور پر کریں گے جبکہ اس کا ادارہ جاتی ڈھانچہ ابھی ارتقائی مراحل میں ہے اور اسے مزید باضابطہ شکل دینے کی ضرورت ہے۔پاکستان کے قومی مفادات سے متعلق امور پر بات کرتے ہوئے ترجمان نے بتایا کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے 4 نومبر کو قومی آبی سلامتی کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں اس معاملے کے قانونی، سفارتی اور تکنیکی پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا ۔مذہبی سفارت کاری کے حوالے سے ترجمان نے تمام مذاہب کے زائرین، بالخصوص بھارت سے آنے والے سکھ اور ہندو یاتریوں کو سہولت فراہم کرنے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے 2025 میں بھارتی زائرین کو مجموعی طور پر 9318 ویزے جاری کیے جن میں 9070 سکھ اور 248 ہندو یاتری شامل تھے۔ اس کے علاوہ 2026 کی پہلی ششماہی میں سکھ یاتریوں کو مزید 4,002 ویزے جاری کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ اس ماہ کے آخر میں ننکانہ صاحب میں بابا گورو نانک دیو جی کے 557ویں جنم دن کی تقریبات میں شرکت کے لیے آنے والے عقیدت مندوں کے استقبال کی تیاریاں بھی جاری ہیں۔ترجمان نے 7 مئی 2025 سے بھارت کی جانب سے کرتارپور راہداری کے ذریعے زائرین کی آمدورفت معطل رکھنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان 2019 کے دوطرفہ معاہدے کے تحت ویزا فری یاترا کی سہولت فراہم کرنے کے لیے بدستور تیار ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ راہداری کو روزانہ 5,000 زائرین کی آمدورفت میں سہولت فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا ۔ انہوں نے اس امر پر سوال اٹھایا کہ سکھ یاتریوں کو واہگہ کے راستے آنے کی اجازت دی جا رہی ہے تو انہیں کرتارپور صاحب تک رسائی سے کیوں روکا جا رہا ہے۔سفیر سجاد حیدر خان نے کہا کہ اگر بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ پاکستان آنا چاہیں تو پاکستان انہیں ویزا جاری کرنے پر غور کرے گا تاہم انہیں سفر کی اجازت دینا بھارتی حکومت کا اختیار ہوگا۔
انہوں نے ٹیکسلا اور تخت بھائی سمیت بدھ مت کے تاریخی ورثے کے مقامات کے تحفظ، مذہبی سیاحت کے فروغ اور بین المذاہب روابط کے لیے پاکستان کی کوششوں کو بھی اجاگر کیا۔دوطرفہ سفارتی روابط کے حوالے سے ترجمان نے سنگاپور کے وزیر خارجہ ڈاکٹر ویوین بالاکرشنن کے 30 اکتوبر کے دورہ پاکستان کا ذکر کیا، جو دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 60ویں سالگرہ کے موقع پر ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ اس دورے کے دوران دونوں ملکوں نے تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، بنیادی ڈھانچے، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مالیاتی ٹیکنالوجی، سائبر سیکیورٹی اور موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت پیدا کرنے کے شعبوں میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر قدرتی آفات سے نمٹنے کے شعبے میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت کا تبادلہ بھی کیا گیا۔ ترجمان نے چین کی کمیونسٹ پارٹی کی سینٹرل کمیٹی کے بین الاقوامی شعبہ (آئی ڈی سی پی سی) کے وزیرلیو ہائی شنگ کے دورے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس دورے سے پاکستان اور چین کے درمیان ہر موسم کی آزمودہ تزویراتی تعاون پر مبنی شراکت داری کے اہم ستون کے طور پر جماعتی سطح پر روابط کی اہمیت مزید اجاگر ہوئی۔
انہوں نے آسیان، یورپی یونین، عرب ممالک اور دیگر عالمی شراکت داروں کے ساتھ پاکستان کے مسلسل روابط کا بھی ذکر کیا۔اقتصادی سفارت کاری کے تحت دفتر خارجہ نے اسلام آباد میں مقیم سفارت کاروں کو پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم 2026 کے انعقاد کے حوالے سے بریفنگ بھی دی، جس کا مقصد ملک کے معدنیاتی شعبے میں بین الاقوامی شرکت اور سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔امریکی انتخابات کے بعد ڈیموکریٹک پارٹی کے ساتھ پاکستان کے مستقبل کے روابط سے متعلق سوال کے جواب میں سفیر سجاد حیدر خان نے کہا کہ پاکستان اقتدار میں آنے والی سیاسی جماعت سے قطع نظر امریکا کی ہر آنے والی انتظامیہ کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھتا ہے۔ انہوں نے امریکا کو تجارت، سرمایہ کاری، سلامتی، انسداد دہشت گردی اور معدنیات کی ترقی کے شعبوں میں پاکستان کا اہم شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔
ترجمان نے تصدیق کی کہ پاکستان کو بھارت کی جانب سے 20 سے 22 نومبر تک نئی دہلی میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم کے ثقافتی و تہذیبی مکالمے میں شرکت کی دعوت موصول ہوئی ہے،اس حوالے سے فیصلہ پاکستان کی قیادت ادارہ جاتی مشاورت اور طے شدہ ضابطہ کار کے مطابق کرے گی۔انہوں نے بتایا کہ ای سی او وزرائے داخلہ کا اجلاس، جو پہلے 29 اور 30 اکتوبر کو منعقد ہونا تھا، علاقائی جغرافیائی و سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال کے باعث ملتوی کر دیا گیا ہے، جبکہ اجلاس کی نئی تاریخوں کا ابھی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔بریفنگ کے اختتام پر سفیر سجاد حیدر خان نے کہا کہ پاکستان کی سفارتی ترجیحات علاقائی امن، تعمیری روابط، دوطرفہ شراکت داریوں کے فروغ، کثیرالجہتی تعاون اور بین الاقوامی قانون کے احترام پر مرکوز ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ علاقائی تنازعات کے حل اور مزید کشیدگی کی روک تھام کے لیے مکالمہ، ثالثی اور سفارت کاری ہی سب سے قابل عمل راستہ ہیں۔











