قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث مکمل،وزیر مملکت برائے خزانہ حماد اظہر نے بجٹ  پر بحث سمیٹی

336

اسلام آباد، جون25 ( اے پی پی): قومی اسمبلی اجلاس میں وزیر مملکت خزانہ حماد اظہر نے  بجٹ پر بحث سمیٹ دی ۔ سینٹ کی پیش کی گئیں سفارشات میں سے اکثر قبول کرلی گئیں۔  حماد اظہر بولے دس سال کاکام دس ماہ میں کردیا، ساڑھے پانچ کروڑ لوگوں کا ڈیٹا اکٹھا کرلیا جن میں ایک لاکھ باون ہزار آف شور کمپنیوں کا ہے۔ ٹیکس اکٹھا کرنے کے لئےگھروں پر چھاپے مارنے کااختیار واپس لے لیا ہے۔ پچاس ہزار تک کی خریداری پر شناختی کارڈ کی شرط ختم کردی گئی۔ گھی آٹے  پر نہیں البتہ چینی پر ٹیکس بڑھایا گیا ہے،ٹیکس جمع کرانے کے لئے اب وکلا کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ موبائل ایپ کے ذریعے جمع کرائے جاسکیں گے۔حکومت نے نان  ریذیڈنٹ کی معیاد ساٹھ روز سے بڑھا کر 120 دن کردیاہے،کئی لوگ چند دن کےلیے ملک سے باہر جاکر ٹیکس بچاتے تھے اب ایسا نہیں کرسکیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ انکم ٹیکس کمشنر سے گھروں پر چھاپے مارنے کے اختیارات واپس لے لئے ہیں ۔ ہم چادر اور چار دیواری کے قائل ہیں، حکومت و اپوزیشن کی تجاویز کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ ٹیکس کے نظام کو آسان بنانے کیلئے موبائل ایپ بنایا جائے گا۔ایک عام شخص بغیر وکیل کے ٹیکس ریٹرن فائل کر سکے گا۔تمباکو پر 300 روپے فی کلو ڈیوٹی کم کرکے 10 روپے فی کلو کردی گئی ۔سگریٹ کی سلیب ایک پر 14 روپے اور سلیب دو پر 8 روپے اضافی ٹیکس عائد کیا ہے۔ حماد اظہر نے کہا کہ سگریٹ سے جو اضافی ٹیکس وصول ہوگا اسے صحت عامہ پر خرچ کرینگے۔آن لائن کپڑے چمڑے پر ٹیکس 16 فیصد سے کم کرکے 14 فیصد کردیا گیا ہے۔ شپ یارڈ پر ٹیکس کم کردیا گیا ہے تاکہ اس صنعت کو فروغ دیا جا سکے اور درآمد شدہ گاڑیوں پر بھی ایف ای ڈی لگا دی گئی ہے۔ملکی معشیت کے لیے سخت فیصلہ کرنا پڑینگے ۔ اگر قائد حزب اختلاف سنجیدہ ہونگے تو چارٹر آف اکانومی کے لیے تیار ہیں۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ نئے پاکستان میں معاشی ترقی خسارے کی بیناد پر نہیں ہو گی بلکہ نئے پاکستان میں معاشی ترقی صنعت کاری کی بنیادی پر ہو گی۔ بجٹ ڈیوٹی کے دوران  قومی اسمبلی اور سینیٹ سٹاف کو تین بنیادی تنخواہیں ادا کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔اس سے پہلے ڈپٹی اسپیکر نے ایوان کو آگاہ کیا کہ وفاقی بجٹ پر بحث مکمل ہوگئی، بجٹ  پر 55 گھنٹے تک بحث کی گئی۔ بجٹ بحث میں کل 224 ارکان نے حصہ لیا۔

سینٹ کا مالیاتی بل 2019 پر سفارشات قومی اسمبلی میں پیش کردی گئیں۔سینٹ کی سفارشات وفاقی وزیر پارلیمانی امور سینیٹر اعظم سواتی نے پیش کیں ۔ 171 میں سے 154 سفارشات قومی اسمبلی کو بھجوائی گئی تھیں

17 سفارشات کو سینٹ نے خود مسترد کر دیا تھا۔قومی اسمبلی  نے سینیٹ کی بجٹ سفارشات کا جائزہ لیا ہے۔

گریڈ 17 تک کے وفاقی ملازمین کے لئے 10% فیصد ایڈہاک ریلیف دینے کی سفارش کی گئی۔گریڈ ایک سے16 تک کے ملازمین کے لئے 20% ایڈہاک ریلیف دینے کی سفارش۔حج ،عشر اور زکوٰۃ سے متعلق فنڈز کا استعمال شریعت کے مطابق بنانے کی سفارش۔ بلوچستان کے ٹیکس دہندگان کے لئے ودہولڈنگ ٹیکس کی چھوٹ کی سفارش ۔تنخواہ اور پنیشن کی مد میں 15% اضافے کی تجویز،سفارش۔حویلیاں سے ایبٹ آباد تک سڑک کی توسیع کے لیے این ایچ اے کو ہدایات دینے کی سفارش ۔ گوادر ایئرپورٹ کو جلد از جلد مکمل کرنے کی سفارش ۔ کے پی کے، گلگت بلتستان کے علاقوں میں چھوٹے چھوٹے ہیڈل منصوبوں کی تجویز بھی سفارشات میں شامل ۔ چھوٹی گاڑیوں پر ایکسائز ڈیوٹی کے خاتمے کی تجویز ۔ حکومت کو غیر ترقیاتی اخراجات کم کرنے کی سفارش۔ سیلز ٹیکس 18%کی بجائے 17% کرنے کی تجویز۔چینی، انڈوں، کوکنگ آئل، گھی، گوشت اور دالوں کی قیمتوں کو اعتدال پر لانے کی سفارش۔ گریڈ ایک سے سولہ تک کے تمام سرکاری ملازمین کو انکم ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دینے کی تجویز کی گئی۔

وزیر مملکت  برائے خزانہ حماد اظہر نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے معیشت میں ڈھانچہ جاتی خامیوں کو دور کرنے کیلئے سنجیدہ اقدامات کئے ہیں جن کو سابق حکومتوں نے حل نہیں کیا۔

منگل کی رات قومی اسمبلی میں مالیاتی بل 20-2019پر بحث سمیٹتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارے بعد آزاد ہونے والے ممالک نے تیزی سے ترقی کی۔وزیر مملکت نے کہا کہ گزشتہ دوسال کے دوران سیاسی مفادات کیلئے معاشی استحکام کو داؤ پر لگا دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس کے شعبہ کو 150ارب روپے کے نقصان کا سامنا ہے جبکہ گردشی قرضہ 453ارب روپے تک پہنچ گیا جو 1100ارب روپے سے زائد بڑھ گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ سرکاری اداروں کا خسارہ 423ارب 50کروڑ روپے تک پہنچ گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ جب ہم نے اقتدار سنبھالا تو غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر صرف 6ارب ڈالر تھے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کی حکومت نے حسابات جاریہ کے خسارہ میں اضافہ اور معیشت کو تباہ کیا۔ سابقہ حکومت نے ایک سال کے دوران زرمبادلہ کے ذخائر کو 19ارب ڈالر سے 9ارب ڈالر پر لے آئی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ بحث میں 2300ارب روپے کا خسارہ چھوڑا گیا۔

وی این ایس، اسلام آباد