ہر پاکستانی کے سر پر اپنی چھت ہمارا خواب ہے،پاکستان کو مدینہ کی ریاست بنانا ایک بڑا خواب تھا جس کے لیے کوشاں ہیں: عمران خان

423

رینالہ خورد ، 4 0مئی (اے پی پی): وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہر پاکستانی کے سر پر اپنی چھت ہمارا خواب ہے، کچی آبادیوں کی جگہ جدید ٹیکنالوجی کی حامل کثیرالمنزلہ عمارتیں بنائیں گے جہاں مکمل بنیادی سہولیات دستیاب ہوں گی، نیا پاکستان ہاﺅسنگ منصوبہ سے 40 صنعتوں کو فروغ حاصل ہو گا، پورے پاکستان میں یہ ہاﺅسنگ منصوبے شروع کئے جا رہے ہیں جس سے شرح نمو میں اضافہ ہو گا اور خوشحالی آئے گی، نوجوانوں کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے اور تنخواہ دار طبقہ کو مارگیج کے ذریعے ان کے اپنے گھر کا خواب شرمندہ تعبیر ہو گا، اللہ اس معاشرہ کو عزت دیتا ہے جو اس کے حبیب ﷺکے راستے پر چلتا ہے، پاکستان کو مدینہ کی ریاست کے اصولوں پر کھڑا کیے جانے کا ایک بڑا خواب تھا جس کے لیے کوشاں ہیں۔

 وہ ہفتہ کو رینالہ خورد میں نیا پاکستان ہاﺅسنگ منصوبہ کے سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ تقریب سے صوبائی وزیر برائے ہاﺅسنگ میاں محمود الرشید نے بھی خطاب کیا۔ وزیراعظم نے رینالہ خورد میں نیا پاکستان ہاﺅسنگ سکیم کا سنگ بنیاد رکھا۔ وزیراعظم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کو پورا کریڈٹ دیتا ہوں کہ ان کی ٹیم نے بھرپور طریقہ سے پانچ سال میں 50 لاکھ گھروں کی تعمیر کی ہماری ہاﺅسنگ پالیسی میں بھرپور حصہ ڈالا اس پر انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر ہاﺅسنگ میاں محمودالرشید نے کہا کہ یہ کام مشکل ہے تو اگر یہ مشکل نہ ہوتا تو گذشتہ دس سال میں حکومت کرنے والے یہ کام کر چکے ہوتے، انشاءاللہ تمام مشکل کام ہماری حکومت کرے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ جس معاشرہ کے اندر جب تک احساس نہیں ہوتا وہ معاشرہ کبھی دنیا کی تاریخ میں آگے نہیں بڑھا، یورپ میں احساس نظر آئے گا وہ کمزور طبقہ کیلئے فکر مند رہتے ہیں، گھر سے تعلیم اور انصاف دلوانے کی ذمہ داری وہ ریاستیں لیتی ہیں وہاں پر غریب آدمی کو حکومت قانون معاونت دیتی ہے، غریبوں کیلئے روٹی کا بندوبست کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپ میں اس وقت جو نظام ہے وہ سرکار مدینہ نے ریاست مدینہ میں متعارف کرایا اور فلاحی ریاست مدینہ کی تشکیل کی بنیاد پر ایک ہزار سال تک مسلم دنیا کی امامت کا ذریعہ بنی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست مدینہ نے روم اور فارس کی سلطنتوں کی موجودگی میں غریب ریاست ہونے کے باوجود ثابت کیا کہ کمزور طبقہ کی مدد اور ذمہ داری ادا کرنے پر اللہ کی طرف سے مدد ہوتی ہے، کمزور طبقہ کو اوپر اٹھانے پر اللہ نے ریاست مدینہ کو اوپر اٹھا لیا۔ انہوں نے کہا کہ سویڈن، ناروے ڈنمارک میں نظام دیکھیں تو معلوم ہو گا کہ مدینہ کی فلاحی ریاست کے نظام سے انہوں نے یہ نظام لیا ہے جہاں جانوروں کا بھی خیال رکھا جاتا ہے، یہ انسانیت کا نظام ہمارا تھا۔ وزیراعظم نے کہا کہ اللہ اس معاشرہ کو عزت دیتا ہے جو اس کے حبیب ﷺکے راستے پر چلتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو مدینہ کی ریاست کے اصولوں پر کھڑا کیا جانے کا ایک بڑا خواب تھا، ہم اب یہ کوشش کریں گے معاشی صورتحال خراب ہونے کے باوجود ہم یہ 50 لاکھ گھر بنائیں گے، اس حوالہ سے ہم نے پہلے مرحلہ میں قوانین بدلے ہیں، بینکوں کے قوانین میں تبدیلی لائی ہے، سارے پاکستان میں اب یہ ہاﺅسنگ منصوبے شروع کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہاﺅسنگ منصوبہ نجی شعبہ کے تعاون سے پایہ تکمیل کو پہنچایا جائے گا اس سے نوجوانوں کو روزگار کے بڑے مواقع میسر آئیں گے، وہ چھوٹی کمپنیاں بنا کر ان منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں کردار ادا کریں گے، اس کے علاوہ ہاﺅسنگ کے منصوبوں سے 40 صنعتوں کو فروغ ملے گا، شرح نمو میں اضافہ ہو گا، خوشحالی آئے گی۔

وزیراعظم نے اس موقع پر کہا کہ کچی آبادیوں کے حالات انتہائی خراب ہیں، اس کے لئے پروگرام شروع کر رہے ہیں یہاں چین کی مدد سے جدید ٹیکنالوجی سے کثیرالمنزلہ عمارتیں تعمیر کی جائیں گی جن میں بنیادی سہولیات باہم پہنچائی جائیں گی۔ چین نے اسی ٹیکنالوجی کی بدولت گوادر میں 6 ماہ میں دو منصوبے مکمل کئے، اگر ان منصوبوں میں یہ جدید ٹیکنالوجی استعمال نہ کی جاتی تو یہ منصوبے دو سال میں مکمل ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ممالک سے سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے دلچسپی لے رہے ہیں ان میں سہولت کیلئے سرمایہ کاری بورڈ میں ڈیسک بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہاﺅسنگ کا کام سالانہ بنیادوں پر زور پکڑے گا اب ہم اس کام کیلئے مکمل تیار ہیں، نیا پاکستان ہاﺅسنگ اتھارٹی بن چکی ہے۔ اس سے ہاﺅسنگ سیکٹر اٹھنا شروع ہو گا جو لوگ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ وہ اپنی تنخواہوں میں اپنا گھر بنا سکیں گے انہیں اب یہ موقع میسر آئے گا۔

 وی این ایس، رینالہ خورد