شاہ محمود قریشی کا میونخ میں عالمی سیکورٹی کانفرنس کے افغانستان سے متعلق خصوصی سیشن سے خطاب

60

میونخ ( جرمنی)، 15 فروری (اے پی پی): وفاقی وزیر  خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے میونخ میں جاری عالمی سیکورٹی کانفرنس کے افغانستان سے متعلق خصوصی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان عرصہ دراز سے   کہتا چلا آ رہا ہے کہ افغانستان کے مسئلے کو طاقت کےذریعے حل نہیں کیا جا سکتا۔افغانستان کے مسئلے کا واحد شعوری حل مذاکرات کے ذریعے سیاسی حل تلاش کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں خوشی ہے کہ ہمارے نقطہ ء نظر کو تسلیم کیا گیا ہے، آج ہم ایک دوسرے کے ساتھ گفتگو کے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔افغانستان کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے وزارت خارجہ کا منصب سنبھالنے کے بعد سب سے پہلا دورہ افغانستان کا کیا.۔

وزیر خارجہ نے کہاکہ افغانستان ہمارا ایسا اہم ہمسایہ ملک ہے جس کے ساتھ ہمارا مستقبل وابستہ ہے ،افغانستان میں امن و استحکام پاکستان کے وسیع تر مفاد میں ہے۔افغانستان اور امریکہ کے دوستوں کی ہم سے دو توقعات تھیں۔ پہلی یہ کہ پاکستان اپنا ممکنہ اثر و رسوخ استعمال کر کے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لائے اور ہمیں اس میں کامیابی حاصل ہوئی۔ آج طالبان مذاکرات کی میز پر ہیں اور مذاکرات کر رہے ہیں اگرچہ ابھی بہت سا کام باقی ہے ،لیکن اس میں پیش رفت ہو رہی ہے۔ایمبیسڈر ظلمے خلیل زاد نے ہماری کاوشوں کو سراہا اور  صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی سٹیٹ آف یونین کے خطاب میں ہماری کاوشوں کو تسلیم کیا۔دوسری توقع ہم سے یہ تھی کہ ہم ایک ایسا وفد تشکیل دیں جس کے پاس مذاکرات کرنے کا اختیار ہو چنانچہ با اختیار وفد تشکیل پایا  جس کے ابوظہبی اور دوحہ میں مذاکرات ہوئے،  مذاکرات کا اگلا دور اسلام آباد میں متوقع ہے اور اس کے بعد 25 تاریخ کو دوبارہ دوحہ میں نشست ہو گی۔

اے پی پی/حمزہ/فاروق

سورس: وی این ایس، میونخ