اسلام آباد، جون (اے پی پی ): رکن قومی اسمبلی علی محمد خان نے ایوان میں مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ پر بحث میں حصہ لیا اور حکومتی معاشی پالیسیوں پر تفصیلی اظہار خیال کیا۔بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے علی محمد خان نے کہا کہ ملک کو اس وقت معاشی استحکام اور عوامی ریلیف کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے بجٹ میں رکھے گئے اہداف اور مختص رقم کا جائزہ لیتے ہوئے مختلف شعبوں سے متعلق تجاویز پیش کیں۔
علی محمد خان نے کہا کہ 18,771 ارب روپے کے مجموعی حجم والے بجٹ میں عوام کو براہ راست ریلیف دینے کے لیے مزید اقدامات کیے جانے چاہئیں۔ انہوں نے تنخواہ دار طبقے، کسانوں اور نوجوانوں کے لیے خصوصی مراعات پر زور دیا۔ان کا کہنا تھا کہ دفاع، تعلیم، صحت اور زراعت کے شعبوں کو ترجیح دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ علی محمد خان نے بی آئی ایس پی کے تحت مستحق خاندانوں کی کوریج بڑھانے کے اقدام کو سراہا اور کہا کہ کفالت پروگرام کو 1 کروڑ 20 لاکھ خاندانوں تک توسیع خوش آئند ہے۔
ایم این اے علی محمد خان نے ایف بی آر کے 15,264 ارب روپے کے ٹیکس ہدف پر بات کرتے ہوئے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے اور ٹیکس نظام کو آسان بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے پی ایس ڈی پی کے لیے مختص ایک ہزار ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ میں پسماندہ علاقوں، خصوصاً کے پی کے ضم شدہ اضلاع کے لیے فنڈز کے مؤثر استعمال کا مطالبہ کیا۔
علی محمد خان نے کہا کہ 4 فیصد جی ڈی پی گروتھ کا ہدف حاصل کرنے کے لیے صنعتی اور زرعی شعبے کو سہولیات دینا ہوں گی۔ انہوں نے ایکسپورٹ ری فنانس اسکیم کے لیے 88 ارب روپے مختص کرنے کے حکومتی فیصلے کی حمایت کی۔قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث جاری ہے اور مختلف اراکین اپنی تجاویز پیش کر رہے ہیں۔











